Daily Roshni News

لڑکی کی قیمت کس نے لگائی۔

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )1980 سے پہلے پاکستان میں رشتہ معیشت نہیں تھا، برادری تھی۔ لڑکی دیکھی جاتی تھی کہ کس خاندان کی ہے، دین دار ہے یا نہیں، برادری میں نام کیسا ہے۔

پھر 90s میں پرائیویٹ ٹی وی، 2000s میں پرائیویٹ بینک لون، 2010 میں فیس بک، 2018 میں ٹک ٹاک آیا۔

سرمایہ دارانہ نظام کو ہر معاشرے میں ایک ہی چیز چاہیے ہوتی ہے: ہر انسان کو غیر محفوظ بناؤ، پھر اس کو حل بیچو۔

اس نے پاکستانی عورت کو غیر محفوظ کیسے بنایا؟

اس نے کہا: تم کالی ہو، تمہیں گورا ہونا چاہیے۔ تم موٹی ہو، تمہیں سمارٹ ہونا چاہیے۔ تمہارے کپڑے سستے ہیں، تمہیں برانڈ پہننا چاہیے۔

نتیجہ: پاکستان میں گورا کرنے والی کریم کی مارکیٹ 4 ارب روپے سے زیادہ کی ہے۔ لان کی ایک کلیکشن ایک دن میں 2 ارب کی بک جاتی ہے۔ شادی ہال کی بکنگ 6 مہینے پہلے ہوتی ہے۔

یہ سب تب بکتا ہے جب لڑکی کو لگے کہ میری کوئی قیمت نہیں۔

سوچ کیسے بدلی؟

 – ضرورت سے خواہش بنی:

پہلے شادی ضرورت تھی۔ اب شادی ایونٹ ہے۔ پہلے نکاح مسجد میں ہوتا تھا۔ اب 500 بندے کا ہال، فوٹوگرافر، ڈرون، سٹیج۔ یہ خواہش نہیں، یہ دکھاوا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام نے ضرورت کو خواہش میں بدلا۔

 – خواہش سے مقابلہ بنا:

جب تمہاری کزن کی شادی میں 400 بندے آئے، تو تمہاری ماں کہتی ہے ہماری میں 500 آنے چاہئیں۔ جب اس نے کھاڈی پہنا، تو تمہیں ماریا بی پہننا ہے۔ یہ مقابلہ تمہارا نہیں، برانڈز کا بنایا ہوا ہے۔ اس کو Veblen نے (Conspicuous Consumption) کہا تھا۔ مطلب لوگ چیزیں استعمال کے لیے نہیں، دکھانے کے لیے خریدتے ہیں۔

 – مقابلے سے قیمت بنی:

اب جب ہر چیز دکھانے کے لیے ہے، تو ہر لڑکی کی ایک قیمت لگ گئی۔

ڈاکٹر لڑکی = 50 لاکھ کی بارات والا لڑکا

گوری لڑکی = اچھا جہیز نہ بھی ہو تو چلے گا

چھوٹے شہر کی لڑکی = قیمت کم، چاہے کتنی بھی اچھی ہو

یہ قیمت لڑکی نے نہیں لگائی۔ یہ شادی ہال والے نے، لان والے نے، پارلر والے نے، رشتہ آنٹی نے مل کر لگائی۔

 – قیمت سے سوچ بنی:

20 سال یہی دیکھنے کے بعد اب ہمارے ماں باپ کو لگتا ہے یہی نارمل ہے۔ اب ماں خود اپنی بیٹی کو کہتی ہے “بیٹا تھوڑا میک اپ کر لو، تھوڑا وزن کم کر لو، ورنہ رشتہ نہیں آئے گا۔” ماں غلط نہیں، ماں اسی نظام میں زندہ ہے جس نے اس کو سکھایا ہے کہ بیٹی کی قیمت اس کی شکل سے ہے۔

یہ نظام اکیلا کام نہیں کرتا، اس کے 3 انجن ہیں جو روز تمہارے دماغ میں قیمت کا بٹن دباتے ہیں:

  1. خاندان کا پریشر: “خالہ کی بیٹی کی شادی اتنے بڑے گھر میں ہوئی ہے، تمہاری بھی ویسے ہونی چاہیے۔” یہ پیار نہیں، یہ سٹیٹس کا پریشر ہے۔

  1. برادری کا پریشر: “لوگ کیا کہیں گے اگر سادہ شادی کی۔” لوگوں کو تمہاری شادی سے کوئی مطلب نہیں، مگر سرمایہ دارانہ نظام نے “لوگ کیا کہیں گے” کو “لوگ کیا سوچیں گے اگر ہم غریب لگے” میں بدل دیا ہے۔

  1. سوشل میڈیا کا پریشر: پہلے 2 گھروں کی شادی دیکھتی تھی، اب انسٹاگرام پر روز 20 شادیاں دیکھتی ہو۔ ہر شادی میں لہنگا، جیولری، دبئی ہنی مون۔ دماغ کہتا ہے میری بھی ویسی ہونی چاہیے، ورنہ میں کم ہوں۔

یہ تینوں مل کر لڑکی کے ذہن میں ایک ہی بات ڈالتے ہیں: تمہاری عزت نہیں، تمہاری قیمت اہم ہے۔

نتیجہ – ذہن کی غلامی

مارکس نے اس کو (Commodity Fetishism) کہا تھا۔ مطلب جب انسان خود کو چیز سمجھنے لگے۔

آج پاکستان میں لڑکی خود کو چیز سمجھتی ہے۔ وہ صبح اٹھ کر سوچتی ہے میں کیسی لگ رہی ہوں، میری قیمت آج کتنی ہے۔ لڑکا خود کو ATM سمجھتا ہے۔ وہ سوچتا ہے میری تنخواہ کتنی ہے، میری قیمت کتنی ہے۔

جب دو چیزیں آپس میں شادی کرتی ہیں تو گھر نہیں بنتا، سودا ہوتا ہے۔ اور سودا جب گھاٹے میں جائے تو ٹوٹ جاتا ہے۔ اسی لیے طلاق بڑھ رہی ہے، ڈپریشن بڑھ رہا ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام نے بہت ہوشیاری سے ہمیں یہ سکھا دیا ہے کہ محبت مفت میں نہیں ملتی، اس کی قیمت چکانی پڑتی ہے۔

اور جب محبت کی قیمت لگ جائے، تو محبت مر جاتی ہے، صرف بل باقی رہتا ہے۔

Loading