Daily Roshni News

پئے نذرِ کرم تحفہ ہے شرمِ نارَسائی کا۔۔۔بہ خوں غلتیدۂ صد رنگ دعویٰ پارسائی کا

پئے نذرِ کرم تحفہ ہے شرمِ نارَسائی کا

بہ خوں غلتیدۂ صد رنگ دعویٰ پارسائی کا

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )اس شعر کو کھولنے سے پہلے اسے سمجھنا نہیں، چھونا ہے۔ اس کے دو لفظوں کو الگ کر لیں تو شعر مر جاتا ہے۔

پہلا لفظ ہے نذر غالب تحفہ، ہدیہ، پیشکش نہیں کہتا۔ نذر کہتا ہے۔ تحفہ برابری میں دیا جاتا ہے، نذر چھوٹے کی طرف سے بڑے کی طرف اٹھتی ہے۔ اس میں مانگنے والے کی بلندی اور دینے والے کی کمی دونوں شامل ہیں۔ اور پھر وہ کہتا ہے “پئے نذرِ کرم”۔ یہ تحفہ کسی شخص کو نہیں، خود کرم کو پیش کیا جا رہا ہے۔ یعنی محبوب کی ذات نہیں، اس کی کرم کرنے کی صفت مخاطب ہے۔ یہ انتہائی باریک عاجزی ہے۔

دوسرا لفظ ہے شرمِ نارسائی۔ یہاں شرم کوئی عام جھجک نہیں۔ نارسائی تک نہ پہنچ سکنے کی کیفیت ہے۔ پہنچنا ممکن ہی نہیں، یہ ادراک جب اندر اترتا ہے تو شرم بن جاتا ہے۔ یہ ندامت نہیں، حد شناسی ہے۔

اور دوسرے مصرعے میں دو لفظ ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے ہیں۔ دعویٰ پارسائی۔ غالب پارسائی نہیں کہتا، دعویٰٔ پارسائی کہتا ہے۔ پارسائی ایک حالت ہے، دعویٰ اس حالت کا اشتہار ہے۔ فرق وہی ہے جو ہونے اور دکھنے میں ہے۔ اور اس دعوے کی صفت کیا ہے، بہ خوں غلتیدۂ صد رنگ۔ خون میں لتھڑا ہوا، سو رنگ کا۔ صد رنگ فارسی روایت میں مکاری، رنگ بازی اور جھوٹی آرائش کے لیے آتا ہے۔ تو یہ دعویٰ پاکیزہ نہیں، زخمی ہے۔ اپنے ہی خون میں لت پت ہے۔

اب پہلے مصرعے میں ٹھہریں۔ کون بول رہا ہے؟ وہ جو پہنچ نہیں سکا۔ کس سے؟ اس سے جو کرم کر سکتا ہے۔ اس کے پاس کیا ہے دینے کو؟ کچھ بھی نہیں۔ نہ وصال، نہ کمال، نہ کوئی بڑا کارنامہ۔ اس کے پاس صرف ایک چیز ہے، اپنی نارسائی کا احساس، اور اس احساس پر آنے والی شرم۔ وہ اسی شرم کو تحفہ بنا کر لایا ہے۔ غور کریں، یہ کتنی الٹی حرکت ہے۔ دنیا میں لوگ اپنی قابلیت کا تحفہ لاتے ہیں، یہ اپنی ناکامی کی شرم کو نذر بنا رہا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ اس کے نزدیک سچائی قابلیت میں نہیں، اپنی حد کو دیکھ لینے میں ہے۔ “تحفہ ہے شرمِ نارسائی کا” میں ایک عجیب فخر بھی ہے۔ گویا کہہ رہا ہو، میرے پاس دینے کو صرف یہی سچ باقی رہ گیا تھا۔

دوسرا مصرع پہلے کا جواب نہیں، اس کا آئینہ ہے جو اسے زخمی کر دیتا ہے۔ پہلے مصرعے میں ایک شخص اپنی نارسائی مان کر شرمندہ کھڑا ہے۔ دوسرے میں دوسرا شخص ہے جو پارسا ہونے کا اعلان کر رہا ہے۔ ایک اپنی کمی کو نذر بنا رہا ہے، دوسرا اپنی پاکی کا دعویٰ سجا رہا ہے۔ اور غالب کہتا ہے، یہ دعویٰ بذاتِ خود خون آلود ہے۔ کیوں؟ کیونکہ جونہی تم نے کہا “میں پارسا ہوں”، تم نے پارسائی کو مار دیا۔ پارسائی اعلان سے نہیں، خاموشی سے زندہ رہتی ہے۔ دعویٰ کرتے ہی اس میں سو رنگ داخل ہو جاتے ہیں، نمود، خود پسندی، دوسروں سے برتر دکھنے کی خواہش۔ اس لیے یہ دعویٰ پاک نہیں، بہ خوں غلتیدہ ہے۔

پورے شعر کا باطن یوں کھلتا ہے کہ یہ دو اخلاقی راستوں کا تقابل ہے۔ ایک راستہ اعتراف کا ہے، دوسرا دعوے کا۔ اعتراف کرنے والا خالی ہاتھ ہے مگر سچا ہے۔ دعویٰ کرنے والا بھرا ہوا لگتا ہے مگر اس کا سچ زخمی ہے۔ غالب بتا رہا ہے کہ شرم، جو بظاہر کمزوری ہے، دراصل ایک تحفہ بن سکتی ہے، اور پارسائی، جو بظاہر طاقت ہے، دعویٰ بنتے ہی بوجھ بن جاتی ہے۔

یہی وہ نقطہ ہے جہاں شعر نفسیات میں اترتا ہے۔ انسان اپنی خامی سے اتنا نہیں ڈرتا جتنا اس تصور کے ٹوٹنے سے ڈرتا ہے جو اس نے اپنے بارے میں بنا رکھا ہے۔ ہم میں سے ہر ایک نے اپنے لیے ایک اخلاقی تصویر بنا رکھی ہے، میں اچھا ہوں، میں پاک ہوں، میں درست ہوں۔ اس تصویر کو برقرار رکھنے کے لیے ہم دعویٰ کرتے ہیں، وضاحتیں دیتے ہیں، دوسروں کو قائل کرتے ہیں۔ اور اسی کوشش میں ہماری اصل پارسائی، اگر کہیں تھی بھی تو، سو رنگ میں لت پت ہو جاتی ہے۔ جبکہ دوسری طرف وہ شخص جو کہتا ہے، میں نہیں پہنچ سکا، میں پورا نہیں ہوں، وہ ایک لمحے میں اس ساری کشمکش سے آزاد ہو جاتا ہے۔ اس کی شرم اس کے لیے تحفہ بن جاتی ہے کیونکہ وہ اسے دوسروں سے نہیں، اپنے آپ سے سچا کر دیتی ہے۔ جسے آج کی زبان میں ہم خود فریبی سے بچاؤ یا اپنی اخلاقی شناخت کی حفاظت کی بے چینی کہتے ہیں، غالب نے اسے دو مصرعوں میں پکڑ لیا ہے۔

فلسفہ یہاں نفسیات سے ایک قدم آگے جاتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ انسان اچھا ہے یا برا۔ سوال یہ ہے کہ سچ کیا ہے، وہ جو انسان ہے یا وہ جو انسان اپنے بارے میں کہتا ہے؟ غالب کا جواب بے رحم ہے۔ سچ وہ ہے جو شرم میں ہے، دعوے میں نہیں۔ کیونکہ شرمِ نارسائی وجود کی گواہی دیتی ہے، میں محدود ہوں۔ اور دعویٰٔ پارسائی وجود کو چھپاتا ہے، میں کامل ہوں۔ اعترافِ حد خود ایک اخلاقی بلندی ہے، جبکہ کمال کا دعویٰ خود ایک اخلاقی پستی۔ اسی لیے پہلا مصرع نذر ہے، دوسرا خون۔

آج کا انسان اس شعر کو اپنے کمرے میں بیٹھ کر زیادہ سمجھ سکتا ہے۔ ہم ہر روز اپنی پارسائی کا دعویٰ کسی نہ کسی اسکرین پر پیش کرتے ہیں۔ خیالات میں پاکیزہ، رائے میں برتر، اخلاق میں اونچے۔ ہمیں اپنی تصویر کی صفائی کا اتنا خیال ہے کہ ہم اس پر لگا ہر دھبہ دوسروں کی طرف پھیر دیتے ہیں۔ ہم معذرت نہیں، وضاحت پیش کرتے ہیں۔ ہم شرمندہ نہیں ہوتے، justify کرتے ہیں۔ غالب کہتا ہے، تم جسے تحفہ سمجھ کر پیش کر رہے ہو، وہ تو خون میں لتھڑا ہوا ہے۔ اور تم جسے چھپا رہے ہو، اپنی نارسائی کی وہ شرم، وہی دراصل وہ واحد چیز ہے جو تمہیں کسی کے کرم کے قابل بناتی ہے۔

اب اس شعر کو دوبارہ پڑھیں۔ یہ عاشق اور محبوب کی بات نہیں رہی۔ یہ اس انسان کی بات ہے جو اپنی ساری اخلاقی اداکاری کے بعد آئینے کے سامنے کھڑا ہے۔ ایک ہاتھ میں اس کی وہ شرم ہے جسے وہ کمزوری سمجھتا رہا، دوسرے ہاتھ میں وہ دعویٰ ہے جسے وہ طاقت سمجھتا رہا۔

اور فیصلہ اسے خود کرنا ہے کہ نذر کیا کرے اور کیا پھینک دے۔

Loading