Daily Roshni News

وقت سائنس ، کوانٹم فزکس اوور روحانی  علوم کی روشنی  میں۔۔۔قسط نمبر1

وقت سائنس ، کوانٹم فزکس اوور روحانی  علوم کی روشنی  میں

ہالینڈ(دیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )وقت در حقیقت کیا ہے۔یہ سوال زمانہ قدیم ہی سے دانش وروں اور سائنس دانوں کے لئے معمہ رہا ہے۔ فلاسفر، علماء نے اپنی اپنی حدود فکر کے مطابق وقت کے بارے میں مختلف نظریات پیش کئے۔دو ہزار سال پہلے کے دانشوروں کا یہ مانا تھا کہکوئی سے دو واقعات کے درمیانی وقفہ ہی وقت ہے جس کی پیمائش ممکن ہے اور وقت سب کے لئے ایک سا ہوتا ہے۔ کوئی کہتا کہ وقت ایک بہتی نہر کی طرح ہے جو منظم طریقے سے اپنے منبع سے مخرج تک بہتا رہتا ہے۔ اس بات کا مطلب یہ ہو گا کہ وقت کی ابتداء بھی ہے اور انتہاء بھی۔ تو یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اس کی ابتداء ہے تو یہ کہاں سے آیا ہے؟ اور انتہاء ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب وقت نہیں ہو گا…. بعض فلسفیوں کا عقیدہ تھا کہ “وقت وجود نہیں رکھتا بلکہ وقت در اصل دو حرکتوں کے درمیانی فاصلےکا نام ہے ۔ کوئی مرتب شعور مخلوق جیسے انسان اس فاصلے کا احساس کرے تو یہ فاصلہ اس کے لئے زمانہ کی صورت میں سامنے آتا ہے“۔ یعنی جن واقعات سے ہم گزرتے ہیں وہی ہمیں وقت کے گزرنے کا احساس دلاتے ہیں …. تو کیا جن واقعات سے ہم گزرتے ہیں وہ پہلے سے تیار شدہ ہیں ؟…. بعض لوگ کہتے ہیں کہ شاید ایسا ہی ہے، یعنی واقعات پہلے سے ہی مرتب اور منظم ہیں جن کے درمیان وقت کے متعین زمانے حائل ہیں یا جیسا کہ کسی نے کہا ہے کہ واقعات وقوع پذیر نہیں ہوتے، بلکہ ہم ان سے گزرتے ہیں… کچھ دوسرے فلسفیوں کا نظریہ تھا کہ ” وقت ایسے چھوٹے چھوٹے ذرات پر مشتمل ہے جنہیں ہمارے حواس خمسہ محسوس نہیں کر پاتے۔ یہ ذرات مسلسل حرکت کر رہے ہیں یعنی ماضی سے مستقبل کی طرف سفر کر رہے ہیں“۔

یونانی فلسفیوں نے اس کے علاوہ زمانہ کی ایک اور قسم بھی متعارف کرائی جسے اہدیت کا نام دیا گیا۔ ان فلسفیوں کے بقول غیر متحرک زمانہ مافوق الفطرتہستیوں یا دیوتاؤں کا زمانہ ہے اور متحرک زمانہمخلوقات کا زمانہ ہے۔ تمام موجودات و مخلوقات میںتبدیلیاں واقع ہوتی رہتی ہیں اس لیے ان کا تعلقمتحرک زمانے سے ہوتا ہے۔ ان کا مخیال تھا کہ اگر کوئی مخلوق حرکت پذیر زمانے میں واقع ہونے والی تبدیلیوں کو روکنے پر قادر ہو جائے تو وہ بھی دیوتاؤںکے برابر ہو جائے گی۔دوسری جانب مشہور یونانی مفکر ار سطو متحرک یا غیر متحرک وقت کے بجائے مطلق وقت یا زمان غیر تغیر Absolute Time پر یقین رکھتا تھا ۔ اس کا خیال تھا کہ دو واقعات کا درمیانی وقت بغیر کسی ابہام کے ناپا جاسکتا ہے اور اسے کوئی بھی ناپے یہ وقتیکساں ہو گا۔1686ء میں نیوٹن نے وقت کے اس نظریہ کو

اساس بناتے ہوئے اپنے نظریات حرکت پیش کیے۔ نیوٹن کے نظریات کے مطابق وقت ہر آدمی کے لئےایک ہی ہے، بھلے سے وہ کہیں بھی کیوں نہ ہو اور کسیبھی رفتار سے حرکت کر رہا ہو ….بیسویں صدی عیسوی تک سائنس دان وقت کو مطلق گردانتے تھے۔ ان کے خیال میں وقت ایک ایسی ساکن چیز تھی جو کبھی تبدیل نہیں ہوتی۔ اس کے علاوہ ان کی نظر میں وقت اپنی ذات میں مستقل تھا اور ایک منظم بہاؤر کھتا تھا۔ اس وقت تک سائنس دان اس بات تک نہیں پہنچ پائے تھے کہ وقت است یا تیز ہوتا ہے پارک بھی سکتا ہے…..بیسویں صدی کے آغاز تک طبیعات کی دنیا میں نیوٹن کے اصولوں کا راج تھا۔ آئن سٹائن وہ پہلی شخصیت تھی جس نے بتایا کہ مادہ اور توانائی دوالگ الگ چیزیں نہیں بلکہ سکے کے دورخ ہیں اور مادہ اور توانائی ایک دوسرے میں ڈھل سکتے ہیں اور یہ بھی کہ زمان و مکان بھی ایک ہی حقیقت کے دورخ ہیں۔ جب آئن سٹائن نے یہ بات کہی اس وقت سائنسدانوں کی نظر میں زمان و مکان میں سفر ایک نا ممکن اور غیر منطقی سی بات تھی۔ آئن سٹائن نے یہ نظریہ پیش کیا کہ خلا اور وقت کا تانا بانا ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔ اسے آئن سٹائن نے ” زمان و مکان کا پھیلاؤ کا نام دیا۔ آئن سٹائن کے اس نظریہ اضافیت نے سائنس دانوں کے لئے تحقیق کی نئی راہیں ہموار کیں۔ 1905ء میں آئن اسٹائن کے پیش کردہ نظریہ اضافیت کے مطابق وقت کی رفتار کی تبدیلی کا انحصار کسی مادی شے کی رفتار پر اور کسی میدان کشش ثقل میں اس کے محل پر ہوتا ہے۔ جیسے جیسے مادی شے کی رفتار بڑھتی جائے گی، ویسے ویسے وقت کی رفتار کم۔۔۔جاری ہے۔

بشکریہ  ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ جنوری 2026

Loading