*پاکستان-ترکیے بزنس کانفرنس استنبول، اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے 200 رکنی وفد کی آمد، معاہدوں پر دستخط، دونوں ممالک کے درمیان کاروباری اور تجارتی روابط میں تیزی۔۔*
استنبول، ترکیے (ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔نمائندہ خصوصی ۔۔۔ سید رضوان حیدر بخاری)گذشتہ ماہ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کے وفد کے ہمراہ ترکیے کے دورے میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو فروغ دینے اور تجارتی حجم کو 2۔1 بلین ڈالر سے 5 بلین ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔۔ اسی حوالے سے اقدامات کیلئے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے 200 اراکین پر مشتمل ایک بڑے وفد کی استنبول آمد۔ وفد کی قیادت صدر اسلام آباد چیمبر سردار طاہر محمود کر رہے تھے ۔۔
وفد کی جانب سے پاکستان اور ترکیے کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم پاکستان-ترکیے بزنس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں بڑی تعداد میں ترکش کمپنیوں اور ترکش کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔ کانفرنس کے مہمان خصوصی ڈپٹی گورنر استنبول مہمت سلوم اور استنبول میں پاکستان کے قونصل جنرل خواجہ خرم نعیم تھے۔۔
پاکستانی وفد میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی اہم کاروباری شخصیات، صنعت کار، سرمایہ کار اور معروف بزنس لیڈرز شامل تھے، جنہوں نے ترکیے کے کاروباری حلقوں کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں کے فروغ کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔
پاکستان اور ترکیے کی قیادت نے دوطرفہ تجارت کو موجودہ سطح سے نمایاں طور پر بڑھانے اور 5 ارب امریکی ڈالر کے تجارتی ہدف کے حصول کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
استنبول میں ہونے والی اس کانفرنس میں اسی وژن کو عملی شکل دینے کے لیے نجی شعبے کے کردار پر توجہ مرکوز کی گئی۔ پاکستانی اور ترک کاروباری شخصیات نے تجارت، سرمایہ کاری، مشترکہ منصوبوں اور دونوں ممالک کی مارکیٹوں تک رسائی کے نئے مواقع پر بات چیت کی۔
200 سے زائد پاکستانی کاروباری نمائندوں کی شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان کی کاروباری برادری ترکیے کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو مزید وسعت دینے میں گہری دلچسپی رکھتی ہے۔
یہ کانفرنس پاکستان اور ترکیے کے درمیان تاریخی برادرانہ تعلقات کو مضبوط اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنے کی جانب ایک اور اہم قدم قرار دی جا رہی ہے۔
دونوں ممالک کی قیادت کے 5 ارب ڈالر کے تجارتی ہدف کے ساتھ اب نظریں اس بات پر ہیں کہ کاروباری برادری اس وژن کو عملی معاہدوں، سرمایہ کاری اور بڑھتی ہوئی دوطرفہ تجارت میں کس طرح تبدیل کرتی ہے۔
![]()


















