Daily Roshni News

وہ عالم جس نے حکومت کا سب سے بڑا عہدہ ٹھکرا دیا اور بدلے میں روزانہ بیس کوڑوں کی سزا اور قید کو قبول کر لیا

وہ عالم جس نے حکومت کا سب سے بڑا عہدہ ٹھکرا دیا اور بدلے میں روزانہ بیس کوڑوں کی سزا اور قید کو قبول کر لیا

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )عباسی حکمرانوں نے فیصلہ کیا کہ سلطنت کا سب سے بڑا عدالتی عہدہ، قاضی القضاۃ، ایک ایسے عالم کو دیا جائے جس کی دیانتداری اور علم پر پوری امت کا اعتماد ہو۔ اردو مضامین و مقالات کی ویب سائٹ پر شائع مضمون کے مطابق جب یہ پیشکش امام ابو حنیفہ کو کی گئی تو انہوں نے صاف انکار کر دیا، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ حکومتی عہدہ قبول کرنے سے ان کی علمی آزادی اور دیانتداری پر آنچ آ سکتی ہے۔ حکمرانوں نے اس انکار کو برداشت نہ کیا اور انہیں قید میں ڈال دیا، اور روزانہ بیس کوڑوں کی سزا دی جانے لگی۔ مگر اس عالم نے، جیل کی کوٹھڑی میں بھی، اپنے شاگردوں کو حدیث اور فقہ کی تعلیم دینا نہ چھوڑا۔ یہی ہیں امام اعظم ابو حنیفہ، جن کی فقہ آج دنیا کے سب سے زیادہ مسلمانوں کی پیروی کردہ فقہ ہے۔

 خاندان اور پیدائش

اردو ویکیپیڈیا کے مضمون کے مطابق ان کا نام نعمان بن ثابت بن زوطا اور کنیت ابوحنیفہ تھی، اور وہ عام طور پر امام اعظم کے لقب سے یاد کیے جاتے ہیں۔ اسی مضمون کے مطابق ان کی پیدائش کوفہ میں 80ھ بمطابق 699ء میں ہوئی اور وفات 150ھ میں ہوئی، اور نسلاً وہ عجمی یعنی غیر عرب تھے۔ الاسلام کی ویب سائٹ پر شائع مضمون کے مطابق ان کا خاندان ایران کا ایک مشہور اور باعزت خاندان تھا، اور جب ایران میں اسلام پھیلنا شروع ہوا تو ان کے دادا زوطی نے اسلام قبول کر لیا، جس پر گھر اور خاندان والوں نے ناراضگی کا اظہار کیا تو وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر عرب چلے آئے، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حکومت کے زمانے میں کوفہ میں آباد ہو گئے۔ اسی مضمون کے مطابق ان کے والد ثابت بچپن میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں لائے گئے تھے، جہاں انہوں نے پیار کیا اور دعا بھی دی۔

 ابتدائی زندگی اور تجارت

اردو ویکیپیڈیا کے مضمون کے مطابق ان کا ابتدائی ذوق اپنے والد کی پیروی میں تجارت تھا، مگر اللہ نے ان سے دین کی خدمت کا کام لینا تھا، اس لیے تجارت کا شغل اختیار کرنے سے پہلے وہ اپنی تعلیم کی طرف متوجہ ہوئے۔ پشاور لائیو کی ویب سائٹ پر شائع مضمون کے مطابق دین کی بنیادی باتوں کا مطالعہ کرنے کے بعد امام صاحب نے خود کو تجارت میں مصروف کر لیا تھا، مگر بعد میں امام شعبی کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کی وجہ سے انہوں نے اپنا کاروبار چھوڑ دیا اور اپنا سارا وقت دین کا علم حاصل کرنے کے لیے وقف کر دیا۔ محدث فورم کے مضمون کے مطابق امام صاحب نے علمِ دین کی خدمت کو ذریعۂ معاش نہیں بنایا، بلکہ معاش کے لیے ریشم بنانے اور ریشمی کپڑے تیار کرنے کا ایک بڑا کارخانہ رکھا ہوا تھا۔

 تعلیم

اردو ویکیپیڈیا کے مضمون کے مطابق امام ابو حنیفہ نے بیس سال کی عمر میں اعلیٰ علوم کی تحصیل کا آغاز کیا۔ الاسلام کی ویب سائٹ کے مضمون کے مطابق کوفہ میں امام حماد بن ابی سلیمان کی درسگاہ بہت بڑی اور مشہور تھی، اور امام ابو حنیفہ نے اسی درسگاہ کا انتخاب کر کے فقہ کی تعلیم حاصل کی۔ اسی مضمون کے مطابق انہوں نے کوفہ میں کوئی ایسا محدث نہیں چھوڑا جس سے حدیث کا علم حاصل نہ کیا ہو، اور اسی مقصد کے لیے بصرہ اور شام کا سفر بھی کیا۔ فتویٰ آن لائن کی ویب سائٹ کے مضمون کے مطابق ان کے علاوہ امام مالک سمیت کوئی اور امام تابعی نہیں تھا، اور یہ اعزاز صرف امام ابو حنیفہ کو حاصل تھا کہ انہوں نے صحابہ کرام کی براہِ راست زیارت کی اور ان سے احادیثِ نبوی کا سماع کیا۔ اسی مضمون کے مطابق امام ابو حنیفہ نے تقریباً چار ہزار اساتذہ سے علم حاصل کیا۔ اردو مضامین و مقالات کی ویب سائٹ کے مضمون کے مطابق دیگر محدثین کے طرز پر امام ابو حنیفہ نے احادیث کی سماعت کے لیے حج کے اسفار کا بھرپور استعمال کیا اور تقریباً پچپن حج ادا کیے۔

 استاد سے آگے نکل جانے کا واقعہ

الاسلام کی ویب سائٹ کے مضمون کے مطابق ایک بار امام حماد نے یہ فرمایا کہ امام ابو حنیفہ نے ان سے فقہ کا علم اتنا سیکھ لیا تھا کہ وہ خود ان سے کہیں آگے نکل گئے۔ اسی مضمون کے مطابق کوفہ میں امام حماد سے فقہ اور حدیث کا علم سیکھنے کے بعد ان کا خیال تھا کہ اب انہیں مکہ معظمہ جانا چاہیے، اس لیے کہ وہ تمام مذہبی علوم کا اصل مرکز ہے، چنانچہ وہ مکہ پہنچے اور مزید علم حاصل کرنے کے لیے حضرت عطاء بن ابی رباح کی درسگاہ کا انتخاب کیا، جو مشہور تابعین میں سے تھے۔

 عظیم کارنامہ: فقہ حنفی کی بنیاد

اردو ویکیپیڈیا کے مضمون کے مطابق امام ابو حنیفہ سنی حنفی فقہ کے بانی تھے، اور وہ ایک تابعی، مسلمان عالم دین، مجتہد، فقیہ اور اسلامی قانون کے اولین تدوین کرنے والوں میں شامل تھے، اور آج ان کے پیروکاروں کو حنفی کہا جاتا ہے۔ فتویٰ آن لائن کی ویب سائٹ کے مضمون میں امام ابو حنیفہ کے اپنے الفاظ نقل کیے گئے ہیں کہ وہ سب سے پہلے کسی مسئلے کا حکم اللہ کی کتاب سے اخذ کرتے، پھر اگر وہاں نہ پاتے تو سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لیتے، اور اگر وہاں بھی نہ پاتے تو صحابہ کرام کے اقوال میں سے کسی کا قول مان لیتے۔ پشاور لائیو کی ویب سائٹ کے مطابق انہوں نے مسلمانوں کے حالات کو منظم کرنے کے لیے ایک قانونی و عدالتی نظام قائم کیا اور ان کا نظریہ لاکھوں مسلمانوں کے لیے ایک حوالہ بن گیا۔

 شاگردوں کی تربیت

اردو مضامین و مقالات کی ویب سائٹ کے مضمون کے مطابق امام ابو حنیفہ کے درس کا حلقہ اتنا وسیع تھا کہ خلیفۂ وقت کی حدودِ حکومت اس سے زیادہ وسیع نہ تھیں، اور سیکڑوں علماء و محدثین نے ان سے استفادہ کیا۔ اسی مضمون کے مطابق امام شافعی فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص علمِ فقہ میں کمال حاصل کرنا چاہے اسے امام ابو حنیفہ کے فقہ کا رخ کرنا چاہیے، اور یہ بھی فرمایا کہ اگر امام محمد، جو ان کے شاگرد تھے، انہیں نہ ملتے تو خود شافعی، شافعی نہ ہوتے بلکہ کچھ اور ہوتے۔ اسی مضمون کے مطابق قاضی ابویوسف کو معاشی تنگی کی وجہ سے تعلیمی سلسلہ جاری رکھنا مشکل ہو گیا تھا، مگر امام ابو حنیفہ نے ان کے اور ان کے گھر کے تمام اخراجات برداشت کر کے تعلیم دی، اور بعد میں یہی قاضی ابویوسف عباسی دورِ حکومت میں قاضی القضاۃ کے عہدے پر فائز ہوئے، جو اس عہدے پر فائز ہونے والے پہلے شخص تھے۔

 زہد و تقویٰ

فتویٰ آن لائن کی ویب سائٹ کے مضمون کے مطابق امام ابو حنیفہ نے اپنی عمر مبارک میں سات ہزار مرتبہ قرآن ختم کیا، اور پینتالیس سال تک ایک ہی وضو سے پانچوں نمازیں پڑھیں، اور رات کے دو نفلوں میں پورا قرآن ختم کر لیا کرتے تھے۔ محدث فورم کے مضمون کے مطابق وہ رات کا بیشتر حصہ اللہ تعالیٰ کے سامنے رونے، نفل نماز پڑھنے اور تلاوتِ قرآن میں گزارتے تھے۔ اسی مضمون کے مطابق امام بخاری کے استاذ امام مکی بن ابراہیم فرماتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ پرہیزگار، آخرت کے راغب اور اپنے معاصرین میں سب سے بڑے حافظِ حدیث تھے۔

 قید و تکلیف

اردو مضامین و مقالات کی ویب سائٹ کے مضمون کے مطابق بنو امیہ کے آخری عہد میں امام ابو حنیفہ کا حکمرانوں سے اختلاف ہو گیا تھا، جس کے باعث انہوں نے تقریباً سات سال مکہ مکرمہ میں مقیم رہ کر تعلیم و تعلم کا سلسلہ جاری رکھا۔ اسی مضمون کے مطابق حکمرانوں نے جب انہیں قید میں ڈالا تو اس دوران بھی انہوں نے حدیث اور فقہ کی تعلیم جاری رکھی، چنانچہ ان کے شاگرد امام محمد نے جیل میں ہی ان سے تعلیم حاصل کی۔ اسی مضمون کے مطابق حکمرانوں نے اس پر بھی بس نہیں کیا بلکہ روزانہ بیس کوڑوں کی سزا بھی دی۔

 وفات

اردو ویکیپیڈیا کے مضمون کے مطابق امام ابو حنیفہ کی وفات 14 جون 767ء بمطابق 150ھ میں ہوئی۔ ان کی وفات بغداد میں ہوئی۔

 آج تک کے اثرات

فقہ حنفی آج دنیا بھر کے مسلمانوں کی سب سے زیادہ پیروی کی جانے والی فقہ ہے، اور برصغیر، وسطی ایشیا، ترکی اور مشرقِ وسطیٰ کے بیشتر ممالک میں اسی فقہ پر عمل کیا جاتا ہے۔ اردو مضامین و مقالات کے مضمون کے مطابق ان کی وفات کے بعد ان کے شاگردوں نے ان کے قرآن، حدیث اور فقہ کے دروس کو کتابی شکل دے کر ان کے علم کے نفع کو بہت عام کر دیا، اور چند ہی سالوں میں فقہ حنفی دنیا کے کونے کونے تک پہنچ گئی۔ محدث فورم کے مضمون کے مطابق ان کے مشہور شاگرد امام محمد کی کتابیں جیسے المبسوط اور الجامع الصغیر آج بھی فقہ حنفی کے اہم ترین مآخذ سمجھی جاتی ہیں۔ آج بھی دنیا بھر کے مدارس میں فقہ حنفی پڑھائی جاتی ہے، اور امام ابو حنیفہ کا اصولِ اجتہاد آج بھی اسلامی قانون کی تعلیم کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔

 حوالہ جات

اردو ویکیپیڈیا کا مضمون “ابو حنیفہ”؛ دارالعلوم دیوبند کی ویب سائٹ پر شائع مضمون “امام ابوحنیفہؒ نعمان بن ثابت حیات اور کارنامے” از مولانا محمد نجیب سنبھلی قاسمی؛ الاسلام کی ویب سائٹ کا مضمون “امام اعظم حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ”؛ کتاب و سنت کی ویب سائٹ کا مضمون “حیات حضرت امام ابو حنیفہ”؛ پشاور لائیو کا مضمون “اسلامی فقہ کے ممتاز عالم امام ابو حنیفہ کی پیدائش اور وفات کب ہوئی؟”؛ محدث فورم کا مضمون “امام ابو حنیفہ، حیات و کارنامے”؛ اور فتویٰ آن لائن کی ویب سائٹ کا مضمون “امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ کا مقام و مرتبہ اور مختصر تعارف”۔

بائیوگرافی سیریز — قسط نمبر 15: امام ابو حنیفہ

Loading