Daily Roshni News

فتنہ خلقِ قرآن” (المحنۃ):

فتنہ خلقِ قرآن” (المحنۃ):
یہ عباسی دورِ حکومت (بالخصوص خلیفہ مامون، معتصم اور واثق) کا ایک شدید ترین فکری و سیاسی بحران تھا، جس کی بنیاد معتزلہ کے عقلی پسند نظریات پر تھی۔ سرکاری سرپرستی میں یہ نظریہ زبردستی نافذ کیا گیا کہ قرآن مجید اللہ کی صفت (کلام) نہیں بلکہ ایک “مخلوق” ہے۔ اس دور میں علماء پر اس نظریے کو تسلیم کرنے کے لیے شدید دباؤ ڈالا گیا اور انکار کی صورت میں قید و بند اور تعذیب کا سامنا کرنا پڑا۔ امام احمد بن حنبلؒ نے اس ریاستی جبر کے سامنے اصولِ دین پر سمجھوتہ کرنے سے انکار کیا اور پختہ مؤقف اختیار کیا کہ قرآن کریم “کلامِ الہیٰ” ہے نہ کہ مخلوق۔ آپ کی اس بے لچک استقامت نے نہ صرف اسلامی عقائد کے تحفظ کو یقینی بنایا بلکہ اسے تاریخ میں حق و باطل کا ایک یادگار معرکہ بنا دیا۔
پس منظر اور ملاقات
جب امام احمد بن حنبل کو کوڑے مارنے کے لیے جیل سے دار الخلافہ لے جایا جا رہا تھا، تو قید خانے میں ان کی ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی جو جرائم پیشہ تھا اور چوری و ڈکیتی کے جرم میں وہاں قید تھا۔ اس کا نام ابو حیثم (الحداد) تھا۔
ابو حیثم نے جب دیکھا کہ مسلمانوں کے اتنے بڑے امام اور عالم دین کو اس حال میں لایا گیا ہے، تو وہ ان کے پاس آیا اور کہنے لگا:
“اے احمد! کیا آپ مجھے جانتے ہیں؟ میں ابو حیثم چور ہوں، جس کا نام امیر المومنین کے رجسٹر میں جرائم پیشہ افراد کی فہرست میں سب سے اوپر لکھا ہوا ہے۔”
ابو حیثم کی نصیحت
ابو حیثم نے امام احمد بن حنبل کی ہمت بندھانے کے لیے ایک ایسی بات کہی جو تاریخ کے صفحات پر امر ہو گئی۔ اس نے کہا:
“مجھے دنیاوی اور باطل مقصد (چوری) کے لیے اب تک ہزاروں کوڑے مارے جا چکے ہیں، میں نے ہر بار درد سہا لیکن اپنے باطل راستے سے پیچھے نہیں ہٹا اور نہ ہی کبھی رویا، حالانکہ میں باطل پر ہوں۔ آپ تو حق پر ہیں اور اللہ کے دین کی خاطر کوڑے کھانے جا رہے ہیں۔ یاد رکھیے! دنیا کے چند کوڑوں کی خاطر اپنے دین کا سودا نہ کیجیے گا اور حق سے پیچھے نہ ہٹیے گا۔”
اس نے مزید کہا کہ “اے احمد! ثابت قدم رہیے گا، آپ کے پیچھے پوری امت کھڑی ہے، اگر آپ نے گھٹنے ٹیک دیے تو پوری امت گمراہی میں پڑ جائے گی۔ کوڑوں کی تکلیف تو بس تھوڑی دیر کی ہوتی ہے، پھر سب ٹھیک ہو جاتا ہے۔”
امام احمد بن حنبل پر اثر
ایک چور کی زبان سے حق کی راہ میں ثابت قدمی کا یہ فلسفہ سن کر امام احمد بن حنبل کا دل مضبوط ہو گیا اور ان کے حوصلے ہمالیہ سے بھی بلند ہو گئے۔
امام احمد بن حنبل خود فرماتے تھے:
“محنت اور آزمائش کے ان کٹھن دنوں میں، مجھے ابو حیثم کی اس بات نے جتنا حوصلہ اور فائدہ پہنچایا، اتنا کسی اور چیز نے نہیں پہنچایا۔”
امام صاحب کی ابو حیثم کے لیے دعا
امام احمد بن حنبل اس واقعے کے بعد ہمیشہ ابو حیثم کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھتے تھے۔ ان کے بیٹے عبداللہ بن احمد بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کو کثرت سے ایک شخص کے لیے دعا کرتے سنا: “اے اللہ! ابو حیثم پر رحم فرما، اے اللہ! ابو حیثم کی مغفرت فرما۔”
عبداللہ نے ایک دن پوچھا: “بابا جان! یہ ابو حیثم کون ہے جس کے لیے آپ اتنی کثرت سے دعا کرتے ہیں؟”
تو امام احمد بن حنبل نے فرمایا: “بیٹا! یہ وہ شخص ہے جس نے آزمائش کی اس گھڑی میں میری ہمت بندھائی تھی جب میرے قدم ڈگمگا سکتے تھے، اس نے مجھے باطل پر قائم رہنے والوں کی استقامت کی مثال دے کر حق پر جمے رہنے کا حوصلہ دیا تھا۔”
یہ واقعہ سکھاتا ہے کہ بعض اوقات انسان کو زندگی کے مشکل ترین موڑ پر کسی ایسے شخص سے بھی نصیحت اور حوصلہ مل سکتا ہے جس کی معاشرے میں کوئی عزت نہ ہو۔ یہ حق کی طاقت اور استقامت کا وہ بہترین نمونہ ہے جو رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔
واقعہ کو شئیر کر دیں ہو سکتا ہے کسی کی ہدایت کا زریعہ بن جائے اللہ آپ کو اس کی جزا عطا فرمائے آمین ❣️واللہ اعلم بالصواب اگر لکھنے میں کوئی غلطی ہو تو اللہ پاک معاف فرمائے آمین ثم آمین ❣️
#ImamAhmadBinHanbal
#FitnaKhalqeQuran
#IslamicHistory
#IslamicReminder
#StandForTruth
#SabrOIstiqamat
#FaithAndPatience
#LessonsFromHistory

Loading