وعدہ پورا کر لیا
انتخاب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میاں عمران
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ وعدہ پورا کر لیا ۔۔۔ انتخاب ۔۔۔۔ میاں عمران )اگر آپ نے پہلی چند سطریں پڑھ لیں، تو یقین مانیں یہ تحریر آپ کو مکمل کیے بغیر نہیں چھوڑے گی۔اج کی یہ تحریر اس ایک خوش قسمت عورت اور اس ایک خوش قسمت مرد کے بارے میں جن کو یہ شرف ملا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کا فرض ادا کیا، عین اس لمحے میں یہ کوئی آسان نہیں تھا، یہ مشکل تھا جان دینے والی بات تھی لیکن وہ گھبرائے نہیں،
وہ پیچھے نہیں ہٹے کیونکہ معاملہ اللہ کے رسول کی جان کا تھا، میں پہلے ذکر کروں گی اس عورت کی بہادری کو
کیونکہ عورت کا بہادری دکھانا یہ مرد کے بہادری دکھانے سے بڑی بات ہے کیونکہ عورت تو نزاکت کے لیے پیدا کی گئی
تھی لیکن جب بات محبتِ رسول کی آئی اور حفاظتِ رسول کی آئی تو اس نے اپنی نزاکت کو اپنے پیچھے چھوڑا
اور مردانہ صفات کو اپنے اندر داخل کیا اور وہ اللہ کے رسول کی حفاظت کرنے لگی ان کا نام نسیبہ بنتِ کعب تھا
اور وہ ام عمارہ کے نام سے بھی مشہور ہیں وہ مدینہ میں پیدا ہوئیں وہیں پہ پرورش پائی وہ بنو نجار قبیلے سے تھیں جو نبی کریمؐ کے ننحالی رشتہ دار تھے انہوں نے اسلام کے
بارے میں اس وقت سنا جب نبی کریم ابھی مدینہ تشریف بھی نہیں لائے تھے اور انہوں نے انتظار نہیں کیا جب مدینہ
کے ستر آدمی انہیں رسول اللہ سے بیعت کرنے کے لیے خفیہ طور پر مکہ کا سفر کیا تو وہ بھی ان کے ساتھ گئیں، ستر
مرد اور دو عورتیں اور دو عورتوں میں وہ ایک شامل تھیں نبی کریمؐ نے ان سے زبانی بیعت لی، نبی کریمؐ نے فرمایا کہ
میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا لیکن وہ وہاں موجود تھیں اور اپنے موجود ہونے پر قائم رہیں یہی بات کافی ہے یہ
بتانے کے لیے کہ وہ کیسے ان کا پورا خاندان ایمان لے آیا ان کے شوہر اور ان کے دو بیٹے حبیب اور عبداللہ اور ان کے
بھائی یہ سب انصار کی ابتدائی صف میں شامل تھے اور پھر احد کا ایک دن آیا احد کے میدان میں اسی طرح آئیں
جیسے مومن عورتیں آیا کرتی تھیں پانی کی مشک کے ساتھ مرہم پٹی کا سامان لے کر زخمیوں کی خدمت کے لیے
تیار وہ لڑنے کے لیے نہیں آئیں تھیں یہ کوئی منصوبہ نہیں تھا اور پھر تین سو آدمی لڑائی شروع ہونے سے پہلے ہی
واپس لوٹ گئے، بہانے کرتے ہوئے الزامات لگاتے ہوئے جیسے آج کل کے بہت سارے لوگ یہ کرتے ہیں کہ کسی مسلمان کو
اپنے حق کی لڑائی لڑتے ہوئے دیکھیں تو ان پر الزامات تراشی کرتے ہیں، بہانے بناتے ہیں اور پھر ان کی مخالفت
کرتے ہیں۔ اس دن منافقین نے یہی کیا اور اپنے تین سو آدمی لے کر مدینہ واپس چلے گئے۔ مسلمان سات سو رہ گئے
تین ہزار کے مقابلے میں اور پھر تیر انداز پہاڑی سے نیچے اتر آئے اور سب کچھ بکھر گیا۔ افرا تفری کے درمیان خبر پھیل
گئی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے۔ لوگوں نے اپنے ہتھیار پھینک دیے، لوگوں نے اپنے زِرہیں اتار دیں، لوگ
واپس پلٹنے لگے اور وہ یہ سب ہوتا ہوا دیکھ رہی تھی۔ پھر انہوں نے ایک ہولناک فیصلہ کیا، انہوں نے میدان سے ناامید
پلٹتے ہوئے ایک آدمی کو روکا، اپنے ہتھیار مجھے دے دو، یہ ہتھیار اس کو دے دو جو لڑنے کی کوشش کرے گا۔ اس
واپس پلٹتے شخص نے اپنی تلوار اور اپنی ڈھال چھوڑ دی، حضرت نسیبہ بنت کعب نے اس کو اٹھایا اور وہ بھاگیں، نبی
علیہ السلام سے دور نہیں بلکہ نبی علیہ السلام کی طرف بھاگنے لگیں۔ جب وہ نبی علیہ السلام تک پہنچیں تو وہاں
بہت کم لوگ باقی رہ گئے تھے، دس آدمی شاید اس سے بھی کم۔ ان کے شوہر وہاں تھے، ان کے دونوں بیٹے بھی وہاں
تھے۔ وہ نبی علیہ السلام کے ساتھ کھڑی ہو گئیں اور لڑنا شروع کر دیا۔ بعد میں نبی علیہ السلام نے فرمایا تھا ایک
موقع پر کہ میں جدھر بھی دیکھتا تھا، دائیں بائیں اپنے سامنے اور پیچھے میں نسیبہ بنت کعب کو اپنی حفاظت کے
لیے لڑتے ہوئے ہی دیکھتا تھا۔ ذرا سوچیں کہ اس کے لیے کتنی ہمت درکار تھی، صحابہ کرام کی بہترین جماعت وہ
عظیم ترین نسل جو کبھی زمین پر چلی تھی وہ پیچھے ہٹ گئی تھی، ناامید ہو گئی تھی، تلواریں گردنوں پر گر رہی
تھیں، زمین خون سے بھر چکی تھی، چیخ و پکار اور ہر طرف افرا تفری اور وہ ایک نازک جان نزاکت سے بھری ایک
عورت آگے بڑھ رہی تھی۔ لاپرواہی کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لیے کہ وہ رسول اللہ سے اپنی جان سے بھی بڑھ کر
محبت کرتی تھی ایسی محبت میں پھر انسان نہیں سوچتا بس قدم خود ہی اگے بڑھ جاتے ہیں انسان کو سوچنا نہیں
پڑتا اسی دوران ان کے بیٹے عبداللہ پر وار ہوا وہ بری طرح زخمی ہو گئے خون بہنے لگا وہ گر پڑے لیکن وہ نسیبہ بنت
کعب لڑائی سے نہیں رکی ایک لمحے کے لیے اپنی تلوار رکھی اپنے ہاتھوں سے اپنے بیٹے کے زخم کو باندھا پھر ان کی
طرف دیکھا اور فرمایا بیٹا اٹھو دوبارہ اٹھو اللہ کے رسول کا دفاع کرو پھر انہوں نے دوبارہ تلوار اٹھا لی نبی کریم علیہ
السلام یہ سب دیکھ رہے تھے آپ نے فرمایا اے نسیبہ تم جیسا کون کر سکتا ہے نبی کریم علیہ السلام نے اس شخص
کو دیکھا جس نے نسیبہ بنت کعب کے بیٹے عبداللہ پر وار کیا تھا آپ نے اس کی طرف اشارہ کیا وہ فوراً اس کے
پیچھے نکل پڑیں میدان جنگ میں اس کا تعاقب کیا پھر اس پر وار کیا وہ گر پڑا تو صحابہ کرام نے اسے ختم کر دیا
نبی کریم مسکرائے اور فرمایا الحمد للہ اللہ نے تمہیں اپنی آنکھوں سے اپنے بیٹے کا بدلہ دیکھنے دیا دن ختم ہوا تو وہ
تیرہ زخم کھا چکی تھی ان کے کندھے پر ابن قمیہ کا وار تھا وہی شخص جس نے رسول اللہ کے دندان مبارک شہید
کیے تھے اتنا گہرا تھا اسے بھرنے میں پورا ایک سال لگ گیا اس سب کے درمیان وہ خود زخمی بیٹا ان کے پاس زخمی
پڑا ہوا دشمن اب بھی حملہ آور ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف متوجہ ہوئیں اور عرض کیا اے اللہ کے
رسول اللہ سے دعا کیجئے ہم جنت میں آپ کے ساتھی بن جائیں نبی کریم علیہ السلام نے ہاتھ اٹھائے اور دعا فرمائی
اے اللہ اس خاندان کو جنت پر میرا ساتھی بنا دے وہ کہنے لگیں اب اس کے بعد مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ
میرے ساتھ کیا ہوتا ہے وہ احد میں زندہ رہیں پھر خندق میں پھر حدیبیہ میں پھر حنین میں قیامت تک آنے والے
بزدلوں کو یہ بتانے کے لیے کہ جنگیں موت کا پیش خیمہ نہیں ہوا کرتی موت تو اللہ کے حکم سے آتی ہے اس دن کے
بعد رسول اللہ جس جس معرکے میں تشریف لے گئے وہ ہر جگہ موجود رہیں اب کسی میں یہ جرت نہیں رہی کہ ان
سے کہا جائے کہ تم نہیں آ سکتیں پھر مسیلما کذاب نے حبیب کو قید کر لیا وہی حبیب جو نسیبہ بنت کعب کا بیٹا
تھا اسے اپنی قوم کے سامنے کھڑا کیا اور پوچھا کیا تم گواہی دیتے ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول
ہیں کہا بالکل میں گواہی دیتا ہوں پھر اس نے کہا کہ کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں مسیلمہ اللہ کا رسول ہوں حبیب نے
جواب دیا میں نہیں سنتا آپ کی بات کو مجھے کچھ نہیں سنائی دے رہا اس نے تین بار پوچھا تینوں بار حبیب نے یہی
کہا کہ مجھے تیری بات سنائی نہیں دے رہی پھر مسیلمہ نے انہیں سخت اذیت دی اور شہید کر دیا لیکن وہ ہر حال میں
یہی کہتے رہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی اللہ کے رسول ہیں یہ خبر ان تک پہنچی
صرف یہ نہیں کہ ان کا بیٹا شہید ہو گیا بلکہ یہ بھی کہ وہ کیسے شہید ہوا پھر انہوں نے جو جواب دیا آج یہ جواب ہر
ماں کے دل پر لکھا ہوا ہونا چاہیے انہوں نے کہا کہ میں نے حبیب کو اسی دن کے لیے تیار کیا تھا اور میں اس کے بدلے
اپنا اجر اللہ سے چاہتی ہوں پھر انہوں نے ایک اور بات کہی کہ اگر میں زندہ رہی اور مسیلمہ کو دیکھا تو میں اس کی
بیٹیوں کو اس پر رلاؤں گی کیونکہ انہوں نے ایک عہد کر لیا ایک اللہ سے وعدہ کر لیا وہ ساٹھ سال سے زیادہ عمر کی
تھی جب مسیلمہ کے خلاف نکلنے کی پکار آئی تو انہوں نے اپنا عہد یاد کیا اور روانہ ہو گئیں اپنے ایک باقی رہ جانے
والے بیٹے عبداللہ کے ساتھ اور ایک ہی بازو کے ساتھ کیونکہ دوسرا بازو وہ پہلے ہی اللہ کی راہ میں کھو چکی تھی
میدان جنگ لگا تو وہ بار بار پوچھتی رہیں اللہ کا دشمن کہاں ہے مجھے دکھاؤ کہ وہ کہاں ہے اس دن وحشی بن
حرب جس نے اللہ کے رسول کے چچا حضرت حمزہ کو شہید کیا تھا پھر توبہ کی تھی اس وحشی نے وہی نیزہ
پھینکا جو مسیلمہ کو لگا اور پھر ان کے بیٹے حضرت عبداللہ نے اس مسیلمہ کو ختم کر دیا اور یوں اس خاندان
نے اپنا وعدہ پورا کر لیا آئیے وہاں واپس چلتے ہیں جہاں سے بات شروع ہوئی تھی احد کے دن انہوں نے تلوار اٹھائی
نہ وہ باقاعدہ تربیت یافتہ تھیں نہ زرہ پہنے ہوئے تھیں وہ بس اس لیے آگے بڑھ گئیں کیونکہ رسول اللہ خطرے میں
تھے یہ کوئی عام معنی میں بہادری نہیں تھی یہ وہ کیفیت تھی جو محبت انسان کے دل میں مکمل ہو جائے تو یہ والی
کیفیت پیدا ہوتی ہے ایسی محبت میں حساب نہیں ہوتا پھر عمل ہوتا ہے سوچیں نہیں ہوتی، صرف فیصلے ہوتے ہیں۔
بہت کے دن انہوں نے تیرہ زخم سہے، ایک جھوٹے نبی کے ہاتھوں اپنا بیٹا کھو دیا، ایک اور معرکے میں اپنا بازو بھی
کھو دیا، پھر بھی ایک بازو کے ساتھ دوبارہ لڑی اور اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ان کے دوسرے بیٹے نے اپنے شہید
بھائی کا بدلہ لے لیا۔ نسیبہ نے یہ کبھی انتظار نہیں کیا کہ وہ مکمل تیار ہو جائیں، انہوں نے مثالی حالات کے انتظار
نہیں کیا، جو کچھ میسر تھا اسی کو تھاما اور آگے بڑھیں۔ امت محمد الرسول اللہ تم کس انتظار میں ہو؟ اس انتظار
میں کہ مکمل ہو جاؤ، اس انتظار میں کہ تمہارے پاس لوہے کی تعداد زیادہ ہو جائے، اس انتظار میں کہ تمہارے پاس
پیسہ بڑھ جائے، انتظار کرتے رہو گے تو یہ بات ثابت ہونے لگے گی کہ تمہارا یقین اس لوہے پر ہے اللہ پر نہیں۔ جو میسر
ہے اس کو تھامو اور پھر یہ بات یقین رکھو کہ تمہیں ایک دن لوہے سے لوہا بجانا ہے یا پھر تمہیں ختم ہونا ہے۔ فیصلہ
تمہارا ہے اور اب میں تمہیں بتاتی ہوں کہ پھر ایک دوسرے مرد نے بھی اللہ کے رسول کی حفاظت کی۔ اس ایک
خوبصورت مرد کا نام طلحہ بن عبیداللہ تھا۔ لمبے قد کا، گندمی رنگ کا، خوبصورت شخصیت کا، قبیلہ بنو تمیم ہے،
حضرت ابوبکر کے قریبی رشتہ دار تھے۔ وہ کپڑے کے تاجر تھے جو شام اور یمن کے تجارتی راستوں پر تجارت کرتے، ان
کا کاروبار مہنگے کپڑوں پر مشتمل تھا۔ ان کے پاس یاقوت جڑی سونے کی انگوٹھی بھی تھی۔ وہ اپنی کمائی خود کرتے
تھے، اپنی پہچان خود بناتے تھے اور کسی کے محتاج نہیں تھے۔ اٹھارہ سال کی عمر تک ان کے پاس دنیا کی وہ سب
چیزیں تھیں جن کی ایک انسان خواہش کرتا ہے۔ وہ شام کے تجارتی راستے پر تھے جب ان کی ملاقات ایک عیسائی راہب
سے ہوئی۔ راہب نے ان سے پوچھا، کیا احمد ظاہر ہو چکے
ہیں؟ طلحہ بن عبیداللہ کو اس وقت احمد کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا لیکن یہ الفاظ ان کے دل میں اتر گئے۔
وہ مکہ واپس آئے اور سیدھے حضرت ابوبکر کے پاس گئے۔ اسی دن انہوں نے اسلام قبول کیا، اسلام کے بالکل ابتدائی
دنوں میں۔ ابھی وہ اس وقت صرف 18 سال کے تھے
اس کے اپنے خاندان نے اس بات کو اچھا نہیں سمجھا گلیوں میں لوگوں نے یہ منظر بھی دیکھا کہ ایک نوجوان جس کے
ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے ہیں اور ایک ہجوم ان کے سر پر مکے برسا رہا تھا اور اس کے پیچھے ایک عورت تھی اس کی
ماں جو اسے کوڑے مار رہی تھی اور بدترین الفاظ چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی لیکن وہ اٹھارہ سال کا نوجوان
پیچھے نہیں ہٹا پھر وقت گزرتا ہے تین ہجری آتا ہے اور غزوہ احد ہوتا ہے طلحہ بن عبیداللہ غزوہ بدر میں شریک
نہیں ہو سکے تھے کیونکہ نبی علیہ السلام نے انہیں ابو سفیان بن حرب کے قافلے کی خبر لانے کے لیے بھیجا تھا وہ واپس آئے تو جنگ ختم ہو چکی تھی اس بات پر انہوں نے
خود کو بہت ملامت کیا اس لیے جب احد کا وقت آیا تو انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ وہ پیچھے نہیں رہیں گے جنگ کا
آغاز اچھا ہوا لیکن پھر کچھ تیر انداز اپنی جگہیں چھوڑ گئے دشمن کا گھڑ سوار دستہ حملہ آور ہوا اور مسلمان
منتشر ہو گئے پھر صفوں میں آواز پھیلی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کر دیا گیا ہے ایسا نہیں تھا لیکن وہ
شدید خطرے میں تھے مشرکین کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام معلوم ہو گیا تھا آپ زخمی تھے اور ایک گڑے
میں گر گئے تھے تیروں کی بارش ہو رہی تھی طلحہ بن عبیداللہ راستہ بناتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچے
اور ایک ہاتھ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گڑے سے نکال رہے تھے اور دوسرے ہاتھ سے دشمن کو روک رہے
تھے جب بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آواز لگائی کہ کون اللہ کے رسول کا دفاع کرے گا طلحہ بن
عبیداللہ ہمیشہ آگے بڑھے اور خود کو تیروں کے سامنے ڈال دیتے اپنے جسم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو
ڈھانپ لیتے زخم پر زخم ان کے ساتھ انصار کے گیارہ آدمی تھے وہ ایک ایک کر کے شہادت کے رتبے پر فائز ہوتے گئے
یہاں تک کہ آخر میں صرف وہی رہ گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو احد کی پہاڑ کی ایک غار تک پہنچنا تھا لیکن
اس سے پہلے ایک بڑی چٹان چڑھنا ضروری تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دندان مبارک زخمی ہو چکے تھے
چہرہ خون سے لبریز تھا طلحہ بن عبیداللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی اور ہر طرف سے آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کو ڈھانپ رہے تھے اپنے زخموں کے باوجود آگے بڑھتے جا رہے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو محفوظ
مقام تک پہنچا رہے تھے آخر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک غار تک پہنچا دیا اور پھر خود گر پڑے
جب سب کچھ ختم ہوا تو لوگوں نے طلحہ بن عبیداللہ کی طرف دیکھا ایک ہاتھ مفلوج ہو چکا تھا بعد میں ان کی
بیٹی نے بتایا کہ اس دن چوبیس زخم ایسے تھے جو کبھی مکمل طور پر ٹھیک نہیں ہوئے لیکن وہ اب بھی زندہ تھے
سانس لے رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے طلحہ بن عبیداللہ کے چہرے کی طرف دیکھا اور خوشی سے
فرمایا معلوم کر لی ہے، نبی کریمﷺ نے فرمایا جو کسی زندہ شہید کو دیکھنا چاہتا ہے وہ طلحہ کو دیکھے اور آگے
فرمایا احد کا دن تو طلحہ کا ہی دن تھا، تم سوچو گے کہ یہ سب کافی تھا ایک مفلوج ہاتھ ایسے زخم جو کبھی ٹھیک
نہیں ہوئے اور جنت کی خوشخبری بھی مل چکی تھی لیکن طلحہ بن عبید اللہ پھر بھی بعد میں آنے والی جنگوں میں
اپنا حصہ لینا جاری رکھا جب کچھ لوگ گھروں میں رہنے کے بہانے ڈھونڈتے تھے آج کی طرح جو لوگ طعنے دیتے تھے
آج کی طرح جو لوگ کہتے تھے گھروں میں بیٹھتے تو مارے نہ جاتے آج کی طرح جو لوگ کہتے تھے کہ صلح کر لیتے تو
یہ انجام نہ دیکھنا پڑتا آج کی طرح جو لوگ گھروں میں بیٹھے رہتے بہانے بناتے اور تم کترہ عورتوں میں رہتے آج کی
طرح ایسے وقت میں طلحہ بن عبید اللہ میدان میں جانے کے مواقع تلاش کرتے تھے روایت میں آتا ہے کہ طلحہ بن
عبید اللہ کی دولت بہت زیادہ ہو گئی تھی لیکن انہوں نے اس میں سے تقریباً سب کچھ اللہ کی راہ میں دے دیا ایک
رات وہ گھر آئے تو پریشان تھے ان کی اہلیہ نے پوچھا کہ کیا بات ہے انہوں نے کہا میرے پاس اتنی دولت ہے قیامت کے دن
اللہ مجھ سے اس کے بارے میں پوچھے گا ان کی اہلیہ نے کہا آپ سب کچھ خرچ کیوں نہیں کر دیتے مجھے کسی چیز
کی ضرورت نہیں اللہ ہمیں کھلا رہا ہے وہ فوراً اٹھے اور سب تقسیم کر دیا پھر اللہ نے انہیں اور دیا اور انہوں نے وہ
بھی صدقہ کر دیا اور پھر ایک دن صورت الاحزاب کی آیت نمبر تئیس نازل ہوئی
مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ ۖ فَمِنْهُم مَّن قَضَىٰ نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّن يَنتَظِرُ ۖ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا
مومنوں میں کچھ ایسے مرد ہیں جنہوں نے اللہ سے جو عہد کیا تھا اسے سچ کر دکھایا، پھر ان میں سے کچھ وہ ہیں جو اپنا وعدہ پورا کر چکے (اور شہید ہو گئے) اور کچھ وہ ہیں جو انتظار کر رہے ہیں، اور انہوں نے اپنے عہد میں کوئی تبدیلی نہیں کی
صحابہ کو ہمت نہ ہوئی کہ پوچھیں کہ یہ کن لوگوں کے بارے میں ہے ایک دیہاتی نے براہ راست رسول اللہ سے پوچھ
لیا آگے سے خاموشی ایک بار دو بار تین بار نبی کریمﷺ نے جواب نہیں دیا پھر طلحہ بن عبید اللہ مسجد میں داخل
ہوئے نبی کریمﷺ نے ان کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ یہ آیت نازل ہوئی اس آدمی کے بارے میں طلحہ بن عبیداللہ
کی زندگی کا ہر پہلو بامقصد تھا یہاں تک کہ ان کے بچوں کے نام بھی محمد، عمران، موسیٰ، یعقوب، اسماعیل، عیسیٰ
ایک کے بعد ایک بیٹے سب کے نام اللہ کے انبیا کے نام پر انہوں نے احد کے میدان میں اپنے جسم کے ذریعے کہا میں
اس دین کے لیے سب کچھ دے دوں گا اور اپنے بچوں کے ناموں کے ذریعے کہا یاد رکھو کہ ہمارا تعلق کس سے ہے ہم
کس کے ہیں وقت بڑھتا گیا نبی کریم علیہ السلام اپنے رب کے پاس چلے گئے امت ایک مشکل دور میں داخل ہو گئی اور
طلحہ بن عبیداللہ اب احد والے نوجوان نہیں رہے تھے اب وہ ایک بزرگ تھے اور امتحان بھی بدل چکا تھا وہ حضرت
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے لیے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے نکلے تھے پھر حضرت علی ابن طالب نے ان سے بات کی
اور انہیں وہ بات یاد دلائی جو نبی کریم علیہ السلام نے فرمائی تھی طلحہ رک گئے انہوں نے اپنا گھوڑا موڑ لیا وہ
میدان جنگ چھوڑ کر واپس جا رہے تھے اسی دوران ایک تیر آ لگا زخم سے شدید خون بہنے لگا وہ زندہ نہ رہ سکے ان
کی پوری زندگی میں چوہتر زخم تھے ہر ایک اللہ کی راہ میں حضرت علی باہر آئے انہوں نے طلحہ بن عبیداللہ کو
زمین پر پڑا ہوا دیکھا وہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے انہوں نے طلحہ کا سر اپنی گود میں اٹھایا ان کے چہرے سے مٹی
صاف کی اور رو پڑے انہوں نے کہا میرے نزدیک تم اس سے کہیں زیادہ معزز اور محبوب ہو کہ میں تمہیں اس حال میں
دیکھوں پھر فرمایا میرے نبی کریم علیہ السلام کو فرماتے ہوئے سنا تھا کہ جنت میں میرا پڑوسی طلحہ ہوگا اور انہوں نے خود ان کی نماز جنازہ پڑھائی
![]()

