سچ بولنے کی عادت
آپ کو صحت مند رکھتی ہے۔
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ سچ بولنے کی عادت آپ کو صحت مند رکھتی ہے)شمائل خان پندرہ سال سے سبزی منڈی میں کاروبار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میری روز کی آمدنی ہزاروں میں ہے مگر نہ میں سو سکتا تھا نہ اور نہ ذہنی پریشانیاں میرا پیچھا چھوڑ رہی تھیں۔ صحت بھی روز بہ روز گرتی جارہی تھی۔میرا کاروبار کچھ اس قسم کا ہے کہ اس میں تھوڑا بہت جھوٹ بھی بولنا پڑتا ہے۔اس کے بغیر مال فروخت نہیں ہوتا۔شمائل خان کا کہنا ہے کہ ایک روز میں نے بہت سا آلو دوسرے شہر سے منگوایا مگر میں نے آلو کی کوالٹی چیک نہ کی۔ منڈی میں لو بولی دیتے وقت میں نے جھوٹی قسمیں کھائیں اور بولی میں حصہ لینے والوں کو بتایا کہ یہ آلو بہت اچھی کوالٹی کے ہیں اور میں اسے معمولی قیمت پر فروخت کر رہا ہوں۔ میر امال بہت اچھی قیمت پر فروخت ہو گیا، مگر خریدار چھ ساتھ گھنٹے بعد ہی اپنے ساتھیوں کےہمراہ آن موجود ہوا۔پہلے تو اس نے تمیز سے بات کی اور کہا کہ آپ کا مال کھٹیا اور غیر معیاری ہے۔۔اُسے واپس لو“۔میں نے کہا ”جو آپ کو مال دیا تھا وہ بہترین مال تھا ہو سکتا ہے کہ آپ نے میرا مال تبدیل کر دیا ہو ۔ “آخر بات بڑھتے بڑھتے ہاتھا پائی تک پہنچی جس کی وجہ سے مجھے بہت سی چوٹیں آئیں۔ وہ لوگ تو
حضرت قلند ر ہا ہا اولیاء نے فرمایا: ایسے کام کیجیے کہ جس سے آپ خود مطمئن ہوں،آپ کا ضمیر مردہ نہ ہو جائے اور یہی وہ راز ہے جس کے ذریعے آپ کی ذات دوسروں کے لیے راہ نمائی کا ذریعہ بن سکتی ہے……
چلے گئے مگر مجھے کئی روز تک اپنا علاج کروانا پڑا۔ ان چوٹوں کی وجہ سے آنکھ بھی متاثر ہوئی۔ اس روز مجھے اندازہ ہوا کہ اگر میں سچ بولتا تو ہو سکتا ہے کہ میرا مال اتنی زیادہ قیمت پر فروخت نہ ہوتا مگر مجھے ایک سکون ضرور ہوتا اور اللہ میرے کاروبار میں برکت کے ساتھ سکون اور صحت کی دولت سے سرفراز کرتا۔شمائل خان کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعدمیں نے بیچ کا دامن تھام لیا ہے۔ اب مجھے ذہنی سکون کے ساتھ ساتھ اعتماد کی دولت بھی نصیب ہوئی ہے۔ کچھ مشکلات تو پیش آتی ہیں مگر وہ بھی آہستہ آہستہ دور ہو جاتی ہیں۔آپ نے اکثر مشاہدہ کیا ہو گا کہ زندگی کے ہر شعبے میں اللہ پر توکل رکھنے والے مجموعی طور پر صحتمند زندگی گزارتے ہیں اور ہمہ وقت فکر دنیا میں مبیکا ر ہنے والے اپنی ہی نام نہاد دنیا کو اپنی ملکیت میں لانے کے باوجود مختلف امراض کا علاج کردار ہے ہوتے ہیں۔سچائی میں بہت سے ذہنی، جسمانی اور روحانی فوائد بھی مضمر ہیں۔ سچ بولنے سے انسان کا دل مطمئن رہتا ہے۔ اس کے اندر خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے اور اسے ڈر یا خوف نہیں رہتا۔ یہی ڈر و خوف آگے چل کر بہت سے امراض کو جنم دیتا ہے۔ آپ کسی ایسے شخص سے ضرور واقف ہوں گے جو اپنی غربت کے باوجود صحت مند شخصیت اور نورانی چہرے کا مالک ہو ۔ ممکن ہے کہ وہ زندگی کی کئی بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہو ، لیکن اس کے باوجود ہر لحاظ سے صحت مند ہو! دوسری جانب آپ ایسے لوگوں کو بھی بخوبی جانتے ہوں گے جو زندگی کی تمام مادی آسائشوں سے لطف اندوزہونے کے باوجود دائم مریض ہوں۔صحت کا انحصار اس بات پر نہیں کہ بینک بیلنس کتنا ہے۔ بنگلہ کس قدر وسیع و عریض، آراستہ و پیراستہ ہے، کتنی کاروں کے مالک ہیں۔ کون سے فائیو اسٹار اور سیون اسٹار ہوٹل میں پہنچ و ڈنر لیتے ہیں۔ کتنے صاحب اقتدار لوگوں سے دیرینہتعلقات ہیں۔ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ کلی صحت کا انحصار آدمی کے بنیادی نقطہ نظر اور اس کے کردار پر مخصر ہے۔ زندگی کا ایک نظریہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہم ہر وقت زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کے لیے کوشاں رہیں یا پھر ہماری عام فکر یا میت یہ ہو کہ ہم دنیا کو کیادے سکتے ہیں۔دنیا پرست افراد جو ہر وقت حصول دنیا کے چکر میں رہتے ہیں وہ غیر ضروری تناؤ سےہم کنار ہوتے ہیں۔ماہرین نفسیات کی تحقیقات کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جھوٹ بولنے والے افراد تناؤ، ڈپریشن اور چڑ چڑے رہتے ہیں۔ یہ دباؤ اور تناؤ طرح طرح کی بیماریوں اور مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔ جھوٹ بولنے والا ہمہ وقت خائف رہتا ہے کہ کہیں اس کے جھوٹ کی قلعی نہ کھل جائے۔ جھوٹ بولنے والے کو اپنے ایک جھوٹ کی پردہ پوشی کرنے کے لیے دوسرا جھوٹ اور دوسرے کو چھپانے کے لیے تیسرا جھوٹ بولنا پڑتا ہے۔ اس طرح انسان جھوٹ کی دلدل میں دھنستا چلا جاتا ہے۔ اس دلدل سے نکلنا آسان نہیں ہوتا۔ ایک برطانوی مصنفہ نے کینسر پر ایک کتاب لکھی ہے۔ وہ اس بات کی قائل ہیں کہ کینسر کے تدارک کے لیے ہمارا رویہ ایسا ہونا چاہیے جس میں جسم اور دماغ دونوں کی صحت شامل ہو۔ مطلب یہ که انسان مختلف اعضاء اور کیمیائی مادوں سے بنی ہوئی کوئی مشین نہیں ہے جو ایک ڈگر پر چلتی رہتی ہے بلکہ انسان کی زندگی میں جہاں جسم کی اہمیت ہے وہاں جذباتی، جسمانی اور روحانی معاملات بھییکساں اہم ہیں۔جسم ، دماغ اور روح میں جو باہمی تعلق ہے وہ ہماری صحت اور تن درستی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر غذا ہمارے جسم و ذہن دونوں ہی کے لیے مفید یا مضر ہو سکتی ہے۔ ورزش سے جسم اور دماغ دونوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔ مراقبہ ناصرف ذہنی سکون فراہم کرتا ہے بلکہ یہ دل کی تقویت، سانس کی بہتری اور مدافعتی نظام کے لیے بھی اہم ہے ۔ اس سے مزاجی کیفیت پر خوش گوار اثرمرتب ہوتا ہے۔مصنفہ کی رائے میں ایک شخص جتنا زیادہ سچ بولے گا اُسے اتنی ہی خوشی ملے گی اور جتنا زیادہ خوش رہے گا اتنا ہی اس کے لیے سرطان کا امکان کم ہو گا۔بظاہر تو یہی لگتا ہے کہ سچائی ہمیں کوئی خاص فائدہ نہیں پہنچاتی لیکن ایسا نہیں ہے۔ بعض لوگ صرف عارضی کامیابی اور وقتی منفعت ہی کو پیش نظر رکھتے ہیں۔ آپ اپنے ارد گرد نظر دوڑائے اور دیکھیے کہ کتنے لوگ ہیں جو سچائی سےکامیاب ہوئے ہیں۔جھوٹ بول کر لوگ اپنی کم زوری اور بزدلی کا اعلان کرتے ہیں اور غیر ضروری تناؤ کو دعوت دیتے ہیں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ تناؤ ام الامراض ہے۔ جھوٹ بول کر ہم جسمانی اور ذہنی دباؤ کو دعوت دیتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ جھوٹ بول کر ہم وقتی فائدہ حاصل کر لیں لیکن آگے چل کر یہ فائدہنقصان میں بدل جاتا ہے۔مجھوٹ بول کر ہم ذہنی سکون سے محروم ہو جاتے ہیں اور ہماری خود اعتمادی کم ہونے کے ساتھ ساتھ ہماری شخصیت کم زور ہونے لگتی ہے۔سچ بولیے ، سچ ہی کامیابی کی راہ ہے۔سچ بولنا ایک مسلمہ اخلاقی قدر ہے۔ دنیا کے ہر مذہب نے سچائی کا راستہ اختیار کرنے کی تلقین کی۔ سچائی میں بہت سے ذہنی، جسمانی اور روحانی فوائد بھی مضمر ہیں۔ سچ بولنے سے انسان کا دل مطمئن رہتا ہے۔ اس کے اندر خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ سچ بولنے کی عادت یعنی سچائی ہمیں ذہنی دباؤ، ڈپریشن اور بہت سے امراض سے نجات دلاتی ہے تو دوسری جانب یہ ہمیں معاشرے میں عزت اور مقام بھی عطا کرتی ہے۔ بیچ کی طاقت ہمارے بزنس پر بھی ایک خوش گوار اثر چھوڑتی ہے۔ یاد رکھیے …. ! سچائی اور دیانت داری زندگی میں قدم قدم پر ہماری مدد کرتی ہے۔ حضرت قلندر بابا اولیاء نے فرمایا:ایسے کام کیجیے کہ جس سے آپ خود مطمئن ہوں ، آپ کا ضمیر مردہ نہ ہو جائے اور یہی وہ راز ہے جس کے ذریعے آپ کی ذات دوسروں کے لیے راہ نمائی کا ذریعہ بن سکتی ہے“۔
بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ جنوری 2026
![]()

