ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ایک استاد نے کلاس میں پانی سے بھرا ہوا گلاس اٹھایا اور شاگردوں سے پوچھا:تمہارے خیال میں اس گلاس کا وزن کتنا ہوگا؟”
کسی نے کہا **200 گرام**، کسی نے کہا **300 گرام**۔
استاد مسکرائے اور بولے:اصل وزن اہم نہیں… اہم یہ ہے کہ میں اسے کتنی دیر تک اٹھائے رکھتا ہوں۔”
پھر کہا:”اگر میں اسے **ایک منٹ** پکڑوں تو کچھ نہیں ہوگا۔
اگر **ایک گھنٹہ** پکڑوں تو بازو میں درد شروع ہو جائے گا۔
اور اگر **پورا دن** پکڑے رکھوں تو بازو سن ہو جائے گا۔”
شاگرد خاموشی سے سننے لگے۔
استاد نے گلاس نیچے رکھتے ہوئے کہا:
“مسئلے بھی اسی گلاس کی طرح ہوتے ہیں۔
اگر تھوڑی دیر سوچو تو ٹھیک ہے…
لیکن اگر دن رات انہی کو ذہن میں اٹھائے رکھو گے تو وہ تمہیں توڑ دیں گے۔”
پھر مسکرا کر بولے:
“ہر شام اپنے مسئلوں کا گلاس نیچے رکھ دیا کرو…
ورنہ ایک دن وہ تمہیں جینے نہیں دیں گے۔”
**سبق:**
**زندگی کے مسئلوں کو سوچو ضرور، مگر خود پر سوار مت ہونے دو۔
کبھی کبھی چھوڑ دینا بھی سکون دیتا ہے۔**
![]()

