Daily Roshni News

غیبی مدد کیسے آئی ؟

غیبی مدد کیسے آئی ؟

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )امام صاحب کے گھر راشن ختم ہوا تو…

 انہوں نے دنیا کے آگے ہاتھ پھیلانے کے بجائے،

اپنے رب کو پکارا! تو پھر دیکھیے..

کیسے غیبی مدد آئی؟”

محترم قارئین! السلام علیکم۔

امید ہے آپ سب اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے

 خیریت سے ہوں گے۔

 امام مسجد کا توکل اور غیبی امداد

یہ کہانی ہے ایک ایسے اللہ کے نیک بندے کی،

جس نے دنیا کے آگے ہاتھ پھیلانے کے بجائے اپنے رب کی ذات پر کامل یقین رکھا۔

 یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ جب انسان سب مصلحتوں کو چھوڑ کر صرف خدا پر توکل کرتا ہے،

 تو غیب کے دروازے کس طرح کھلتے ہیں۔

قاری شفیق الرحمن صاحب ایک جامع مسجد کے امام تھے اور پچھلے سات سال سے نہایت ایمانداری اور اخلاص کے ساتھ امامت کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔

ان کی کل کائنات ان کا ایک چھوٹا سا خاندان تھا—

ایک  بیوی اور تین معصوم بچیاں۔

 مسجد کی انتظامیہ کی طرف سے انہیں جو ماہانہ ہدیہ ملتا تھا، وہ انتہائی قلیل تھا، لیکن قاری صاحب ہمیشہ “الحمدللہ” کہہ کر شکر ادا کرتے اور اپنی سفید پوشی کا بھرم برقرار رکھتے۔

وقت گزرا، اور ایک ایسا سال آیا جب مہنگائی کا طوفان کھڑا ہو گیا۔ قاری صاحب کے گھر کا بجٹ بری طرح متاثر ہوا۔

 نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ مہینے کا آخری  دنوں میں راشن ختم ہو گیا۔ صبح کے وقت جو تھوڑا بہت آٹا بچا تھا، اس سے بیوی نے بچوں کو آدھی آدھی روٹی بنا کر دے دی، لیکن رات کے لیے اب گھر میں کچھ بھی موجود نہیں تھا

عصر کی نماز پڑھا کر قاری صاحب جب گھر آئے، تو بیوی نے دھیمی آواز میں کہا: “! گھر میں رات کے کھانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ بچیاں چھوٹی ہیں، وہ بھوک برداشت نہیں کر سکیں گی۔ کسی سے کچھ ادھار ہی مانگ لیں۔”

قاری صاحب نے گہرا سانس لیا۔ وہ جانتے تھے کہ بازار کے دکاندار کا پچھلا ادھار ابھی باقی ہے اور مسجد کے مخیر حضرات سے مانگنا ان کی غیرتِ ایمانی کو گوارا نہیں تھا۔

 انہوں نے اپنی بیوی سے کہا: “بیگم! ہم نے آج تک جب بھی مانگا ہے، اسی ایک رب سے مانگا ہے۔ انسانوں کے آگے ہاتھ پھیلانے سے بہتر ہے کہ ہم اس کے حضور جھک جائیں جو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے۔ تم حوصلہ رکھو،

اللہ کوئی نہ کوئی سبب ضرور پیدا کرے گا۔”

قاری صاحب واپس مسجد آ گئے۔ مغرب کی نماز پڑھانے کے بعد انہوں نے نفل کی نیت باندھ لی نفل پڑھ کر۔ وہ مصلے پر بیٹھ کر رو رو کر اپنے رب کے حضور گڑگڑانے لگے۔

ان کی آنکھوں سے بہتے ہوئے آنسو مصلے کو بھگو رہے تھے، لیکن زبان پر کوئی شکوہ نہیں تھا، بس ایک ہی صدا تھی: “اے اللہ! میں تیرے دین کا خادم ہوں، میری سفید پوشی کا بھرم تیرے ہاتھ میں ہے تو ہماری اس مشکل کو آسان فرما دے آمین

عشاء کی نماز کا وقت ہو گیا۔ قاری صاحب نے مصلے سے اٹھ کر آنسو پونچھے اور نماز پڑھائی۔ نماز ختم ہونے کے بعد جب تمام نمازی چلے گئے، تو قاری صاحب مسجد کا تالا لگانے کے لیے اٹھے۔

ابھی وہ دروازے کے پاس پہنچے ہی تھے کہ مسجد میں ایک شخص داخل ہو رہا تھا اس کے چہرے پر تھکن کے آثار تھے اور وہ کسی بڑے شہر کا تاجر لگ رہا تھا۔

وہ شخص سیدھا قاری صاحب کے پاس آیا اور ادب سے سلام کرنے کے بعد بولا: “قاری صاحب! کیا آپ ہی اس مسجد کے امام ہیں؟”

قاری صاحب نے جواب دیا: “جی بھائی صاحب، میں ہی یہاں امامت کرتا ہوں۔ فرمائیے، میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں؟”

وہ شخص بولا: “قاری صاحب! میں لاہور کا ایک تاجر ہوں۔ آج شام میں اپنی گاڑی میں یہاں قریبی ہائی وے سے گزر رہا تھا کہ اچانک میری گاڑی کا ٹائر پھٹ گیا اور گاڑی قابو سے باہر ہو کر سڑک کنارے ایک درخت سے جا ٹکرائی۔

 حادثہ اتنا شدید تھا کہ گاڑی کا اگلا حصہ تباہ ہو گیا، لیکن اللہ نے مجھے اور میری فیملی کو ایک خراش تک نہیں آنے دی

“جب میں اس تباہ شدہ گاڑی سے بالکل صحیح سلامت باہر نکلا، تو میری روح کانپ گئی۔ مجھے احساس ہوا کہ میرے رب نے مجھے نئی زندگی دی ہے۔

 میں نے اسی وقت نیت کی کہ میرے پاس اس وقت جیب میں جتنی بھی نقد رقم موجود ہے، وہ میں اسی وقت کسی اللہ کے مخلص بندے کو بطورِ شکرانہ دوں گا۔ میں پیدل چلتا ہوا اس بستی کی طرف آیا، تو مجھے آپ کی مسجد کا یہ مینار نظر آیا۔”

اس تاجر نے اپنی جیب سے ایک لفافہ نکالا، جس میں

 ہزار ہزار کے نوٹوں کی ایک موٹی گڈی تھی، اور وہ لفافہ قاری صاحب کے ہاتھوں میں تھما دیا۔

وہ کہنے لگا: “قاری صاحب! یہ رقم مسجد کے لیے نہیں، یہ خاص آپ کے اور آپ کے بچوں کے لیے ہے۔ مجھے نہیں معلوم آپ کی ضرورت کیا ہے، لیکن میرا دل کہتا ہے کہ میرا رب مجھے کھینچ کر آپ کے پاس لایا ہے۔” وہ شخص یہ کہہ کر دوبارہ سلام کر کے اندھیرے میں غائب ہو گیا۔

قاری صاحب مسجد کے صحن میں اکیلے کھڑے تھے، ان کے ہاتھوں میں نوٹوں سے بھرا وہ لفافہ تھا اور آنکھوں سے زار و قطار آنسو بہہ رہے تھے۔ وہ سمجھ گئے تھے کہ یہ کوئی اتفاق نہیں، بلکہ ان کے توکل اور مصلے پر روئے گئے آنسوؤں کا غیبی جواب تھا جو ان کا رب ایک مسافر کو ذریعہ بنا کر بھیج رہا تھا۔

قاری صاحب گھر پہنچے، لفافہ بیوی کے سامنے رکھا اور پوری داستان سنائی۔ بیوی بھی اپنے رب کی اس بے پناہ رحمت اور غیبی امداد کو دیکھ کر سجدے میں گر گئی۔

 اس رات قاری صاحب کے گھر نہ صرف بہترین راشن آیا، بلکہ ان کا سارا قرض بھی اتر گیا اور بچوں کے چہروں پر مسکراہٹ لوٹ آئی۔

سبق:

انسان جب دنیا کے تمام سہاروں کو عارضی سمجھ کر صرف اپنے خالق پر بھروسہ کرتا ہے،

تو اللہ تعالیٰ ایسے راستوں سے رزق اور مدد کا انتظام فرماتا ہے جہاں انسان کا گمان بھی نہیں جا سکتا۔ شرط صرف نیت کے اخلاص اور توکل کی ہے۔

اللہ پاک ہمیں ایک دوسرے کے لیے آسانیاں بانٹنے کی توفیق عطا فرمائے۔

ایسی ہی سبق آموز اور اصلاحی کہانیوں کے لیے

ہمیں فالو کر لیں۔ اپنی اور اپنوں کی تربیت و اصلاح کے لیے

 اس کہانی کو آگے شیئر کرنا مت بھولیں۔

شکریہ، اللہ حافظ!

پیشکش: میاں محمد سلیم 🥀

#stories #urdustories

#storytime #realstory

#MoralStory #Viral #Trending

Loading