گھر تو آخر اپنا ہے
تحریر۔۔۔ناز پروین
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ گھر تو آخر اپنا ہے ۔۔۔ تحریر۔۔۔ناز پروین )اگست کا مہینہ شروع ہوتے ہی در و دیوار سبز ہلالی پرچموں سے سجنا شروع ہو جاتے ہیں ۔۔جگہ جگہ سٹال سج جاتے ہیں جس میں ہرے رنگ کے کپڑے بیج جھنڈے ہیٹ ہر چھوٹے بڑے کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں ۔۔ گاڑیوں ،موٹر سائیکلوں پر سبز ہلالی پرچم لگا لیا جاتا ہے۔غریب رکشے والے اپنے رکشوں کو بڑے بڑے جھنڈوں سے سجا لیتے ہیں ۔خود اپنے گھر میں جہاں بچے ماشاءاللہ اب جوان ہو کر اپنے پاؤں پر کھڑے ہیں لیکن اب بھی جشن آزادی اسی جوش اور جذبے کے ساتھ مناتے ہیں ۔۔جشن آزادی کی اتنی خوشی آخر کیوں۔یوم آزادی کے دن ہر چھوٹے بڑے شہر میں ریلیاں نکلتی ہیں جن میں مرد وخواتین بزرگ بچے سبھی جوش وخروش سے حصہ لیتے ہیں ۔ننھے بچے اپنے چہروں پر سبز ہلالی پرچم پینٹ کرواتے ہیں۔۔اور اب تو پرچم کے ڈیزائن والے کیک بہت مقبول ہیں ۔
تاریخ گواہ ہے کہ آزادی ہمیں آسانی سے حاصل نہیں ہوئی۔ لاکھوں لوگوں نے اپنے خون سے اس سرزمین کو سینچا، لاکھوں ماؤں نے اپنے بیٹے قربان کیے، بے شمار خاندانوں نے ہجرت، دکھ اور جدائی کی اذیتیں برداشت کیں تاکہ آنے والی نسلیں آزاد فضا میں سانس لے سکیں۔ آج ہمارا فرض ہے کہ ہم ان قربانیوں کو کبھی فراموش نہ کریں۔
ہم لائے ہیں طوفان سے کشتی نکال کے
اس ملک کو رکھنا میرے بچو سنبھال کے
۔ہمیں آزادی حاصل کیے 79 سال ہو چکے ہیں ۔۔اس عرصے میں کیا کھویا کیا پایا ۔۔یہ سوال بڑا دلگیر ہے ۔۔لاکھوں جانوں کی قربانی کے عوض حاصل ہونے والے اس وطن کو ابتداء ہی سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔۔اس وقت لوگوں کا جذبہ جوان تھا ۔مہاجرین کو دل کھول کر خوش آمدید کہا گیا ۔۔ان کی آبادکاری کی گئی ۔قائداعظم کی ناگہانی وفات اور لیاقت علی خان کے قتل کے بعد ملک ایسی آندھیوں میں گھرا کہ اب تک اس کے اندھیرے چھائے ہیں ۔۔سیاسی بساط پر رسہ کشی کی شرمناک داستانیں رقم ہوئیں اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔جمہوریت پر متعدد بار شب خون مارا گیا ۔ہمارے حکمرانوں کی کوتاہ بینیوں اور زیادتیوں کے نتیجے میں سانحہ مشرقی پاکستان رونما ہوا اور ہمارا مشرقی بازو کٹ گیا ۔۔مسئلہ کشمیر انڈیا کے ساتھ تین جنگوں کے بعد بھی حل طلب ہے ۔بدقسمتی سے جو بھی عنان حکومت سنبھالتا ہے وہ ذاتی مفاد کے لیے کام کرتا ہے ۔ادارے کمزور سے کمزور تر جبکہ شخصیات مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جا رہی ہیں ۔۔ہم سے دو سال کے بعد آزاد ہونے والے ملک چین نے بے مثال ترقی کرتے ہوئے اس وقت پوری دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال رکھا ہے ۔۔جبکہ پاکستان میں اس وقت چالیس فی صد لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔۔۔یعنی ہر سو میں سے چالیس لوگ شدید غربت کا شکار ہیں .مہنگائی بدامنی کے ستائے عوام اچھے دنوں کی راہ تک رہے ہیں ۔پاکستان اس وقت دہشت گردی اور بدامنی کے حوالے سے پہلے نمبر پر ہے ۔۔بے روزگاری نے نئی نسل کو مجبور کردیا ہے کہ اپنا وطن چھوڑ کر دوسرے ملکوں کی راہ لیں
۔۔ان سب عوامل کے باوجود وہ کون سا جذبہ ہے جو ہزاروں میل دور ہونے کے باوجود ہمیں اپنے وطن کے لیے تڑپنے پر مجبور کردیتا ہے ۔۔ناروے اوسلو میں کچھ عزیزوں کے گھر ٹھہرنے کا موقع ملا جو پاکستان سے ہجرت کر کے وہاں جا بسے تھے ۔۔ان کے بچے کہنے لگے کہ یہ ہر وقت ٹی وی پر پاکستانی نیوز چینل دیکھتے رہتے ہیں جبکہ اوسلو میں کیا ہو رہا ہے اس سے ان کو کوئی سروکار نہیں ۔۔میں نے ان بچوں کو کہا کہ آپ کے والدین کی مٹی میں پاکستان کا خمیر رچا ہے ۔ان کا بچپن ، حسین یادیں پاکستان سے وابستہ ہیں ۔۔۔یہ اپنے وطن کو نہیں بھول سکتے ۔۔امریکہ بنگ ہیمپٹن میں مقیم عتیق صدیقی صاحب کے ہاں کچھ دن اپنی فیملی کے ساتھ ٹھہرنے کا موقع ملا۔۔۔حق میزبانی ادا کرتے ہوئے خوب گھمایا پھرایا۔۔۔قریبی پہاڑی مقام پر لے گئے ۔۔۔سر سبز جنگل ،ٹھنڈی ہوا ، خوب صورت نظارے ۔۔سیر کراتے ہوئے بولے یہ مقام بہت خوب صورت ہے لیکن اپنی نتھیا گلی کی کیا بات ہے ۔۔۔استاد محترم ناصر علی سید کچھ عرصہ ہوا نصف سال سے زائد امریکہ کینیڈا میں مقیم اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں ۔۔لیکن اس دوران ان کی تحریروں میں وطن کی یاد رچی بسی رہتی ہے ۔
راستے رزق کشادہ کے بہت ہیں ناصر
کوئی اس شہر پشاور سے جدا کیسے ہو
ہزاروں میل دور، مگر دل وطن کے ساتھ۔۔
وطن صرف زمین کا ایک ٹکڑا نہیں ہوتا بلکہ یہ انسان کی پہچان، اس کی شناخت، اس کی یادوں اور اس کے جذبات کا سب سے خوبصورت استعارہ ہوتا ہے۔ انسان چاہے دنیا کے کسی بھی کونے میں جا بسے، کتنی ہی آسائشیں حاصل کر لے، کتنی ہی کامیابیاں سمیٹ لے، لیکن اپنے وطن کی مٹی کی خوشبو، اپنے شہر کی گلیاں، اپنے لوگوں کی محبت اور اپنی دھرتی کی یاد کبھی اس کے دل سے محو نہیں ہوتی۔
یہ مٹی عجیب کشش رکھتی ہے۔ اسی مٹی میں انسان نے پہلا قدم رکھا، اسی فضا میں پہلی سانس لی، اسی سرزمین نے اسے شناخت دی۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی اپنے وطن سے ہزاروں میل دور بھی ہو، تو قومی پرچم لہراتا دیکھ کر اس کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں، قومی ترانہ سنتے ہی دل فخر سے بھر جاتا ہے، اور یومِ آزادی یا قومی تہواروں پر اس کا جذبۂ حب الوطنی پہلے سے بھی زیادہ شدت اختیار کر لیتا ہے۔
وطن سے محبت کسی سرحد کی محتاج نہیں ہوتی۔ یہ وہ جذبہ ہے جو دلوں میں بستا ہے۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی اس حقیقت کی روشن مثال ہیں۔ وہ جہاں بھی رہتے ہیں، اپنی زبان، اپنی ثقافت، اپنی روایات اور اپنے قومی تشخص کو زندہ رکھتے ہیں۔ وہ اپنے بچوں کو پاکستان سے محبت کا سبق دیتے ہیں، قومی دن مناتے ہیں، سبز ہلالی پرچم لہراتے ہیں اور دنیا کو بتاتے ہیں کہ ان کی جڑیں اسی سرزمین میں پیوست ہیں۔
۔ہمارے سفارت خانوں میں یوم آزادی کی تقریبات منائی جاتی ہیں ۔۔ کچھ سال پہلے ٹائمز اسکوائر نیو یارک میں 14اگست کو بچوں کے ساتھ موجود تھے جسے جشن آزادی پاکستان کی مناسبت سے ہرے سفید رنگ کی روشنیوں سے سجایا گیا تھا۔پاکستانیوں کی بڑی تعداد وہاں موجود تھی جو اپنے جشن آزادی کو منا رہے تھے امریکہ جاپان سمیت دنیا کے متعدد ملکوں میں جشن آزادی کے موقع پر پاکستان ڈے پریڈ منعقد کی جاتی ہے جس کے شرکاء قومی لباس زیب تن کرکے فخر سے سبز ہلالی پرچم لہراتے ہیں ۔ ۔۔آخر یہ کون سا جذبہ ہے جو انہیں وطن کے لیے تڑپنے پر مجبور کرتا ہے ۔
وطن کی محبت صرف نعروں کا نام نہیں بلکہ اس کی اصل روح خدمت، دیانت، اخلاص اور قربانی میں پوشیدہ ہے۔ جو شخص اپنے وطن کی ترقی کے لیے ایمانداری سے کام کرتا ہے، قانون کا احترام کرتا ہے، دوسروں کے حقوق کا خیال رکھتا ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے بہتر معاشرہ چھوڑنے کی کوشش کرتا ہے، درحقیقت وہی سچا محبِ وطن ہے۔
یہ وطن ہمارا ہے ۔۔مہنگائی بے روزگاری بدامنی کے باوجود ہم مایوس نہیں ہیں ۔۔انشااللہ ہمارا ملک بھی ترقی کرے گا ۔۔خوشحالی کی فضائیں یہاں بھی طاری ہوں گی ۔۔امن کا راج ہوگا ۔۔ہر پاکستانی خوش اور مطمئن ہوگا انشااللہ ۔
مَوج بَڑھے یا آندھی آئے دِیا جَلائے رَکھنا ہے
گَھر کی خاطِر سو دُکھ جھیلیں گَھر تو آخر اپنا ہے ۔
نازپروین معروف کالم نگار اور پشاور میں قائم چینی ثقافتی مرکز چائنہ ونڈو کی ڈائیرکٹر ہیں.
📧 nazpervin@hotmail.com
![]()

