نور کا راستہ
سلسلہ عظیمیہ کی تعلیمات کا سر چشمہ اغراض و مقاصد کی تشریح
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ نور کا راستہ )ہر مشن کا کوئی نہ کوئی مقصد ہوتا ہے اور اس مقصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے ایک ضابطہ تکمیل دینا ہوتا ہے۔ سلسلہ عظیمیہ کا اولین مقصد یہ ہے کہ عرفان الہی کے حصول کی کوشش کی جائے۔ لوگ اپنی روح کو پہچا نہیں ، رحمت اللعالمین حضرت محمد ﷺ کا قلمی اور باطنی تعارف حاصل کریں جن کے جو دو کرم اور رحمت سے ہم ایک خوش نصیب قوم ہیں، اپنا تزکیہ نفس کر کے اللہ تعالی کے پسندیدہ
قلند ر با با اولیا ؒنے 1960ء میں کی بنیاد رکھی، اس لحاظ بن تیمیہ ایک نیا سلسلہ ہے لیکن سلسلہ عظیمیہ کا پیغام اور تعلیمات نئی نہیں، یہ تعلیمات قرآن و حدیث، اولیاء کرام اور روحانی بزرگوں کی تعلیمات کا تسلسل ہیں۔قلند بابا اولیا نے ان تعلیمات کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق نئے قالب میں ڈھال کر پیش کیا ہے۔
بندے بننے کی کو شش کریں۔ان مقاصد کے حصول کے لئے تربیتی نصاب پر عمل کے ساتھ ساتھ نظم و ضبط کی پابندی ضروری ہے۔ سلسلہ عظیمیہ چاہتا ہے کہ اس کے ارکان پر اس سلسلہ طریقت کے اغراض و مقاصد پوری طرح واضح ہوں ، اس کے ساتھ ساتھ ان اغراض و مقاصد کے حصول کے لئے اور نظم و ضبط کی پابندی کے لئے قوائد وضوابط سے بھی ارکان سلسلہ پوری طرح آگاہ ہوں۔ سلسلہ عظیمیہ کے امام قلندر بابا اولیاء اور ان کے جانشین حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی نے اراکین سلسلہ عظیمیہ کے لیے اغراض و مقاصد اور قوائد وضوابط مرتب کئے۔
ذیل میں سلسلہ عظیمیہ کے لیے اغراض و مقاصد کے ساتھ ان تعلیمات سے ممثل قرآن پاک کی آیات اور رسول اکرم ﷺکی احادیث پیش کی جارہی ہیں۔
صر الا مستقیم پر گامزن ہو کر دین کی خدمت کرنا۔
فرمان الہی: (اے اللہ) ہم کو صراط مستقیم پر چلنے کی ہدایت دے۔ ان لوگوں کے رستے پر جو تیرےانعام یافتہ ہیں۔ [ سورۂ فاتحہ ۔ 75]
حدیث رسول ﷺ: یہ قرآن شد و بھلائی کی طرف راہنمائی کرتا ہے لہذا جس نے اس کے مطابق عمل کیا وہ اجر پا گیا، جس نے اس کے مطابق فیصلہ کیا اس نے عدل کیا اور جس نے اس کی طرف بلا یادہ صراط مستقیم کی طرف ہدایت پا گیا۔ [جامع ترندی ، دارمی ]
روحانی سلاسل کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ایک متعین راستے پر چل کر منزل تک پہنچا جائے یا پہنچنے کے لئے قدم بقدم چلنے کی کوشش کی جائے۔ انبیائے کرام سے نوع انسانی کو منتقل ہونے والا یہ متعین راستہ صراط مستقیم ہے۔ یعنی ایسار استہ جس میں اللہ کی رضا اور اللہ کے پسندید و بندوں کی طرز فکر شامل ہو۔رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات پر صدق دل سے عمل کر کے آپ کے روحانی مشن کو فروغ دیتا۔فرمان الهی: کہہ دیجئے اگر اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہاری خطائیں معاف کرے گا۔ [آل عمران۔ [3]
حدیث رسول ﷺ : تم میں سے کسی کا ایمان مکمل نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے لیے اس کے باپ، اولا و اور تمام انسانوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔[صحیین]
تلقین اسلاف: علامہ اقبال فرماتے ہیں
کی محمد سے وفا تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے
حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی اور رسول ہیں۔ آپ پر نبوت ختم ہو گئی اور دین اسلام کی تکمیل ہو گئی۔ سلسلہ عظیمیہ اپنی تعلیمات کے ذریعے اپنے شاگردوں میں یہ فکر عام کر رہا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ میم کی تعلیمات پر عمل کیا جائے۔ جب کوئی بند و اپنی تمام تر صلاحیتوں کو استعمال کر کے صدق دل کے ساتھ ان تعلیمات کو اپنانے اور انہیں پھیلانے میں فعال کردار ادا کرتا ہے تو اسے اللہ تعالی کی رضا ملتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا خصوصی تعاون ماتا ہے۔مخلوق خدا کی خدمت کرنا۔۔۔۔۔
فرمان الہی نیکی یہ نہیں کہ تم مشرق کی طرف منہ کر و یا مغرب کی طرف بلکہ نیکی یہ کہ ایمان لاؤ اللہ پر فرشتوں پر ، کتاب پر اور عالمہبروں پر، اور مال کو عزیز رکھنے کے باوجود رشتہ داروں، قیموں، مسکینوں، مسافروں، سا تکلمین اور تحفظ پر خرچ کرو۔[سور وبقرہ: آیت 177]
فرمان رسولﷺ : کسی نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا اعمال میں سب سے افضل عمل کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: (سب سے افضل عمل یہ ہے) کہ تم اپنے مومن بھائی کو خوشی پہنچاؤ یا اس کا قرض ادا کر دیا سے کھانا کھلاؤ“۔ [ شعب الایمان بیہقی ] و بچھو کے کو کھانا کھلاؤ، بیمار کی عیادت کرو اور قیدی کی رہائی کا بند و بست کرو۔“ [ بخاری]افضل ترین عمل یہ ہے کہ کسی سے محض اللہ کیرضا کے لیے محبت کی جائے۔ “ [مقلوة ]اللہ تعالی قیامت کے دن فرمائے گا اے فرزند آدم میں بیمار پڑا تو نے میری خیر نہ لی۔ بندہ عرض کرے گا
اے میرے مالک میں کیسے تیری تیمار داری کر سکتا ہوں تو خود رب العالمین ہے۔ اللہ تعالی فرمائے گا کیا تجھے علم نہ تھا کہ میر افلاں بندہ بیمار ہے تو نے اس کی خبر گیری نہ کی۔ اگر تو اس کی تیمار داری کرتا تو مجھے اس کے پاس ہی پاتا۔ پھرپر ور دگار فرمائے گا۔ اے فرزند آدم میں نے تجھ سے کھانا مانگا تو نے مجھے کھانا نہ دیا۔ اے فرزند آدم میں نے تجھ سے پانی مانگا تو نے پانی نہ دیا۔ بندہ عرض کرے گا کہ تو خود عالمین کا پالنے والا ہے میں تجھے کیسے کھانا کھلاتا، پانی پلات؟…. اللہ فرمائے گا میر افلاں بندہ تیرے پاس بھوکا پیاسا آیا مگر تو نے اسے کھانے پینے کو کچھ نہ دیا ۔ [ صحیح مسلم]
کلام صوفیاء : بابافرید فرماتے ہیں
تھیو ای دیھ ہے سائیں لوڑیں سبھ
اک چھحی بیالتا سائیں دے در واڑیے
اے فرید اللہ کی ہمسائیگی اور قربت کا آرزو مند ہے تو راستے میں پڑی گھاس کی طرح ہو جا۔ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر ہی گھاس چٹائی بن سکتی ہے اور لوگوں کی کام آتی ہے۔ ورنہ وہ بے مصرف ہے۔تلقین اسلاف: مولانا حالی فرماتے ہیں
یہی ہے عبادت یہی دین و ایمان
کہ کام آئے دنیا میں انساں کے انساں
مخلوق میں کوئی اس کو ماننے والا ہو یا نہ ماننےوالا ہو بحیثیت خالق اللہ اپنی ساری مخلوق کی کفالت فرمارہا ہے۔ جب کوئی بندہ مخلوق کی خدمت کو اپنا شعار بنا لیتا ہے تو گویاوہ اللہ کے پسندیدہ فعل کو سر انجام دیتا ہے۔ اس عمل اور اس جذبے سے اللہ تعالی سے قربت ملتی ہے۔ ایسے بندے کے دل میں اللہ تعالی کی صفت رحیمی خصوصی طور پر متحرک ہو جاتی ہے۔
سلسلہ عظیمیہ خدمت خلق کو بڑی اہمیت دیتا ہے کیونکہ حقوق اللہ کے بعد حقوق العباد کا نمبر ہے اور حقوق العباد میں کو تا ہی اللہ تعالی پسند نہیں فرماتے۔ مخلوق خدا کی خدمت کرنے سے جہاں مخلوق کو فائدہ پہنچتا ہے وہاں خدمت کرنے والے فرد کو قلیمی سکون ملتا ہے۔ خدمت خلق سلسلہ عظیمیہ کی عملی تعلیمات کا حصہ ہے۔ اس سے طالب علم کی ذہنی و فکری تربیت ہوتی ہے۔علم دین کے ساتھ ساتھ لوگوں کو روحانی اور سائنسی علوم حاصل کرنے کی ترغیب دیتا۔
فرمان الهی (1) پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے تحقیق کیا۔ اور انسان کو وہ سکھایا جو وہ نہیںجانتا تھا۔ [ سورہ علق : 1 اور 5](
2) کہو اے میرے رب میرے علم میںاضافہ فرما۔ [ سور کالا – 114]
3) پس اللہ سے وہی ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں۔[ سور و فاطر: 28]
(4) کیا اہل علم اور بے علم برا بر ہو سکتے ہیں؟[ سور از مر: 9] (5) بے شک آسمان وزمین کی پیدائش اور رات دن کے اختلاف میں عقل مندوں کے لئے نشانیاں ہیں جو کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ لیٹے اللہ کا ذکر کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی تخلیق پر نظر کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! تو نے ہم کو عبث پیدا نہیں کیا تو پاک ہے سو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔ [سورہالعام : 191-190]فرمان رسول 2 : (1) علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ [ابن ماجہ ]
بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ جنوری 2026
![]()

