قرطاجنہ کے جلتے ہوئے کھنڈرات اور کوہِ اطلس کی پراسرار ملکہ (79 ہجری / 698 عیسوی)
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )79 ہجری۔ بحیرہ روم کے ساحل پر واقع رومی سلطنت کا ہزاروں سال پرانا اور ناقابلِ تسخیر شہر ‘قرطاجنہ’ (Carthage) شعلوں اور دھوئیں کی لپیٹ میں تھا۔
سمندر میں بازنطینی سلطنت کے جنگی جہاز اپنے قلعے راکھ ہوتے دیکھ کر بزدلوں کی طرح فرار ہو رہے تھے، اور ساحل پر ایک دراز قد، کھردری رنگت اور سفید عمامے والا شامی سالار اپنی خون آلود تلوار زمین میں گاڑے کھڑا تھا۔
یہ ‘حسان بن النعمان الغسانی’ تھا—اموی سلطنت کا وہ بے باک سپہ سالار، جس نے افریقہ کی زمین سے رومی سلطنت کے 700 سالہ پرانے غرور کو ہمیشہ کے لیے اکھاڑ پھینکا اور جسے تاریخ “شیخ الاسلام فی افریقہ” کے نام سے یاد کرتی ہے۔
لیکن اس عظیم فاتح کو یہ نہیں معلوم تھا کہ بازنطینی سلطنت کو کچلنے کے فوراً بعد، اس کا سامنا کوہِ اطلس کے تاریک غاروں سے نکلنے والے ایک ایسے طوفان سے ہونے والا تھا جس کی قیادت کوئی زرہ پوش جرنیل نہیں، بلکہ بربروں کی ایک پراسرار، ایک آنکھ والی جادوگر ملکہ—’کاہنہ’ (Dihya)—کر رہی تھی۔ ایک ایسی جنگ، جس میں حسان بن النعمان کی 40 ہزار کی ناقابلِ شکست فوج کو ایسی عبرتناک شکست ہوئی کہ انہیں پانچ سال تک صحرا کی ریت میں چھپ کر اپنی جانیں بچانی پڑیں۔
یہ تاریخِ اسلام کے اس صبر آزما اور عظیم سالار کی وہ 100 فیصد مستند اور سنسنی خیز داستان ہے، جس نے شکست کی راکھ سے اٹھ کر شمالی افریقہ کو ہمیشہ کے لیے اسلام کا قلعہ بنا دیا، لیکن محلات کی سیاست نے اسے بھی اپنے ہی خیمے میں ذلت کا پیالہ پینے پر مجبور کیا۔
پس منظر: غسانی خون، شامی خیمے اور افریقہ کا کٹھن محاذ
حسان بن النعمان کا تعلق شام کے شاہی اور جنگجو عرب قبیلے ‘غسان’ (Ghassanids) سے تھا، جو اسلام سے پہلے رومی سلطنت کے اتحادی اور جنگی امور کے ماہر سمجھے جاتے تھے۔
حسان محلات کا نرم و نازک عیاش نہیں تھا، بلکہ اس کا جسم شامی صحراؤں کی کڑک دھوپ، کیمپ کی کھردرے زندگی اور مسلسل گھڑ سواری سے لوہے جیسا سخت ہو چکا تھا۔ اس کا چہرہ رعب دار، آنکھیں گہری اور زبان میں شامی عربی کی کڑک کاٹ تھی۔
اس وقت شمالی افریقہ (موجودہ تیونس، الجزائر اور مراکش) مسلمانوں کے لیے ایک ہولناک قبرستان بن چکا تھا۔ عقبہ بن نافعؒ کی شہادت اور زہیر بن قیس کے قتل کے بعد، افریقہ پر بازنطینی رومیوں اور سرکش بربر قبائل کا دوبارہ قبضہ ہو چکا تھا اور عرب فوجیں ساحل سے پیچھے ہٹ چکی تھیں۔
خلیفہ عبدالملک بن مروان نے شام کے خانہ جنگی (فتنہ ابن الزبیر) سے فراغت پاتے ہی 74 ہجری (693/694 عیسوی) میں حسان بن النعمان کو 40 ہزار شامی جنگجوؤں کا دیوہیکل لشکر اور مشرق کا سارا خزانہ دے کر افریقہ کی طرف دھکیلا، تاکہ وہ اس کٹے پھٹے اور خطرناک محاذ کو ہمیشہ کے لیے فتح کر لے۔
عروج: قرطاجنہ کی تاریخی فتح اور رومیوں کا حتمی صفایا (78 تا 79 ہجری)
افریقہ پہنچتے ہی حسان نے قیروان کو اپنا بیس بنایا اور بغیر کسی تاخیر کے رومی سلطنت کے سب سے بڑے اور قلعہ بند بندرگاہی شہر، ‘قرطاجنہ’ (Carthage—موجودہ تیونس)، کا ہولناک محاصرہ کر لیا۔
قرطاجنہ کی دیواریں فلک شگاف تھیں اور سمندر کے راستے قسطنطنیہ سے رومیوں کو مسلسل عسکری کمک پہنچ رہی تھی۔ حسان نے منجنیقوں سے دیواروں پر پتھروں کی بارش کر دی اور اپنے شامی جانثاروں کے ساتھ قلعے پر طوفانی ہلہ بول دیا۔ 79 ہجری (698 عیسوی) میں شامی فوجیں دیواریں توڑ کر شہر میں داخل ہو گئیں۔
حسان جانتا تھا کہ جب تک یہ شہر قائم رہے گا، رومی سمندر کے راستے دوبارہ آ کر بغاوت کریں گے۔ اس نے انتہائی سفاکانہ اور حتمی عسکری فیصلہ کرتے ہوئے قرطاجنہ کے عسکری حصاروں، قلعوں اور بندرگاہ کو مکمل طور پر مسمار کر کے کھنڈر بنا دیا، اور اس کے بالکل قریب ایک نیا اسلامی شہر اور بحری اڈہ—’تونس’ (Tunis)—تعمیر کروایا جہاں اس نے افریقہ کا پہلا اسلامی بحری بیڑہ (Naval Fleet) کھڑا کیا۔ اس ایک ضرب نے شمالی افریقہ سے بازنطینی سلطنت کا نام و نشان ہمیشہ کے لیے مٹا دیا۔
کاہنہ کا طوفان: دریائے نینی کی شکست اور 5 سالہ صحرائی جلاوطنی (80 ہجری)
رومی سلطنت کو دفن کرنے کے بعد حسان بن النعمان نے سمجھا کہ افریقہ فتح ہو چکا ہے، لیکن اس کی یہ عسکری خوش فہمی جلد ہی اس کی زندگی کے سب سے بڑے بھیانک خواب میں بدل گئی۔
کوہِ اطلس اور کوہِ اوراس (موجودہ الجزائر) کے جراوہ (Jarawa) بربر قبائل نے ایک پراسرار، طویل العمر اور سفاک ملکہ کی قیادت میں متحد ہو کر اسلام کے خلاف ہولناک بغاوت کھڑی کر دی تھی۔ یہ ملکہ تاریخ میں ‘الکاہنہ’ (جادوگرنی / Dihya) کے نام سے مشہور تھی، جو جنگ سے پہلے دھویں اور آگ میں بیٹھ کر مستقبل کی پیشگوئیاں کرتی تھی اور جس کے ایک اشارے پر لاکھوں بربر کٹنے مرنے کو تیار تھے۔
80 ہجری (698/699 عیسوی) میں وادیِ مسکیانہ کے قریب ‘دریائے نینی’ (بغیر ماء / Battle of Meskiana) کے میدان میں حسان کے شامی لشکر اور کاہنہ کے وحشی بربر طوفان کا ٹکراؤ ہوا۔ کاہنہ نے اپنے اونٹوں اور گھوڑوں کو ایک ہلال (Crescent) کی شکل میں کھڑا کر کے شامی فوج کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔
ایک خونی اور قیامت خیز لڑائی کے بعد، حسان کی ناقابلِ شکست شامی فوج کے پرخچے اڑا دیے گئے۔ ہزاروں مسلمان سپاہی بے دردی سے ذبح ہوئے اور خود حسان بن النعمان کو میدانِ جنگ سے اپنی جان بچا کر بھاگنا پڑا۔
کاہنہ نے ان کا تعاقب کیا اور حسان کو افریقہ سے مار بھگایا۔ مجبور ہو کر حسان بن النعمان نے طرابلس (لیبیا) کے قریب ایک صحرائی علاقے میں اپنے خیمے گاڑ لیے، جو آج تک تاریخ میں ‘قصور حسان’ (حسان کے قلعے) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس نے پورے پانچ سال (80 سے 84 ہجری تک) صحرا کی گرم ریت میں خیموں کے اندر انتہائی صبر، ذلت اور کٹھن انتظار میں گزارے، جبکہ کاہنہ نے پورے افریقہ کے شہروں، باغوں اور درختوں کو آگ لگا کر راکھ کر دیا تاکہ عربوں کو یہاں کوئی مال یا اناج نہ مل سکے۔
زوالِ دشمن اور انتقام: بئر الکاہنہ کی جنگ اور ملکہ کا کٹا ہوا سر (84 ہجری / 703 عیسوی)
پانچ سال کی اس کٹھن صحرائی جلاوطنی کے دوران حسان نے اپنا جاسوسی نظام انتہائی شاطرانہ انداز میں کاہنہ کے کیمپ کے اندر تک پہنچا دیا (جس میں اس کا ایک وفادار بربر قیدی خالد بن یزید بھی شامل تھا)۔ جب کاہنہ کی اپنی “زمینیں جلانے کی پالیسی” (Scorched-earth policy) سے بربر قبائل اور مقامی کسان بھوک سے تڑپ کر اس سے باغی ہونے لگے، تو حسان نے خلیفہ سے تازہ دم کمک منگوا کر 84 ہجری (703 عیسوی) میں دوبارہ افریقہ پر یلغار کر دی۔
کوہِ اوراس کے دامن میں واقع ایک کنویں کے پاس—جسے آج بھی ‘بئر الکاہنہ’ (کاہنہ کا کنواں) کہا جاتا ہے—دونوں لشکروں کا حتمی اور فیصلہ کن ٹکراؤ ہوا۔
حسان بن النعمان نے اپنی پانچ سالہ ذلت اور شہداء کا کڑوا انتقام لیا۔ اس کے شامی زرہ پوش دستوں نے بربر لشکر کو گاجر مولی کی طرح کاٹ ڈالا۔ ملکہ کاہنہ میدانِ جنگ میں گھیر لی گئی اور آخری سانس تک لڑتے ہوئے ماری گئی۔
حسان نے کاہنہ کا سر قلم کروایا اور اسے فتح کے نشان کے طور پر دمشق میں خلیفہ عبدالملک کے پاس بھجوا دیا۔ اس کے بعد حسان نے ایک انتہائی مدبرانہ سیاسی چال چلی؛ اس نے بربر قبائل کا قتلِ عام کرنے کے بجائے انہیں معاف کر دیا، ان کے سرداروں کے بیٹوں کو فوج میں سالار بنایا، اور بربر قبائل کے 12 ہزار جنگجوؤں کو اسلامی فوج میں شامل کر کے انہیں ہمیشہ کے لیے اسلام کا وفادار بنا لیا۔
انجام: گورنر مصر کا حسد اور خیمے میں چھینا گیا خزانہ (Aftermath)
حسان بن النعمان نے افریقہ کو رومیوں اور کاہنہ کے شر سے مکمل پاک کر کے وہاں اسلامی عدالتیں، دیوان اور خراج کا ایک منظم، عادلانہ اور فولادی نظام قائم کر دیا۔ اس نے قیروان کی جامع مسجد کو دوبارہ عظیم الشان انداز میں تعمیر کیا اور بربروں میں اسلام کی جڑیں اتنی گہری کر دیں کہ افریقہ ہمیشہ کے لیے عربی اور اسلامی دنیا کا اٹوٹ انگ بن گیا۔
لیکن اس عظیم فاتح کا انجام میدانِ جنگ میں نہیں، بلکہ محلات کی کثیف سیاست اور بیوروکریسی کے حسد کے ہاتھوں ہوا۔
85 ہجری (704 عیسوی) میں جب حسان افریقہ کا بے پناہ مالِ غنیمت، سونا، ہیرے اور لونڈی غلام لے کر دمشق میں خلیفہ کے پاس جمع کروانے کے لیے روانہ ہوا، تو راستے میں مصر کا اموی گورنر، ‘عبدالعزیز بن مروان’ (جو خلیفہ کا سگا بھائی تھا)، اس کی اس بے مثال کامیابی اور شہرت سے شدید حسد میں مبتلا ہو گیا۔
عبدالعزیز نے حسان کو قاہرہ میں روک لیا اور متکبرانہ انداز میں مطالبہ کیا کہ افریقہ چونکہ مصر کے زیرِ انتظام صوبہ ہے، اس لیے یہ سارا مالِ غنیمت مصر کے خزانے میں جمع کروایا جائے۔ جب حسان نے اس غیر قانونی حکم کو ماننے اور سارا سونا عبدالعزیز کے حوالے کرنے سے انکار کیا کہ وہ یہ امانت صرف خلیفہ کو دے گا، تو عبدالعزیز نے اپنے سپاہی بھیج کر حسان کے کیمپ کا محاصرہ کر لیا۔
اس بوڑھے، وفادار اور تھکے ہوئے سالار کی آنکھوں کے سامنے اس کے خیمے لٹوا لیے گئے، اس کا سارا مالِ غنیمت اور گھوڑے زبردستی چھین لیے گئے اور اسے انتہائی ذلت کے ساتھ گورنری سے معزول کر دیا گیا۔
حسان بن النعمان نے اپنے سگے بھائیوں جیسے سپاہیوں کے سامنے اس شاہی ذلت پر کوئی بغاوت نہیں کی، نہ کوئی تلوار اٹھائی۔ وہ خاموشی سے اپنا ٹوٹا ہوا دل اور پرانے زخم لے کر شام کے ایک گمنام گاؤں میں چلا گیا، جہاں یہ افریقہ کا فاتح اور کاہنہ کو شکست دینے والا دیوہیکل سالار، 86 ہجری (705 عیسوی) میں گمنامی، تنہائی اور ریاستی احسان فراموشی کا کڑوا گھونٹ پیتے ہوئے خاموشی سے مٹی میں دفن ہو گیا۔
حسان کی قائم کردہ یہی وہ مضبوط عسکری بنیاد تھی، جس پر کھڑے ہو کر چند ہی سالوں بعد موسیٰ بن نصیر اور طارق بن زیاد نے سمندر پار کر کے اندلس (سپین) کو فتح کیا۔
تاریخی حوالہ جات:
فتوح مصر والمغرب والاندلس (ابن عبد الحکم)
فتوح البلدان (البلاذری)
الکامل فی التاریخ (ابن الاثیر)
تاریخ الطبری (ابن جریر طبری)
البیان المغرب فی اخبار الاندلس والمغرب (ابن عذاری المراکشی)
تاریخِ ابنِ خلدون (ابن خلدون)
البدایہ والنہایہ (ابن کثیر)
نفح الطیب من غصن الاندلس الرطیب (المقری التلمسانی)
ریاض النفوس فی طبقات علماء القیروان وافریقیہ (ابو بکر المالکی).
اگر آپ مملوک سلطنت کے عظیم سلطان رکن الدین بیبرس کی پوری کہانی اینیمیشن میں دیکھنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔ 👇
Sultan Baybars Animated Documentary:
https://www.facebook.com/reel/895334606973882
![]()

