Daily Roshni News

لندن کی فضاؤں سے۔۔۔ ہوائی اڈے۔۔۔تحریر۔۔۔فیضان عارف

لندن کی فضاؤں سے۔۔۔

 ہوائی اڈے

تحریر۔۔۔فیضان عارف

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔لندن کی فضاؤں سے۔۔۔تحریر۔۔۔فیضان عارف)  میں جب بھی کسی دوسرے ملک جانے یا کسی دوست کو لینے کے لئے ہیتھرو ایئرپورٹ پر جاتا ہوں تواِس ہوائی اڈے میں داخل ہوتے ہی مجھ پر عجیب کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ مجھے دسمبر 1993 کی وہ ٹھٹھرتی ہوئی شام یاد آ جاتی ہے جب میں پہلی بار یہاں آیا تھا۔ اُس وقت یہ ایئرپورٹ اور لندن میرے لئے بالکل اجنبی تھے۔ طرح طرح کے خدشات اور امکانات نے مجھے اپنی گرفت میں لے رکھا تھا، اب ایک طویل مدت کے بعد بھی مجھے یہاں آ کر ہوائی جہازوں کو فضا میں بلند ہوتے اور اُڑان بھرتے دیکھ کر بہت اچھا لگتا ہے۔ اس ہوائی اڈے کے مختلف ٹرمینلز پر مسافروں کی آمدورفت مجھے شدت سے اس بات کا احساس دلاتی ہے کہ زندگی واقعی ایک مسلسل سفر کا نام ہے۔

 لندن کاہیتھرو ایئرپورٹ دنیا کے مصروف ترین ہوائی اڈوں میں سے ایک ہے، جس کی تعمیر 1929 میں ہوئی اور اسے مارچ 1946 میں انٹرنیشنل اور ملکی پروازوں کے لئے استعمال کیا جانے لگا اور اب اس ہوائی اڈے سے ہر سال 8 کروڑ سے زیادہ مسافر دنیا کے مختلف ممالک جانے کیلئے سفر کرتے ہیں۔ اس اعتبار سے یہ دنیا کا دوسرا بڑا ہوائی اڈا ہے جہاں سے انٹرنیشنل فلائٹس کے مسافروں کی آمد و رفت کا سلسلہ دن رات جاری رہتا ہے۔ یہاں سے 84 ممالک کی پروازیں اُڑان بھرتی اور اُترتی ہیں۔ ہیتھروایئر پورٹ برٹش ایئر ویز اورور جن ایٹلا نٹک ایئرلائنز کا میزبان ہوائی اڈابھی ہے۔ ویسے تولندن میں گیٹ وک، سٹینسٹیڈ اور سٹی ایئر پورٹ بھی ہیں لیکن سب سے زیادہ مسافر ہیتھروسے ہی سفر کرتے ہیں۔حال ہی میں ہیتھرو کود نیا کا ساتواں بڑا ہوائی اڈا قرار دیا گیا ہے۔اس ایئر پورٹ پر کئی مشہورفلموں کی شوٹنگ بھی ہو چکی ہے جبکہ ہیتھروکے بارے میں بہت سی دستاویزی فلمیں بھی بن چکی ہیں۔ پروازوں اور مسافروں کی آمد ورفت کے اعتبار سے اس وقت دنیا کا سب سے بڑا ہوائی اڈا اٹلانٹا(امریکا) کا انٹرنیشنل ایئرپورٹ ہے۔ دوسرے نمبر پر دوبئی اور تیسرے نمبر پر ٹوکیو (جاپان) کا ہوائی اڈا ہے۔ اس وقت پوری دنیا میں کم وبیش چالیس ہزار ہوائی اڈے ہیں جہاں سے مسافر طیاروں اور پرائیویٹ جیٹس کے اُڑنے اور اُترنے کی سہولت موجود سے۔ صرف یونائیٹڈ کنگڈم میں 241 ائیر پورٹس ہیں۔ ہوائی اڈے میرے لئے ہمیشہ سے پر کشش رہے ہیں جہاں اپنی منزل پر پہنچنے کے لئے مسافروں کی گہما گہمی ایک ایساماحول بنادیتی ہے جو کہیں اور دیکھنے کو نہیں ملتا۔ تاخیر سے پہنچنے والے مسافروں کی فلائیٹ تک پہنچنے کی بھاگ دوڑ، پروازوں کی تاخیر پر مسافروں کی بیزاری، امیگریشن کاؤنٹرز پر پاسپورٹس اور ویزوں کی پڑتال لگیج ایریا میں سامان کا انتظار،وقت سے پہلے ہوائی اڈے پر پہنچنے والے لوگوں کی ڈیوٹی فری شاپنگ میں دلچسپی اور کافی بارز میں رونق کے مناظرہر بڑے ہوائی اڈے پر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ خاص طورپرپسنجرلاؤنج کے باہر انٹرنیشنل فلائٹس کے مسافروں کو خدا حافظ کہنے یااپنے عزیزوں کا استقبال کرنے والوں کی جذباتی کیفیت ہوائی اڈوں کے ماحول کو اُداسی اور خوشی کی لپیٹ میں لئے رکھتی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے میں نے ایک ہوائی اڈے پر بنائی گئی فلم ٹرمینل دیکھی تھی جس میں مرکزی کردار ٹام ہینکس نے ادا کیا تھا یہ فلم در حقیقت ایک سچی کہانی پر مبنی تھی۔ یہ ایک ایسے ایرانی مسافر کی کہانی ہے جو شاہ ایران کے زمانے میں اپنا ملک چھوڑ کر یورپ آیا لیکن اُ سے کسی یورپی ملک میں سیاسی پناہ یا قیام کی اجازت نہ ملی۔ مہران کریمی نصیری نامی یہ شخص برطانیہ میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کا بھی خواہش مند تھا۔ 1988 میں جب مہران کریمی پیرس سے لندن آنے کے لئے ہوائی اڈے پر پہنچا تو اس کی سفری دستاویزات فرانسیسی دارلحکومت میں ٹرین کے سفر میں گم یا چوری ہو گئیں۔ جس کی وجہ سے اُسے جہاز پر سوار نہ ہونے دیا گیا اور نہ ہی اُسے دستاویزات کے بغیر پیرس کے ہوائی اڈے سے باہر جانے کی اجازت ملی۔ چنانچہ یہ شخص 1988 سے 2006 تک پیرس کے چارلس ڈی گال ایئر پورٹ پر ہی روپوش رہا۔ جہاں اُس نے ایک ٹرمینل پر ایک سرخ پلاسٹک بینچ کے ارد گرد سامان کی ٹرالیاں اور دیگر سامان اکٹھا کر کے اپنے لئے خفیہ رہائش کا انتظام کر لیا۔ ہوائی اڈے کی انتظامیہ کو جب معلوم ہوا کہ ایک شخص ٹرمینل میں رہائش پذیر ہے تو اُسے وہاں سے بے دخل کرنے کے لئے کئی قانونی پیچیدگیاں آڑے آئیں،معاملہ اقوام متحدہ تک پہنچا اور پھر اُسے ریفیوجی سٹیٹس دیئے جانے کے لئے دستاویزات بنائی گئیں مگر مہران کریمی نے اُن کا غذات پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔بعدازاں اُسے بیلجیئم اور فرانس میں رہائش اور قیام کے حقوق حاصل ہو گئے لیکن اُس نے اپنی زندگی کے آخری دو ماہ ہوائی اڈے پر ہی گزارے۔ یہ دنیا کا واحد شخص تھا جس نے تقریبا 18 برس تک ایک ہوائی اڈے پر بسیرا کیا اورنومبر 2022 میں چارلس ڈیگال ایئر پورٹ پر ہی دل کا دورہ پڑنے سے اس کی روح اس دنیا سے پرواز کر گئی۔

  2004 میں اس کی زندگی کی سرگزشت (آٹو بائیو گرافی) دی ٹرمینل مین کے نام سے شائع ہوئی جبکہ1993 میں مسٹر نصیری کے بارے ایک دستاویزی فلم لوسٹ ان ٹرانزٹ منظر عام پر آئی۔ ڈاکیومینٹری اور آٹو بائیوگرافی کی وجہ سے مہران کریمی نصیری کو ایک خطیر رقم ملی اور پوری دنیا میں اس کا چرچا ہونے لگا۔

 دنیا بھر میں ایسے ایسے شاندار اور پروقار ہوائی اڈے بنائے گئے ہیں کہ جنہیں دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ ہر ملک کے ہوائی اڈے کی تزئین و آرائش اور تعمیر کیلئے وہاں کے موسم اور تہذیب و تمدن کا خیال ضرور رکھا جاتا ہے۔ لمبے سفر پر جانے والے مسافروں کیلئے کئی ایئر پورٹس پر مساج کارنر بھی بنائے گئے ہیں جبکہ تمباکو اور سگریٹ کے عادی مسافروں کے لئے تمام جدید ہوائی اڈوں پر سموکنگ روم بھی بنے ہوئے ہیں۔ مجھے یاد ہے کئی برس پہلے میں  ساقی فاروقی کے ہمراہ کوپن ہیگن کے ایک مشاعرے میں شرکت کے لئے ہیتھرو ایئر پورٹ پہنچا تو ساقی صاحب کو پائپ پینے کی طلب ہوئی۔ ڈاکٹر جاوید شیخ بھی ہمارے ساتھ تھے، فلائٹ کی روانگی میں ابھی کافی وقت تھا۔ ہم جب ساقی صاحب کے ساتھی پیسنجر لاؤنج کے سموکنگ روم میں پہنچے تو وہاں عجیب منظر دیکھنے میں آیا۔ بلند و بالا چھت والے اس کشادہ سموکنگ روم میں درجنوں مسافر سگریٹوں اورپائپ(تمبا کو) کے لمبے لمبے کش لینے میں مصروف تھے۔ ایسے مسافر جن کی پروازوں کا دورانیہ (10) گھنٹے یا اس سے زیادہ تھا وہ ہر ممکن کوشش کر رہے تھے کہ زیادہ سے زیادہ نکوٹین کو اپنے جسم کا حصہ بنا لیں تا کہ اُن کا طویل ہوائی سفر آسانی سے کٹ جائے۔ اس روز مجھے احساس ہوا کہ تمباکو نوشی یا کسی اور عادت کی وجہ سے انسانوں کو کیسی کیسی پریشانی اٹھانا پڑتی ہے۔

 جب کوئی مسافر ہوائی جہاز کے ذریعے سے پہلی بارکسی دوسرے ملک میں جاتا ہے تو ہوائی اڈے پر اترتے ہی وہ اس ملک کے بارے میں اپنا پہلا تاثر قائم کر لیتا ہے۔ تیس پینتیس ملکوں کی سیاحت کے بعد میں بھی اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ہوائی اڈے ملکوں اورقوموں کے ایک عمومی تاثر کے آئینہ دار ہوتے ہیں اور ایئر پورٹس پر بنی ڈیوٹی فری شاپس پر فروخت ہونے والی اشیا وہاں کی ثقافت کی غمازی کرتی ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ نائن الیون سے پہلے ہوائی اڈوں پر سکیورٹی چیک اورمسافروں کی سکریننگ کا مرحلہ بہت کٹھن اور پیچیدہ نہیں تھا۔مسافروں کو اپنے اور اپنے سامان(ہینڈ لگیج) کی چیکنگ کے لئے لمبی قطاروں میں نہیں لگنا پڑتا تھا۔

 دنیا بھرمیں ترقی یافتہ اور خو شحال ملکوں نے اپنے انٹرنیشنل ہوائی اڈوں کو مسافروں کے لئے اس قدر آرام دہ اور شاندار بنایا ہوا ہے کہ جو بھی وہاں پہنچتا ہے تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔سینگاپور کا چینگی ایئرپورٹ، بیجنگ (چین) کا ڈیکسنگ ایئرپورٹ،بھوٹان کا پارو انٹرنیشنل ایئرپورٹ، نیپال کا تنیزنگ ہلیری ایئر پورٹ، سکاٹ لینڈکا برّا ایئر پورٹ، تھائی لینڈ کا کوہ سموئی ایئر پورٹ اور ساؤتھ افریقہ میں سکو کوزا کا ہوائی اڈا اپنی انفرادیت کی وجہ سے دنیا بھر میں بہترین شمار کئے جاتے ہیں۔

 میں نے زندگی میں پہلی بار جس ہوائی اڈے سے جہاز کا سفر کیا وہ بہاول پور ایئر پورٹ تھا۔ اس ہوائی اڈے سے میں فوکر طیارے کے ذریعے بہاول پور سے لاہور گیا تھا۔ ایک زمانے میں یہاں سے ہر روز لاہور اور اسلام آباد کے لئے ایک فلائٹ آیا اور جایا کرتی تھی۔ اسی طرح بہاول پور سے کراچی کے درمیان بھی ہفتے میں دو پروازیں اڑا کرتی تھیں۔ اب اس ہوائی اڈے سے ہر روز پروازوں کا سلسلہ ختم ہو گیا البتہ اس کے رن وے کی توسیع کی گئی ہے تاکہ متحدہ عرب امارات کے حکمرانوں اور شہزادوں کی فلائٹس سہولت سے یہاں آ جاسکیں۔ جن دنوں بہاول پور کے ہوائی اڈے پر عرب کے شاہی خاندانوں کے جہاز نہیں اُترتے تو اس کے رن وے پر ریت اڑتی رہتی ہے۔

٭٭٭

https://akhbar-e-jehan.com/detail/66656/airport-introduction-to-any-country

Loading