عبدالرحمن بن عوف: مٹی سے سونا بنانے والا تاجرِ مدینہ
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )جزیرہ نما عرب کی تپتی ہوئی ریت، سنگلاخ چٹانیں اور افق تک پھیلا ہوا لامتناہی سکوت گواہ تھا کہ مکہ کی وادی اب ایک عظیم تاریخی تبدیلی کے دہانے پر کھڑی ہے۔ ہجرتِ مدینہ کا وہ وقت، جب مکہ کے سنگین پہاڑ، ابوقبیس اور قعیقعان کی چوٹیاں سورج کی پہلی کرن کے ساتھ تانبے کی طرح دہک اٹھتی تھیں، مسلمانوں کے لیے آزمائش کی ایک کڑی داستان لے کر آیا۔ قریشِ مکہ کے مظالم، بائیکاٹ کی تلخیاں اور اپنے آبائی وطن کو چھوڑنے کا غم دلوں میں مچل رہا تھا، لیکن ایمان کی حرارت سب پر غالب تھی۔ اسی تپتے ہوئے ماحول میں، مکہ کے معزز قبیلے بنو زہرہ کے ایک چمکتے ہوئے ستارے، جن کا نام جاہلیت میں عبدِ کعبہ تھا اور اسلام لانے کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں “عبدالرحمن” کا خوبصورت نام عطا فرمایا، اپنے گھر بار, مال و دولت اور جائیداد کو یکسر چھوڑ کر مدینہ کی طرف رختِ سفر باندھ رہے تھے۔ مکہ سے مدینہ کا فاصلہ تقریباً ساڑھے چار سو کلومیٹر کا ایک ایسا پرپیچ اور کٹھن راستہ تھا جہاں جھلساتی ہوئی ہوائیں، لق و دق صحرا اور قزاقوں کے خوفناک گروہ ہر وقت گھات لگائے بیٹھے رہتے تھے۔ اس سفر میں نہ کوئی اونٹوں کا بڑا قافلہ تھا، نہ ریشم و کمخواب کی تجارتی گٹھڑیاں، بلکہ مکہ کا سب سے متمول، نفیس اور عالی شان تاجر، جس کی جوتیاں بھی کبھی زعفران کی خوشبو سے مہکتی تھیں، اجنبی راستوں پر محض ایک مسافر بن کر ننگے پاؤں یا معمولی سواری پر رواں دواں تھا، اور اس کے پاس اگر کچھ تھا تو وہ صرف اللہ پر توکل اور سینے میں چھپا ہوا ایمان کا لازوال خزانہ تھا۔
جب سفر کی صعوبتیں ختم ہوئیں اور یثرب کی کھجوروں کے باغات دور سے سبز نخلستان کی صورت میں لہراتے ہوئے نظر آئے، تو ہواؤں میں ایک نئی تازگی کا احساس تھا، لیکن مہاجرین کے پاس مادی طور پر کچھ بھی نہیں تھا۔ وہ خالی ہاتھ، پامال اور بظاہر بے آسرا تھے، مگر مدینہ کے انصار (بنو اوس اور بنو خزرج) نے اپنے دل اور اپنے گھر ان کے لیے کھول دیے۔ اس تاریخی موڑ پر، مسجدِ نبوی کے کچے صحن میں، جہاں کھجور کے تنے ستونوں کا کام دے رہے تھے اور چھت پر کھجور کے پتے دھوپ کو روکنے کی ناکام کوشش کر رہے تھے، رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے تاریخِ انسانی کا سب سے انوکھا اور مضبوط رشتہ قائم فرمایا جسے “مواخاتِ مدینہ” کہا جاتا ہے۔ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا ہاتھ مدینہ کے ایک متمول اور عالی ظرف انصاری سردار، سعد بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں دیا اور انہیں بھائی بھائی بنا دیا۔ سعد بن ربیع نے اپنے مکہ سے آئے ہوئے بھائی کا چہرہ دیکھا، جس پر سفر کی گرد اور تھکن کے باوجود ایک وقار اور خودداری کی چمک تھی۔ سعد کا دل جذبہِ ایثار سے لبریز ہو گیا، انہوں نے انتہائی محبت اور خلوص سے عبدالرحمن سے کہا کہ میرے بھائی، میں مدینہ کے امیر ترین لوگوں میں سے ہوں، میرے پاس دو بڑے باغات ہیں، میری دو بیویاں ہیں اور بہت سا مال ہے۔ تم میرے باغات کو دیکھو، جو تمہیں پسند ہو وہ تم لے لو، میں اپنی ایک بیوی کو طلاق دے دیتا ہوں، عدت کے بعد تم اس سے نکاح کر لو، اور میرا مال آدھا آدھا تقسیم کر لیتے ہیں۔ یہ ایک ایسا موقع تھا جہاں کوئی بھی عام انسان جذباتی ہو جاتا یا اس پیشکش کو غنیمت جان کر قبول کر لیتا، لیکن عبدالرحمن بن عوف کا خمیر ایک غیرت مند، خوددار اور جفاکش تاجر کی مٹی سے اٹھا تھا۔ انہوں نے محبت سے سعد کی طرف دیکھا، ان کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور ایک ایسا جملہ کہا جو تاریخِ تجارت اور عظمتِ انسانی کے افق پر ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا کہ اللہ تمہارے اہل و عیال اور تمہارے مال میں برکت عطا فرمائے، مجھے ان چیزوں کی ضرورت نہیں، تم بس مجھے یہ بتاؤ کہ یہاں کا بازار کہاں ہے؟
سعد بن ربیع حیرت اور احترام کے ملے جلے جذبات کے ساتھ انہیں مدینہ کے مشہور بازار “سوقِ بنی قینقاع” کی طرف لے گئے، جو یہود کے زیرِ اثر تھا اور وہاں تجارت کے مروجہ اصول مکہ کے اصولوں سے بالکل مختلف تھے۔ مدینہ کا یہ جغرافیہ نخلستانوں، میٹھے پانی کے چشموں اور زرخیز زمینوں پر مشتمل تھا، جہاں زراعت کا دور دورہ تھا، جبکہ مکہ ایک تجارتی شہر تھا جہاں کے لوگ بین الاقوامی تجارتی شاہراہوں (رحلۃ الشتاء والصیف) کے ماہر تھے۔ عبدالرحمن بن عوف جب بازار پہنچے تو ان کے پاس ایک درہم بھی نہیں تھا، لیکن ان کے پاس وہ بصیرت، امانت داری، اور تجارتی مہارت تھی جو کسی بھی مادی سرمائے سے کہیں زیادہ قیمتی ہوتی ہے۔ انہوں نے بازار کا باریک بینی سے جائزہ لیا، رسد اور طلب کے فرق کو سمجھا، اور پہلے ہی دن کچھ پنیر اور گھی ادھار یا معمولی اجرت پر حاصل کر کے بیچنا شروع کر دیا۔ شام کو جب وہ واپس لوٹے تو ان کے ہاتھ میں نفع کے چند درہم تھے اور چہرے پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ تھی۔ یہ آغاز تھا اس عظیم الشان تجارتی سلطنت کا، جس نے آنے والے چند ہی برسوں میں مدینہ کی معیشت کا رخ بدل کر رکھ دیا۔ وہ روزانہ بازار جاتے، سخت محنت کرتے، سچائی اور دیانت کو اپنا شعار بناتے، اور گاہک کے ساتھ ایسا معاملہ کرتے کہ وہ ان کا گرویدہ ہو جاتا۔ ان کی تجارتی بصیرت اس قدر غیر معمولی تھی کہ وہ جس چیز میں ہاتھ ڈالتے، وہ منافع بخش بن جاتی۔ ان کا اپنا پختہ عزم، کاروباری حکمتِ عملی اور الٰہی تائید اس حد تک عروج پر تھی کہ ان کا یہ قول تاریخ کے صفحات پر سنہرے حروف سے درج ہوا کہ “اگر میں مٹی کا پتھر بھی اٹھاؤں تو مجھے لگتا ہے نیچے سے سونا نکلے گا۔” یہ محض ایک مبالغہ آرائی نہیں تھی بلکہ ان کے گہرے تجربے اور توکل کا منہ بولتا ثبوت تھا، جس کی گواہی مدینہ کے بازاروں نے اپنی آنکھوں سے دیکھی۔
کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ ایک دن عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ دربارِ رسالت میں حاضر ہوئے تو ان کے کپڑوں پر زرد رنگ (زعفران یا خوشبو) کا اثر دکھائی دے رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکرا کر پوچھا کہ عبدالرحمن، یہ کیا ہے؟ انہوں نے شرماتے ہوئے اور انتہائی ادب سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ، میں نے ایک انصاری خاتون سے شادی کر لی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم نے مہر میں کیا دیا؟ انہوں نے جواب دیا کہ ایک کھجور کی گٹھلی کے برابر سونا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے برکت کی دعا فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ ولیمہ کرو، خواہ ایک بکری ہی سے کیوں نہ ہو۔ یہ دعا ان کے حق میں ایسی قبول ہوئی کہ ان کا رزق اسمان سے بارش کی طرح برسنے لگا۔ مدینہ کی تجارتی شاہراہیں جو شام، یمن اور نجد کی طرف جاتی تھیں، اب عبدالرحمن بن عوف کے تجارتی قافلوں سے آباد ہونے لگیں۔ ان کے قافلے جب مدینہ کی وادیوں میں داخل ہوتے تو مٹی کی اڑتی ہوئی دھول اور اونٹوں کے گلوں میں بندھی گھنٹیوں کی جھنکار سے پورا شہر گونج اٹھتا تھا اور ایسا لگتا تھا جیسے کوئی بڑا زلزلہ آ گیا ہو۔ ایک مرتبہ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اپنے حجرے میں بیٹھے ہوئے مدینہ میں ایک شور سنا تو پوچھا کہ یہ کیسا غوغا ہے؟ انہیں بتایا گیا کہ یہ عبدالرحمن بن عوف کا تجارتی قافلہ ہے جو شام سے آیا ہے اور اس میں سات سو اونٹ غلے، آٹے اور دیگر ساز و سامان سے لدے ہوئے ہیں۔ سیدہ عائشہؓ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا تھا کہ عبدالرحمن بن عوف جنت میں گھسٹتے ہوئے (بطورِ حساب کی طوالت کے) داخل ہوں گے۔ جب یہ بات عبدالرحمن بن عوف تک پہنچی، تو ان کے دل پر خشیتِ الٰہی کا ایک لرزہ طاری ہو گیا، ان کی آنکھوں سے انسو جاری ہو گئے، وہ دوڑتے ہوئے ام المومنین کی خدمت میں حاضر ہوئے اور تڑپ کر عرض کیا کہ اے امی جان! میں آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ یہ پورا قافلہ، اپنے تمام سامان اور پالان سمیت، اللہ کی راہ میں مدینہ کے یتیموں، بیواؤں اور مسکینوں کے لیے وقف ہے۔ وہ روتے جاتے اور کہتے جاتے کہ اگر مجھ سے ہو سکا تو میں جنت میں کھڑے ہو کر اور دوڑ کر داخل ہوں گا، گھسٹ کر نہیں۔
عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی زندگی صرف ایک تاجر کی زندگی نہیں تھی، بلکہ وہ اسلام کے اس سیاسی اور سماجی نظام کے ایک اہم ستون تھے جہاں مال و دولت کو کبھی دل میں جگہ نہیں دی گئی بلکہ اسے ہمیشہ ہاتھوں میں رکھا گیا تاکہ ضرورت پڑنے پر اسے پانی کی طرح بہایا جا سکے۔ مدینہ کے بدلتے ہوئے سیاسی حالات، غزوات کے کٹھن مراحل، اور قریش و یہود کی سازشوں کے خلاف جب بھی مالی قربانی کی ضرورت پڑی، عبدالرحمن بن عوف کا نام فہرست میں سب سے اوپر چمکتا ہوا نظر آیا۔ غزوہِ تبوک کا وہ تپتا ہوا موسم، جب شام کی سرحد پر رومی سلطنت کی عظیم فوج کے مقابلے کے لیے “جیشِ عسرت” (تنگی کا لشکر) تیار کیا جا رہا تھا، اور مدینہ میں قحط سالی کا دور دورہ تھا، عبدالرحمن بن عوف نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کر اپنے مال کا ایک بہت بڑا حصہ، جس میں ہزاروں دینار شامل تھے، پیش کر دیا۔ ان کی اس سخاوت پر بعض منافقین نے طعنہ زنی بھی کی، لیکن قرآنِ پاک نے ان مخلصین کی تائید میں آیات نازل فرما کر ان کے مرتبے کو رہتی دنیا تک بلند کر دیا۔ وہ صرف مالی جہاد نہیں کرتے تھے، بلکہ میدانِ جنگ میں ان کی شجاعت کا یہ عالم تھا کہ غزوہِ احد کے اس پرآشوب دن، جب بڑے بڑے جانبازوں کے قدم اکھڑنے لگے تھے، عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ان چند جاں نثاروں میں شامل تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد ڈھال بن کر کھڑے ہو گئے۔ اس دن انہیں بیس سے زائد زخم ائے، ان کا ایک سامنے کا دانت شہید ہوا، اور پاؤں پر لگنے والے گہرے زخم کی وجہ سے وہ زندگی بھر کے لیے لنگڑا کر چلنے لگے، مگر ان کے عزم و استقلال میں کبھی لغزش نہ آئی۔ وہ ایک ایسے جرنیل، ایک ایسے مشیر اور ایک ایسے مدبر تھے جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے بعد خلفائے راشدین، خاص طور پر حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہم، بے پناہ اعتماد فرماتے تھے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنی شہادت سے قبل جن چھ اصحاب پر مشتمل شوریٰ تشکیل دی تھی تاکہ وہ اگلے خلیفہ کا انتخاب کریں، ان میں عبدالرحمن بن عوف کا کردار سب سے مرکزی تھا، اور انہوں نے اپنی بے غرضی کا ثبوت دیتے ہوئے خود کو خلافت کی دوڑ سے الگ کر کے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی اور امت کو ایک بڑے بحران سے بچا لیا۔ ان کا زہد، ان کی عاجزی اور ان کی سخاوت تاریخ کا ایک ایسا سنہرا باب ہے جو ہمیشہ نسلِ انسانی کے لیے مشعلِ راہ رہے گا، اور ان کا یہ بیانیہ ہمیں سکھاتا ہے کہ حقیقی کامیابی مالدار ہونے میں نہیں، بلکہ مال کو خدا کی رضا کے لیے مسخر کرنے میں ہے۔
![]()

