Daily Roshni News

شباب کی باتیں۔۔۔جانے کیا لفظ تھے جو ہم سے نہ تحریر ہوئے۔۔۔ تحریر  ۔۔۔۔۔۔۔  مشتاق شباب

شباب کی باتیں

*جانے کیا لفظ تھے جو ہم سے نہ تحریر ہوئے*

تحریر  ۔۔۔۔۔۔۔  مشتاق شباب

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ شباب کی باتیں۔۔۔جانے کیا لفظ تھے جو ہم سے نہ تحریر ہوئے۔۔۔ تحریر  ۔۔۔۔۔۔۔  مشتاق شباب)میری بائیں آنکھ تین چار روز  پہلے اس وقت پھڑکی تھی بلکہ دل بھی دھڑکا تھا اور ایک پاکستانی فلم کا وہ گانا بھی یاد آیا تھا جس کے مکھڑے کا پہلا مصرعہ یہ ہے کہ

 * دل دھڑکے میری اکھ پھڑکے*

 جب دو خبریں اخبارات میں شائع ہوئی تھیں اور جن کا مفہوم کچھ ایسا تھا کہ ملک میں چینی کی پیداوار اور گندم کی فصل اطمینان بخش ہے۔ اب آپ پوچھیں گے بھلا اس میں دل دھڑکنے اور بائیں آنکھ پھڑکنے کا کیا کارن ہے؟  تو ان دونوں کیفیات کا ایک دوسرے سے تعلق تو  بنتا ہے اور اسی لیے میڈم نورجہان کے گائے ہوئے ایک  مشہور نغمے کے الفاظ کے مطابق

 * دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا

 وہ تیری یاد تھی اب یاد آیا*

   اگرچہ ہم اسی وقت ماضی کے تلخ تجربات کی روشنی میں ان خبروں پر کالم باندھنا چاہتے تھے مگر پھر دوسرے موضوعات سامنے آئے اور اس کا تذکرہ رہ گیا،  مگر وہ کہتے ہیں نا کہ اندھا کیا چاہے،  دو انکھیں!!  تو جن خدشات کی ہمیں فکر تھی اور ہم ان کا ذکر کالم میں کرنا چاہتے تھے وہ گزشتہ روز (جمعۃ المبارک)  کے اخبارات میں شائع شدہ ایک خبر نے پھر تازہ کر دی، اور خبر یہ ہے کہ وفاقی حکومت نے فوری چینی برآمد کرنے کی تجویز موخر کر دی ہے۔ مرزا غالب نے  کیا خوب کہا تھا کہ

ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ

 دیتے ہیں دھوکہ یہ بازیگر کھلا

اوپر درج محولہ خبر کی سرخی کے الفاظ پر اگر غور کیا جائے تو اصل حقیقت بھی سامنے آ جاتی ہے اور اسی کی بنیاد پر اپنے خدشات کے تحت ہم عوام کو خبردار کرنا چاہتے ہیں کہ وہ ابھی سے ملک میں چینی کے ایک نئے ممکنہ بحران کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہو جائیں،  اس لیے کہ یہ تماشے ایک عرصے سے عوام دیکھتی آئی ہے کہ پہلے گندم اور چینی کی بمپر کراپس کی خوشخبریاں دی جاتی ہیں، اخبارات میں خبریں شائع کر کے عوام کو خوش کیا جاتا ہے اور ان کی امیدیں بڑھ جاتی ہیں کہ جب دونوں فصلوں کی بہترین صورتحال ہے تو امید ہے کہ ان کی قیمتوں میں کمی سے عوام کے لیے آسانیاں پیدا ہو جائیں گی۔ مارکیٹ میں ان کے ریٹ کم ہو جائیں گے اور عوام کو چینی اور آٹا سستا ملنا شروع ہو جائے گا۔ مگر مقطع میں جو سخن گسترانہ بات ہوتی ہے اس کی جانب توجہ کم کم ہی جاتی ہے، یہاں بھی خبر کی سرخی کے آخری حصے میں شعر کے مقطع کی مانند سخن گسترانہ بات کو آپ چینی کی برآمد کی تجویز کے موخر ہونے میں بآسانی تلاش کر سکتے ہیں، یعنی یہ جو لفظ موخر کا استعمال کیا گیا ہے اس سے متعلقہ شعبوں کے “اصل عزائم”  کا اظہار ہو رہا ہے اور اس لیے ماضی میں جھانکنا پڑے گا جب اسی طرح پہلے چینی کی پیداوار ضرورت سے زیادہ ہونے کی خبریں شائع کی جاتی تھیں مگر ملک کے اندر ڈیمانڈ اینڈ سپلائی کے اصول کے تحت چینی کی قیمتوں میں کوئی کمی نہیں ہوتی تھی، اگر ہوتی بھی تو ایک دو ہفتوں کے لیے معمولی سا فرق آ جاتا تھا اور پھر خاموشی کے ساتھ واپس قیمتوں میں اضافہ کر دیا جاتا،  جس سے جہاں ایک جانب شوگر مافیا کو فائدہ ہوتا تھا تو شوگر کے مریضوں کو بھی اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا، البتہ عوام پریشان ضرور ہو جاتے۔  یہاں انور مسعود کا ایک مشہور قطعہ ملاحظہ فرمائیے کہ

 میرے پانی میں ملا اور ذرا سا پانی

 میری عادت ہے کہ پیتا ہوں میں پتلا پانی

 مجھ کو شوگر بھی ہے اور پاس شریعت بھی ہے

 میری قسمت میں نہ میٹھا ہے نہ کڑوا پانی

انور مسعود کے اس قطعہ پر غور کیا جائے تو انہوں نے کمال فنکاری سے لفظ “کڑوا پانی” کا شوگر یعنی چینی کے ساتھ تعلق کو باندھنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ کیونکہ جب گنے سے شوگر ملز میں چینی بنائی جاتی ہے تو اس پراسس میں “کڑوا پانی”  بائی پروڈکٹ کے طور پر حاصل کیا جاتا ہے۔

خیر یہ تو الگ معاملہ ہے، اصل مسئلہ تو شوگر مافیا کی سرگرمیوں کو آشکار کرنا ہے یعنی پہلے ایک خاص حکمت عملی کے طور پر چینی کی   “”ماشاءاللہ”” پیداوار کی خبریں پھیلائی جاتی ہیں پھر، اضافی چینی کی برآمد سے اربوں کھربوں کمائے جاتے ہیں، جس سے مبینہ طور پر حصہ بقدر جثہ ہر متعلقہ شعبے کو پہنچا دیا جاتا ہے اور چینی باہر بھیج دی جاتی ہے۔ پھر کچھ عرصے بعد ملک میں چینی کی قلت کے نعرے بلند کیے جاتے ہیں اور اس قلت پر قابو پانے کے لیے حسب سابق چینی کی درامد کے پرمٹ جاری کر کے اپنی بہترین  چینی سے کم معیار کی چینی (بعض اوقات چقندر کی چینی) سستے داموں درآمد کر کے ملک میں مہنگے داموں عوام پر فروخت کی جاتی ہے۔

 کچھ ایسی ہی صورتحال گندم کی بھی ہوتی ہے جو الگ سے بلکہ ایک سے زیادہ کالموں میں بیان کرنے سے بھی مزید تفصیل کی متقاضی ہے ۔ ایک عرصے سے یہ کھیل جاری و ساری ہے، اس میں ملوث مختلف مافیاز عوام کو لوٹنے میں مصروف ہیں، اس لیے یہ جو خبر میں چینی برآمد کرنے کی تجویز کے موخر کرنے کی بات ہے تو اسے عوام کو خوش کرنے کے لیے بہانہ قرار دینے میں کوئی امر مانع نہیں ہو سکتا، کیونکہ ماضی میں ایسی خبروں کا “مقطع”  بھی سب کو معلوم ہے۔ بقول صابر ظفر

 دن کو مسمار ہوئے رات کو تعمیر ہوئے

 خواب ہی خواب فقط روح کی جاگیر ہوئے

عمر بھر لکھتے رہے پھر بھی ورق سادہ ہے

 جانے کیا لفظ تھے جو ہم سے نہ تحریر ہوئے

Loading