Daily Roshni News

وقت سائنس ، کوانٹم فزکس اوور روحانی  علوم کی روشنی  میں

وقت سائنس ، کوانٹم فزکس اوور روحانی  علوم کی روشنی  میں

ہالینڈ(دیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ وقت سائنس ، کوانٹم فزکس اوور روحانی  علوم کی روشنی  میں  )ہوتی جائے گی اور اور یہ گھٹنے یا سکڑنے لگے گی۔ یہ نظریہ سائنسی دنیا میں ایک بڑے مدوجزر کا باعث بنا۔ نظریہ اضافیت کے مطابق اگر کوئی شے روشنی کی رفتار سے سفر کرنے لگے تو اس کے لئے وقت صفر ہو جائے گا۔ آئن اسٹائن کے مطابق اگر کوئی شے روشنی کی رفتار سے سفر کرنے لگے تو وہ توانائی یا روشنی کی لہروں میں تبدیل ہو جائے گی۔ اس بات سے ہم یہ نتیجہ بھی اخذ کر سکتے ہیں کہ زمان در حقیقت روشنی ہے اور سیبی مادہ یا مکانیت کی تخلیق کرتا ہے۔ 1993ء میں آئی بی ایم ٹی ہے واٹسن ریسرچ سینٹر نیو یارک کے طبیعات داں چارلس بینٹ اور ان کے ساتھی محققین نے اس امر کی تصدیق کی کہ روشنی کی رفتار سے سفر ممکن ہے۔ اس نظریہ کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کوانٹم فنر کس سے مدد لی گئی۔کو انٹم فزکس کے سائنس دانوں نے دعوی کیا ہے کہ یہ ممکن ہے کہ انسانوں کو کائنات کے ایک گوشے سے کسی بھی دوسرے گوشے میں روشنی کی رفتارسے منتقل کیا جاسکے۔موجودہ دور کے معروف سائنس دان اسٹیفن ہاکنگ نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ مکان زمان سے مکمل طور پر الگ اور آزاد نہیں ہے بلکہ وہ اس سے مل کر ایک اور شے بناتا ہے جسے زمان و مکان (time & space) کہتے ہیں۔ زمان و مکان کی حیثیت کے پیش نظر کہیں وقت مسلسل پھیلا ہوا دکھائی دیتا ہے تو کہیں وہ شکرڑ کر محضچند ثانیوں میں سمٹ آتا ہے۔نظرية اضافیت کے مطابق مطلق وقت Absolute Time کچھ معنی نہیں رکھتا۔ ہر فرد اور شے کے لئے وقت کا ایک الگ پیمانہ ہوتا ہے جس کا انحصار اس حقیقت پر ہوتا ہے کہ وہ کس اسپیس میں کس طریقے سے محو حرکت ہے۔ہم جس چیز کو وقت سمجھتے ہیں، دراصل یہایک طریقہ ہے جس کے ذریعے ہم ایک لمحے کا موازنہ دوسرے لمحے سے کرتے ہیں۔

یہ تو تھی وقت کی سائنسی تشریح۔ اب الہامی رہنمائی کی طرف آتے ہیں۔ قرآن پاک سے وقت کی مختلف جہتوں اور زون کے بارے میں رہنمائی ملتی ہے۔ قرآنی آیات سے پتہچلتا ہے کہ وقت مختلف حالات میں مختلف رفتار سے بڑھتا ہے۔ کائنات کے مختلف خطوں میں وقت کی کیفیت و کمیت میں بہت فرق ہوتا ہے۔قرآن کریم میں ارشاد ہے:وہی ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کومنور کیا اور اس کے گھنے بڑھنے کے لئے منزلیں ٹھیک ٹھیک مقرر کیں، تاکہ تم برسوں اور تاریخوں کے حساب معلوم کرو“۔ [ سور و یونس (10): 5] اس آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ چاند، سورج اور زمین کی انفرادی حرکت اور ان میں روشنی، حرارت اور کشش کے باہمی واقعاتی ربط سے سے وقت کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ جب انسان موت کے بعد اس دنیا کے زون سے نکل جائے گا تو وہ محسوس کرے گا کہ اس کو بہت مختصر زندگی دی گئی: و جس دن (بروز قیامت) وہ تمہیں پکارے گا تو تم اس کی تعریف کے ساتھ جواب دو گے اور خیال کروگے کہ تم (دنیا میں) بہت کم (مدت)رہے۔ “ [ سورہ بنی اسرائیل (17): 52] قرآن کریم میں بے انتہا تیز رفتاری کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کا ذکر بھی ملتا ہے۔اور ہمارا حکم تو فقط یک بارگی واقع ہو جاتا ہے، جیسے آنکھ کا جھپکنا“۔ [سورہ قمر (54):50] کئی آیات سے یہ رہنمائی ملتی ہے کہ وقت مختلف حالات میں مختلف رفتار سے بڑھتا ہے۔وہ آسمان سے زمین تک ہر کام کی تدبیر کرتا ہے

اور پھر ہر معاملہ اس کے پاس اس دن پیش ہو گا جس کی مقدار تمہارے حساب سے ایک ہزار سال ہوگی۔“ [سورہ سجدہ (32) آیت: 5 ]بیشک تمہارے پروردگار کے نزدیک ایک روز تمہارے حساب کے رو سے ہزار برس کے برابر ہے۔[ سوره حج (22) آیت : 47 ]ترجمہ: جس کی طرف روح اور فرشتے چڑھتے ہیں ، اس روز جس کا اندازہ پچاس ہزار برس کا ہوگا ۔ [سورہ معارج (70): آیت 4]واقعہ معراج وقت کے مختلف زونز اور وقت کے مختلف اسرار کی طرف نوع انسانی کی رہنمائی کرتا ہے۔ حضرت سلیمان، حضرت عزیر اور اصحاب کہف کے واقعات بھی وقت کے بارے میں انسان کو تحقیق کیدعوت دے رہے ہیں۔مسلم فلسفیوں فارابی را بن کر شد اور ابن سینا کے نظریات پر غزالی اور ابن رشد کے درمیان مباحث میں زمان کی ماہیت پر دلچسپ بحث مالتی ہے۔ اسی طرح ابن مسکویه، رازی، رومی، شاہ ولی اللہ اور دیگر مسلم مفکرین نے اس حوالے سے مخیال افروز نکات بیان کئے جو اس مسئلے کی مختلف جہتوں کی جانب اشارےکرتے ہیں۔اسلامی تصوف میں ” زمان و مکان کے موضوع پر خالصتا علمی نوعیت کی بحث کی گئی ہے اور ان کی تشریحات بھی عام لوگوں کی شعوری استعداد سے بہت بلند ہیں۔ اس لیے جہاں کہیں بھی Time Space & زمان و مکان کا تذکرہ ہوتا ہے، وہاں مسلم صوفیاء کے ارشادات کا تذکرہ خال خال ہی کیا جاتا ہے۔ ضرورت ہے کہ ان تمام افکار و مباحث کا جائزہ لے کر تجسس اور تحقیق کو آگے بڑھایا جائے۔

بشکریہ  ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ جنوری 2026

Loading