نوحہ
شاعر ۔۔۔۔۔ ناصر نظامی ( گولڈ میڈلسٹ )
ہر آ نکھ ، اشک بار ہے حسین کے لئے
ہر دل ہوا ، فگار ہے حسین کے۔ لئے
ابن علی نے پائی ہے کربل میں شہادت
دین نبی ہے آ پ کے ہی دم سے سلامت
وہ مرد نام دار ہے حسین کے لئیے
اکبر کا کلیجہ ہوا نیزوں سے تار تار
اصغر کے گلے سے ہوا زہریلا تیر پار
اک، خوں کی، آ بشار ہے حسین کے لئے
کنبے کا کنبہ دین پہ قربان کر دیا
اسلام کی تاریخ میں خوں ا پنا بھر دیا
وہ مرد جاں نثار ہے حسین کے لئے
جنت کا بنی گوشہ کر بل کی سر زمین
آ سودہ خاک اس میں ہیں زہرا کے نگین
وہ مرد زی وقار ہے حسین کے لیے
یہ کون مرد حق ہے کٹے جس کے ہیں شا نے
روکے ہیں ا پنے سینے پہ تیروں کے نشانے
عباس علم دار ہے حسین کے لئے
اہل عجم، نہ اہل عرب کے ہیں حسین
سچ بات یہ ہے مومنو سب کے ہیں حسین
جنت کا وہ، سردار ہے حسین کے لئے
اے مومنو ہے بننا گر صاحب کردار
ابن علی سے سیکھ لو جرأتِ انکار
نظامی، عزا دار ہے حسین کے لئے
ناصر نظامی
گولڈ میڈلسٹ
ایمسٹرڈیم ہالینڈ
![]()

