ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )سرمایہ دارانہ نظام نے محبت کو بھی نیٹ فلکس بنا دیا ہے۔
اچھا لڑکا کیا دیتا ہے؟
سکون، وفاداری، عزت، ٹائم۔ یہ چیزیں سرمایہ دارانہ نظام میں بورنگ ہیں۔ کیونکہ ان میں ڈرامہ نہیں۔ ان میں ایڈرینالین نہیں۔
برا لڑکا کیا دیتا ہے؟
ٹینشن، لڑائی، بریک اپ، پیچ اپ، سٹوری، رونا، ہنسنا۔ یہ سب ڈوپامین ہے۔ یہ نشہ ہے۔
نفسیات میں اس کو (Trauma Bonding) اور (Intermittent Reinforcement) کہتے ہیں۔ مطلب جب کوئی انسان کبھی بہت پیار دے اور کبھی اچانک غائب ہو جائے، تو دماغ اس کا عادی ہو جاتا ہے۔ بالکل جیسے جوئے کا عادی۔ اچھا لڑکا روز پیار دیتا ہے، تو دماغ کو نشہ نہیں ملتا۔ برا لڑکا کبھی کبھی پیار دیتا ہے، تو دماغ کو لگتا ہے جیک پاٹ لگ گیا۔
پاکستانی سوسائٹی میں یہ کیسے بنا؟
پاکستانی ڈرامے نے 20 سال تک یہی سکھایا ہے۔ اچھا لڑکا ہمیشہ دوسرے نمبر کا ہوتا ہے، جو آخر میں روتا ہے۔ ہیرو ہمیشہ وہی ہوتا ہے جو لڑکی کو رلاتا ہے، چیختا ہے، پھر آخر میں معاف کر دیتا ہے۔ لڑکیاں بچپن سے یہی کہانی دیکھ کر بڑی ہوئی ہیں کہ محبت میں رونا ضروری ہے۔
پھر ٹک ٹاک، ریلز۔ وہاں بھی وہی لڑکا وائرل ہے جو کہتا ہے “میں ایسا ہی ہوں، برداشت کرو تو کرو۔” اچھا لڑکا جو عزت سے بات کرتا ہے، اس کی ویڈیو پر ویوز ہی نہیں آتے۔
نتیجہ: لڑکی کو لگتا ہے کہ اگر لڑکا مجھے تنگ نہیں کر رہا، مجھے جیلس نہیں کر رہا، مجھے رلا نہیں رہا، تو وہ مجھ سے محبت ہی نہیں کرتا۔ سکون بور لگنے لگتا ہے۔
سرمایہ دارانہ ٹوئسٹ:
سرمایہ دار کو بورنگ چیزیں نہیں بکتیں۔ سکون نہیں بکتا۔ وفاداری نہیں بکتی۔ ڈرامہ بکتا ہے۔ اسی لیے کاسمیٹکس، فیشن، ڈرامے سب تمہیں یہی سکھاتے ہیں کہ محبت میں تھوڑا زہر ہونا چاہیے۔
اچھا لڑکا تمہیں کہے گا “پیسے بچا لو۔” برا لڑکا تمہیں کہے گا “نیا جوڑا لو، تمہارے لیے۔” سرمایہ دار کو کون پسند ہے؟ برا لڑکا۔ کیونکہ وہ تم سے خرچ کرواتا ہے۔
اس لیے اچھا لڑکا بور لگتا ہے، کیونکہ وہ تمہیں بچاتا ہے، اور نظام کو بچانے والے لوگ نہیں چاہئیں، خرچ کرنے والے چاہئیں۔
![]()

