وہ کانفرنس جسے بلانے والے سب مسلمان حکمران غیر فطری موت مارے گئے _
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیو ز انٹرنیشنل )لاہور اسلامی سربراہی کانفرنس 1974 – اتحاد اُمّت یا نکتۂ آغازِ سازش؟
کبھی کبھی تاریخ کے اوراق چیخ چیخ کر کچھ بتانا چاہتے ہیں، لیکن ہم انہیں خاموشی سے پلٹ دیتے ہیں۔
1974 کی لاہور اسلامی سربراہی کانفرنس، بظاہر تو مسلم اُمّت کے اتحاد اور بیداری کا تاریخی لمحہ تھا، لیکن اگر آپ غور کریں تو اس کانفرنس سے جڑی ہر کہانی اپنے اندر ایک خونی انجام رکھتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ محض اتفاقات کی ایک لڑی تھی؟ یا پھر ایک خوفناک اور گہری سازش تھی جس کا
مقصد مسلم دنیا کے جاگتے ضمیر کو ہمیشہ کے لیے خاموش کرنا تھا _ذرا سوچئے! اس کانفرنس کا سب سے بڑا علمبردار سعودی عرب کا شاہ فیصل، جو مسلمانوں کی وحدت کا سب سے بلند آہنگ تھا، اُسے صرف ایک سال بعد خود اُس کے بھتیجے نے گولیوں سے بھون دیا۔ کیا یہ محض اتفاق تھا؟ یا کوئی پیغام تھا ان تمام مسلم راہنماؤں کے لیے جو اُمت کی یکجہتی کی بات کرنے لگے تھے؟
شیخ مجیب الرحمن، جنہوں نے پہلی بار اسلامی کانفرنس میں شرکت کی، ایک سال بعد ہی اپنی فیملی سمیت قتل کر دیے گئے۔ پھر باری آئی پاکستان کے وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی – کانفرنس کے میزبان، جو پانچ سال بعد تختہ دار پر جھول گئے۔ کیا یہ بھی ایک قدرتی حادثہ تھا
انور سادات، مصر کے صدر، اسلامی دنیا میں ایک بااثر شخصیت، انہیں ایک سرکاری پریڈ کے دوران گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ لیبیا کے معمر قذافی، جو اسلامی بلاک کے قیام کے خواہاں تھے، انہیں 2011 کی بغاوت میں بے دردی سے قتل کیا گیا۔ یاسر عرفات، جنہوں نے ہمیشہ فلسطین اور مسلم اتحاد کی بات کی، اُنہیں خاموشی سے زہر دے دیا گیا۔
اگر ہم ان سب اموات کو جوڑ کر دیکھیں، تو ایک سنگین اور پُر اسرار کہانی ہمارے سامنے آتی ہے۔ ایک ایک کر کے تمام رہنما جو مسلم دنیا کو متحد کرنا چاہتے تھے، یا تو قتل ہوئے، یا اقتدار سے ہٹا دیے گئے، یا پھر سازشوں کے ذریعے خاموش کر دیے گئے۔
مسلہ مسلمان ممالک نہیں مسلہ مسلم دنیا کا ایک پلیٹ فارم ایک کرنسی اور طاقت بن کر ابھرنا ہے کیونکہ یہی متحد مسلم طاقت ہی عالمی صیہونی ورلڈ آرڈر کو زمین بوس کر سکتی ہے یہی وجہ ہے کہ آل سعود کو حجاز کی حکمرانی تو دے دی گئی لیکن ان کو اس بات کی اجازت نہیں دی گئی کہ وہ خود کو خلیفہ یا خلافت کا دعویٰ دار بنائیں یا اس کے قیام کی کوشش کریں امریکہ اور اس کے حواری خلافت سے اس قدر خوفزدہ ہیں کہ ابھی دو دن پہلے ہی صدر ٹرمپ نے نئے بھارتی نژاد مسلم مئیر کے امیدوار پر الزام لگایا کہ یہ خلافت قائم کرنا چاہتا ہے ان ممالک کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مسلم دنیا کو خلافت یا ایک جھنڈے تلے کوئی مضبوط پلیٹ فارم یا کلب بنانے نہیں دینا جو بھی اس کی آواز بلند کرے اسے راستے سے ہٹا دیا جائے۔
![]()

