ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل)ابھی تیرا دورِ شباب ہے، ابھی کیا حساب و کتاب ہے
ابھی کیا نہ ہوگا جہان میں، ابھی اس جہاں میں ہوا ہے کیا؟
تشریح:اس شعر میں شاعر نوجوانی کی طاقت، امید اور امکانات کی طرف توجہ دلاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ جب انسان جوانی کے دور میں ہو تو اسے جلدی مایوس نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی اپنی کامیابی یا ناکامی کا حتمی حساب لگانا چاہیے۔
پہلے مصرعے “ابھی تیرا دورِ شباب ہے، ابھی کیا حساب و کتاب ہے” کا مطلب یہ ہے کہ تم ابھی زندگی کے ابتدائی اور طاقت ور مرحلے میں ہو، اس لیے ابھی اپنی قسمت یا مستقبل کا فیصلہ کرنا درست نہیں۔
دوسرے مصرعے “ابھی کیا نہ ہوگا جہان میں، ابھی اس جہاں میں ہوا ہے کیا؟” میں شاعر کہتا ہے کہ دنیا میں ابھی بے شمار امکانات باقی ہیں۔ تم نے ابھی زندگی کے بہت کم تجربات کیے ہیں، اس لیے مستقبل میں کامیابی، عزت اور خوشی کے بے شمار مواقع تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔
خلاصہ:
یہ شعر امید، حوصلے اور مثبت سوچ کا پیغام دیتا ہے۔ شاعر انسان کو یہ سبق دیتا ہے کہ نوجوانی میں مایوس ہونے کے بجائے محنت، صبر اور اعتماد کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے، کیونکہ زندگی میں ابھی بہت کچھ حاصل کرنا باقی ہوتا ہے
کلیم عاجز شبابي حساب
![]()

