غارِ حرا کی وہ رات… جب “اقرأ” نے تاریخ بدل دی
انتخاب ۔۔۔ چوہدری اکرام الحق
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ انتخاب ۔۔۔ چوہدری اکرام الحق)پہلی وحی، ایک عظیم ذمہ داری اور انسانیت کے لیے ہدایت کا آغاز
گزشتہ حصے میں ہم نے ایک سوال پوچھا تھا:محمد ﷺ کیوں تشریف لائے تھے؟
ہم نے دیکھا کہ آپ ﷺ کی بعثت کا مقصد صرف ایک قوم کی اصلاح نہیں تھا۔
یہ انسان کو اس کے رب سے دوبارہ جوڑنے کا مشن تھا۔
یہ دل کی اصلاح تھی۔
یہ کردار کی تعمیر تھی۔
یہ جہالت کے اندھیروں سے ہدایت کی روشنی کی طرف سفر تھا۔
لیکن اب ایک اور سوال ہمارے سامنے ہے:
اس عظیم انقلاب کا آغاز کہاں سے ہوا؟
کسی محل سے؟
کسی بادشاہ کے دربار سے؟
کسی بڑے میدان سے؟
نہیں۔
اس انقلاب کا آغاز ایک خاموش پہاڑ کی ایک خاموش غار سے ہوا۔
غارِ حرا۔
اور پھر…
ایک ایسی رات آئی جس نے صرف محمد ﷺ کی زندگی نہیں بدلی…
بلکہ انسانی تاریخ کا رخ بدل دیا۔
—
مکہ سو رہا تھا… مگر ایک دل جاگ رہا تھا
مکہ کی رات تھی۔
شہر اپنی زندگی میں مصروف تھا۔
کسی گھر میں چراغ روشن تھا۔
کہیں تجارت کی گفتگو تھی۔
کہیں قبیلے کی باتیں تھیں۔
کہیں دنیا کی فکر تھی۔
لیکن شہر سے کچھ فاصلے پر ایک پہاڑ تھا۔
جبلِ حرا۔
اور اس پہاڑ میں ایک غار تھا۔
غارِ حرا۔
یہ وہ مقام تھا جہاں رسول اللہ ﷺ نبوت سے پہلے خلوت اختیار فرمایا کرتے تھے۔
صحیح بخاری کی روایت کے مطابق آپ ﷺ کو خلوت محبوب کر دی گئی تھی اور آپ ﷺ غارِ حرا میں عبادت کرتے تھے۔
دنیا کے شور سے دور…
لوگوں کی گفتگو سے دور…
بت پرستی کے ماحول سے دور…
آپ ﷺ اپنے رب کی طرف متوجہ رہتے تھے۔
شاید انسانیت کو معلوم نہیں تھا کہ جس شخص کو وہ ایک خاموش غار میں دیکھ رہی ہے…
وہ بہت جلد پوری دنیا کے لیے اللہ کا آخری رسول بن کر سامنے آنے والا ہے۔
—
پھر وہ لمحہ آیا…
رات خاموش تھی۔
غار خاموش تھا۔
پہاڑ خاموش تھا۔
لیکن آسمان پر ایک عظیم فیصلہ ہو چکا تھا۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی ﷺ کو نبوت عطا فرمائی۔
اور پہلی وحی کے ساتھ ایک ایسا پیغام نازل ہوا جس کا آغاز ہی حیرت انگیز تھا:
اقْرَأْ
پڑھیے۔
یہ لفظ صرف ایک حکم نہیں تھا۔
یہ ایک نئے دور کا آغاز تھا۔
ایک ایسے دور کا آغاز جس میں علم کو وحی سے جوڑا گیا۔
انسان کو اس کے رب سے جوڑا گیا۔
اور کائنات کو اس کے خالق کی نشانی کے طور پر دیکھنے کی دعوت دی گئی۔
—
“اقرأ”… مگر کس کے نام سے؟
قرآن نے فوراً واضح کیا:
اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ
“پڑھیے اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔”
سورۃ العلق، 96:1
غور کیجیے۔
حکم آیا:
پڑھیے۔
لیکن صرف پڑھنے کا حکم نہیں دیا گیا۔
بلکہ فرمایا:
اپنے رب کے نام سے پڑھیے۔
یہاں علم اور ایمان ایک دوسرے سے جدا نہیں کیے گئے۔
یعنی ایسا علم نہیں جو انسان کو متکبر بنا دے۔
ایسی ترقی نہیں جو اسے اپنے خالق سے دور کر دے۔
ایسی عقل نہیں جو انسان کو اپنی اصل بھلا دے۔
بلکہ:
علم بھی رب کے نام سے۔
سوچ بھی رب کے نام سے۔
زندگی بھی رب کے نام سے۔
اور مقصد بھی رب کی رضا۔
—
پہلی وحی میں انسان کو اس کی حقیقت یاد دلائی گئی
اگلی آیت میں فرمایا:
خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ
“اس نے انسان کو علق سے پیدا کیا۔”
سورۃ العلق، 96:2
ذرا غور کیجیے۔
پہلے:
اپنے رب کے نام سے پڑھو۔
پھر:
یاد رکھو تم خود کہاں سے آئے ہو۔
انسان علم حاصل کرے…
لیکن اپنی اصل نہ بھولے۔
انسان ترقی کرے…
لیکن تکبر نہ کرے۔
انسان زمین کی گہرائیوں تک پہنچ جائے…
آسمانوں کے راز جاننے کی کوشش کرے…
نئی ٹیکنالوجی بنائے…
لیکن یہ نہ بھولے:
میں خود ایک مخلوق ہوں۔
میرا رب میرا خالق ہے۔
اور میری زندگی بے مقصد نہیں۔
—
پھر قلم کا ذکر آیا
فرمایا:
الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ
“جس نے قلم کے ذریعے تعلیم دی۔”
سورۃ العلق، 96:4
یہ کتنی حیرت انگیز بات ہے۔
اسلام کی پہلی وحی کے ابتدائی پیغام میں:
پڑھنے کا ذکر۔
پھر:
علم کا ذکر۔
پھر:
قلم کا ذکر۔
یہ وہ دین ہے جو انسان کو جہالت سے نکالنے آیا۔
لیکن یہاں ایک بنیادی فرق ہے:
اسلام صرف معلومات جمع کرنے کا نام نہیں۔
علم کا مقصد انسان کو حق پہچاننے والا بنانا ہے۔
ایسا علم جو اسے اللہ کے قریب کرے۔
ایسا علم جو اسے عاجزی دے۔
ایسا علم جو اسے ذمہ دار بنائے۔
ایسا علم جو اسے انسانوں کے حقوق سمجھائے۔
—
آج ہمارے پاس علم بہت ہے… مگر کیا حکمت بھی ہے؟
آج ہمارے ہاتھ میں موبائل ہے۔
دنیا کی معلومات چند سیکنڈ میں ہمارے سامنے آ جاتی ہیں۔
ہم ہزاروں کتابیں اپنے فون میں رکھ سکتے ہیں۔
ایک سوال لکھیں…
جواب سامنے آ جاتا ہے۔
لیکن پھر بھی انسان پریشان ہے۔
کیوں؟
کیونکہ معلومات اور ہدایت ایک چیز نہیں۔
آپ کو یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ غصہ نقصان دہ ہے…
لیکن غصے پر قابو کیسے پانا ہے، یہ تربیت ہے۔
آپ جان سکتے ہیں کہ غیبت گناہ ہے…
لیکن اپنی زبان کو روکنا تزکیہ ہے۔
آپ جان سکتے ہیں کہ نماز فرض ہے…
لیکن نماز کو زندگی کا مرکز بنانا ایمان کی کیفیت ہے۔
اسی لیے پہلی وحی صرف پڑھنے کی دعوت نہیں تھی۔
یہ انسان کو علم، رب اور مقصد کے تعلق کو سمجھانے والی دعوت تھی۔
—
پھر ایک ایسی حقیقت بیان ہوئی جسے انسان بھول جاتا ہے
قرآن فرماتا ہے:
عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ
“اس نے انسان کو وہ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔”
سورۃ العلق، 96:5
یہ جملہ انسان کے غرور کو توڑ دیتا ہے۔
ہم کہتے ہیں:
“میں جانتا ہوں۔”
قرآن یاد دلاتا ہے:
تمہیں جو کچھ معلوم ہے، وہ بھی کسی نے تمہیں سکھایا ہے۔
تمہاری عقل…
اللہ کی عطا ہے۔
تمہاری زبان…
اللہ کی عطا ہے۔
تمہاری سمجھ…
اللہ کی عطا ہے۔
تمہارا علم…
اللہ کی عطا ہے۔
تو پھر علم انسان کو متکبر کیوں بنائے؟
علم تو اسے شکر گزار بنانا چاہیے۔
—
لیکن انسان کا ایک مسئلہ ہے
جب انسان کو علم ملتا ہے…
تو کبھی کبھی وہ سمجھتا ہے کہ اب اسے کسی کی ضرورت نہیں۔
قرآن اسی سورت میں آگے ایک نہایت گہری حقیقت بیان کرتا ہے:
كَلَّا إِنَّ الْإِنسَانَ لَيَطْغَىٰ أَن رَّآهُ اسْتَغْنَىٰ
“ہرگز نہیں! بے شک انسان سرکش ہو جاتا ہے، جب وہ اپنے آپ کو بے نیاز سمجھتا ہے۔”
سورۃ العلق، 96:6-7
کیا عجیب بات ہے۔
پہلی وحی میں:
علم۔
اور اسی سورت میں:
علم کے بعد پیدا ہونے والے غرور سے خبردار بھی کیا گیا۔
یعنی مسئلہ علم نہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ:
علم انسان کو اللہ سے دور کر دے۔
—
غارِ حرا سے نکلنے والا پیغام آج بھی ہمارے سامنے ہے
غارِ حرا میں وحی نازل ہوئی۔
رسول اللہ ﷺ نے اسے قبول کیا۔
پھر آپ ﷺ نے اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچایا۔
اور وہ پیغام آہستہ آہستہ دلوں میں اترنے لگا۔
ایک شخص ایمان لایا۔
پھر دوسرا۔
پھر ایک گھر بدلا۔
پھر ایک خاندان۔
پھر ایک جماعت۔
پھر ایک معاشرہ۔
اور پھر دنیا نے دیکھا کہ:
ایک وحی انسانوں کو کیسے بدل سکتی ہے۔
—
لیکن یہاں ایک اور حیرت انگیز سوال پیدا ہوتا ہے
پہلی وحی میں ہمیں:
اقرأ ملا۔
پڑھیے۔
علم حاصل کیجیے۔
اپنے رب کو پہچانیے۔
اپنی حقیقت سمجھیں۔
لیکن پھر سوال یہ ہے:
اس پہلی وحی کے بعد رسول اللہ ﷺ پر کیا گزری؟
ایک ایسی ذمہ داری جو پہاڑوں سے بھی بھاری تھی…
ایک ایسا پیغام جسے دنیا کے سامنے پہنچانا تھا…
ایک ایسی قوم جو اس دعوت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھی…
اور ایک ایسا سفر جس میں طائف کے پتھر بھی آئیں گے، شعبِ ابی طالب کی بھوک بھی آئے گی، ہجرت کی رات بھی آئے گی، بدر بھی آئے گا، احد بھی آئے گا…
لیکن رسول اللہ ﷺ کا مشن نہیں رکے گا۔
—
آج کے لیے ایک سوال
ہم “اقرأ” پڑھتے ہیں۔
قرآن پڑھتے ہیں۔
حدیث پڑھتے ہیں۔
سیرت پڑھتے ہیں۔
لیکن کیا ہم نے کبھی خود سے پوچھا:
“جو میں پڑھ رہا ہوں… کیا وہ مجھے بدل بھی رہا ہے؟”
اگر قرآن پڑھنے کے بعد بھی دل میں تکبر ہے…
اگر حدیث پڑھنے کے بعد بھی زبان سے ظلم ہوتا ہے…
اگر سیرت پڑھنے کے بعد بھی گھر والے ہم سے خوفزدہ ہیں…
تو ہمیں رکنا ہوگا۔
کیونکہ غارِ حرا سے آنے والا پیغام صرف آنکھوں سے پڑھنے کے لیے نہیں تھا۔
وہ دل میں اترنے کے لیے تھا۔
اور پھر…
دل سے کردار میں آنے کے لیے تھا۔
—
لیکن پہلی وحی کے بعد وہ کیا ہوا جس نے ایک خاموش، متفکر انسان کو پوری انسانیت کا آخری رسول بنا کر کھڑا کر دیا؟
وحی کا آغاز کیسے ہوا؟
حضرت جبرائیلؑ کون تھے؟
رسول اللہ ﷺ گھر واپس کیسے تشریف لائے؟
اور وہ عظیم جملے کیا تھے جو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اس نازک ترین لمحے میں رسول اللہ ﷺ سے کہے؟
اگلی قسط میں ہم اسی منظر میں داخل ہوں گے:
“زَمِّلُونِي… دَثِّرُونِي” — جب پہلی وحی کے بعد رسول اللہ ﷺ گھر تشریف لائے
ایک ایسا لمحہ…
جس میں ہمیں نبوت کی عظمت کے ساتھ ساتھ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی محبت، بصیرت، وفاداری اور کردار بھی نظر آئے گا۔
![]()

