پاکیزہ
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ) ” اللہ اکبر اللہ اکبر“(اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے )
یہ آواز سنتے ہی وہ بیدار ہوئی۔
اسے آٹھ سال پہلے ہی نماز سے محبت ہوگئی تھی۔ اسے نماز میں سکون ملتا تھا۔
اسنے وضو کیا اور نماز ادا کی۔
”واقعی کتنا سکون ملتا ہے فجر میں اٗٗٹھ کر، دس بجے سو کر اٹھنے والوں کو تو اسکا علم ہی نہیں۔“ اس نے سوچا، اور پھر قرآن پاک لے کر بیٹھ گٸ۔
اسکی عادت تھی نمازسے فارغ ہو کر وہ قرآن پاک کی تلاوت کرتی تھی- تلاوت سے فارغ ہو کر وہ کمرے سے باہر آگئ-
کچن میں فاطمہ بیگم ناشتے کی تیاری کر رہی تھیں۔
اس نے کچن میں داخل ہوتے ہی سلام کیا۔
”السلام علیکم میری پیاری امی جان“۔
”وعلیکم السلام میرا بچہ“۔
فاطمہ بیگم نے خوش دلی سے سلام کا جواب دیا۔
”لاءیں امی میں چائے بنا دوں“۔
”ہمم ٹھیک ہے بیٹا مگر پہلے حیا اور حنین کو اٹھا دو, نہیں تو یوں ہی سوۓ رہنا ہے دونوں نے۔“
”جی امی“……..
اس گھر میں صبیحہ بیگم (دادی), ان کے بڑے بیٹے سلیمان رضا صاحب ,ان کی اہلیہ فاطمہ بیگم اور ان کے تین بچے رہتے ہیں۔
سب سے بڑی بیٹی ادیبہ, پھر حیا اور چھوٹا بھائی حنین رضا۔
ادیبہ کی پڑھائی مکمل ہو چکی تھی۔ اسے دین سے محبت تھی۔ وہ سنجیدہ ,باوقار اور نمازوں کی پابند تھی۔ بارہویں جماعت کے بعد سے اس نے دینی کتابوں کا مطالعہ کرنا شروع کر دیا تھا۔
حیا کی پڑھائی مکمل ہونے میں ایک سال باقی تھا۔
اور حنین رضا ,اس سال یونیورسٹی میں داخل ہوئے تھے۔
___________________________
”ادیبہ آپی آپ فارغ ہو کیا؟“ حیا ادیبہ کے کمرے میں آئی, ادیبہ اس وقت دینی کتابوں کا مطالعہ کر رہی تھی۔
”ہمم کیا کام ہے؟“ ادیبہ نے ایک نظر حیا کو دیکھ کر کہا۔ اور دوبارہ نظریں کتاب پر کرلی۔
”مجھے شاپنگ کرنی ہے آپ چلو نا پلیز“ حیا نے التجاءیہ نظروں سے ادیبہ کی طرف دیکھ کر کہا, کیونکہ اسے پتہ تھا اگے سے کیا جواب آنے والا ہے۔
”حیا شاپنگ, شاپنگ, شاپنگ اور کوٸ کام رہ گیا ہے تمہارا, ابھی دو دن پہلے ہی تو گئی تھی شاپنگ پر۔“
ادیبہ نے غصے سے کہا کیونکہ ابھی دو دن پہلے ہی حیا اسے اپنے ساتھ شاپنگ پر لے کر گئی تھی۔
”آپی پلیز چلو نا , lمی بھی نہیں جا رہیں, حنین صاحب کو تو ویسے ہی دوستوں کے ساتھ گھومنے سے فرصت نہیں ہے۔ آپ میری پیاری سی آپی ہو نا چلو نا پلیز۔“
”اچھا ٹھیک ہے مگر اس کے بعد اگر تم نے رٹ لگائی نا شاپنگ کی تو دیکھنا۔“ ادیبہ نے کتاب بند کرتے ہوئے کہا۔ ”تھینک یو سو مچ آپی“ حیا خوشی کے مارے ادیبہ کے گلے لگ گئی ۔
”اچھا اب زیادہ اورایکٹنگ مت کرو“ ادیبہ نے اس کو خود سے الگ کیا۔
”آپی آپ جلدی سے عبایا لگا لو میں نیچے ویٹ کرتی ہوں آپ کا“ یہ کہہ کر حیا نیچے چلی گئی۔
___________________________
”روحان خان“ جو اپنے نام کا ایک ہی تھا۔
ضدی, کامچور , جلد باز۔ اس کو جو لقب دیا جائے کم تھا۔
احمد رضا خان کے گھر میں احمد رضا, ان کی اہلیہ صوفیہ بیگم اور ان کا بگڑا ہوا اکلوتا بیٹا روحان خان رہتے تھے۔
روحان خان(R.K) ,جو حد سے زیادہ بگڑا ہوا, ضدی ,شریر, دنیا دار اور ایک اعتبار سے گنڈا کہنا مناسب ہو گا۔ مگر گھر والوں کے سامنے وہ سلجھا ہوا نوجوان تھا۔
کالج یونیورسٹی ہر جگہ اس کا رعب تھا۔ اس کے پاس خوبصورتی تھی تو وہ اس کا استعمال بھی جانتا تھا۔
وہ کبھی خود سے کسی لڑکی سے دوستی نہیں کرتا تھا۔ ہر لڑکی خود ہی اُس سے دوستی کی ابتدا کرتی تھی۔ اس کی کالی سیاہ آنکھوں میں ایک الگ ہی کشش تھی، لڑکیاں خود ہی اس کی طرف کھنچی چلی آتی تھیں۔
وہ ہر وقت ہنسی مذاق میں لگا رہتا تھا۔ اس کے سبھی دوست یونیورسٹی سے فارغ ہو چکے تھے، مگر وہ ہر بار فیل ہونے کی وجہ سے ابھی تک لاسٹ ایئر میں اٹکا ہوا تھا۔
وہ پوری یونیورسٹی میں مشہور تھا اور یونیورسٹی کے لڑکے لڑکیاں اس کے فین تھے۔
پوری یونیورسٹی کی طرح حنین بھی روحان کا فین تھا۔ حیا بھی روحان کے گروپ کی تھی ادیبہ کو یہ بات بالکل پسند نہیں تھی کہ لڑکوں سے دوستی رکھی جائے مگر وہ حیا ہی کیا جو کسی کی بات مان لے۔
___________________________
”ابے یار! قسم سے آج تو مس ماہین کی شکل ہی اتر گئی تھی، مزہ آگیا۔“ روحان نے آج مس ماہین کو حیران کر ڈالا تھا۔
”یار بلاوجہ دماغ کی دہی کر رہی تھیں۔ بار بار بول رہی تھیں کہ کوٸ سوال ہے تو پوچھ لو ,اب میں نے کچھ غلط تو نہیں پوچھا تھا بس اُس ڈریس کی قیمت ہی تو پوچھی تھی جو سر سلیم نے انہیں دیا تھا۔“ ازلان (جو کہ روحان کا بیسٹ فرینڈ تھا) اس کی باتوں پر قہقہہ لگا رہا تھا۔
”باۓ دا وے , حنین آج حیا یونی نہیں آٸ“ ازلان نے حنین سے پوچھا۔
” آج میری پیاری آپی کے سر میں درد ہو رہا تھا اسی لیے حیا آپی نہیں آٸ۔“
”اب کون سی آپی ,یار کتنی آپی ہیں تیری؟؟؟“
” یار میری بڑی آپی“۔
”کیااااااااا؟؟؟؟؟؟“
روحان اور ازلان دونوں چونک گۓ کیونکہ آج تک حیا نے انہیں ادیبہ کے بارے میں نہیں بتایا تھا۔
___________________________
”یار حیا ایک بات تو بتاؤ تمہاری کوئی بہن بھی ہے کیا؟؟“ اگلے دن ازلان نے حیا سے سوال کیا۔
روحان بھی ان کے ساتھ تھا۔
” کیا؟؟؟“ حیا ڈر گئی, روحان نے اس کے چہرے کے بدلتے تأثرات دیکھ لیے تھے۔
”یار اس میں چھپانے والی کیا بات ہے؟ تم نے آج تک ہمیں کیوں نہیں بتایا کہ تمھاری بہن بھی ہے۔“ ازلان نے اُس سے پوچھا۔
”بس ایسے ہی نہیں بتایا, میری آپی پردہ کرتی ہیں تو میں نہیں چاہتی کہ کوئی ان کے بارے میں بات بھی کرے, وہ بہت پاکیزہ اور نیک ہیں۔“حیا نے ڈرتے ڈرتے جواب دیا۔
”ہاؤ از دیٹ پوسیبل؟؟؟“ اب کی بار سوال روحان کی طرف سے تھا۔
”آج کے دور میں کہاں ہوتی ہیں ایسی لڑکیاں جو پردہ کرتی ہیں یہ تو پرانی عورتوں کا رواج ہے۔“
”ہوتی ہیں آج کے دور میں ایسی لڑکیاں ,میں نے اپنی آپی کو دیکھا ہے, وہ راتوں کو اٹھ کر تہجد پڑھتی ہیں, رو رو کر اللہ سے دعائیں مانگتی ہیں, خیر چھوڑو یہ ذکر, میں چلتی ہوں مجھے دیر ہو رہی ہے, حنین ویٹ کر رہا ہوگا, اللہ حافظ !“ یہ کہہ کر حیا چلی گئی اور روحان کے چہرے پر شریر مسکراہٹ آ گئی۔
___________________________
”انکل یہ والا ڈریس دکھانا۔“
حیا جو آج پھر ادیبہ کو اپنے ساتھ بازار لے آئی تھی اور پچھلے ایک گھنٹے سے اس نے پوری دکان کے کپڑے دیکھ لیے تھے, مگر اسے کچھ سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا
”حیا چلو گڑیا ,بہت دیر ہو گئی ہے۔“ ادیبہ جو اب بار بار اس کے کپڑے ریجیکٹ کرنے پر اکتا گئی تھی۔
” ہاں بس آپی آٸ, انکل یہ والا پیک کردیں۔“
ابھی وہ دونوں دکان سے نکل ہی رہی تھیں کہ سامنے سے ازلان اور روحان جا رہے تھے۔
”ہائے حیا!“ دونوں نے حیا کو دیکھا تو حیا کے پاس آکر کہا۔
”میں بعد میں ملتی ہوں“ حیا کہتے ہی ادیبہ کے ساتھ جلدی سے روڈ کراس کر گئی۔
”ارے یار یہ حیا کو کیا ہوا ہے,بغیر کچھ کہے ایسے ہی چلی گئی۔“ ازلان حیران تھا۔
”ارے یار ساتھ میں شاید کوئی آنٹی وغیرہ تھی اسی لیے بات نہیں کر رہی ہو گی, تو چل اب, دیر ہو رہی ہے۔“ روحان نے جواب دیا ۔
___________________________
”حیا کون تھے وہ لڑکے؟؟“ ادیبہ نے گھر آتے ہی حیا کی کلاس لینی شروع کر دی۔
” آپی وہ میرے یونی فیلوز ہیں۔“ حیا نے ڈرتے ڈرتے جواب دیا۔ کیونکہ اس وقت ادیبہ بہت زیادہ غصے میں تھی۔
”یونی فیلوز ہیں تو یوں راستے میں روک کر تمہیں ہیلو ہائے کرتے پھریں گے, تمھیں میں نے کتنی دفعہ منع کیا کہ لڑکوں سے دور رہا کرو, مگر تمہیں میری بات سمجھ نہیں آتی شاید۔“
”آپی وہ صرف میرے دوست ہی تو ہیں۔“ حیا نے معصوم سی شکل بنا کر کہا۔
”تمہیں جب میں نے منع کیا تھا کہ لڑکوں سے دوستی مت کرنا پھر بھی تم نے دوستی کی, مطلب میرا بولنا نہ بولنا ایک برابر ہے تمھارے لیے۔“
”آپی ایسی بات نہیں ہے, وہاں پر سب لڑکیاں لڑکے ایک دوسرے کے دوست ہوتے ہیں ,تو میں نے بھی دوستی کرلی۔“
”حیا وہاں پر تو اور پتہ نہیں کیا کیا ہوتا ہے لڑکا لڑکی کے درمیان, کل کو تم کہنا آپی سب ہی تو کرتے ہیں میں بھی کر لونگی تو کیا ہوجائےگا۔“ ادیبہ غصے سے آگ بگولا ہو رہی تھی
”آپی ایسے تو نہ بولیں۔“ حیا کی آنکھوں میں ادیبہ کی بات سن کر آنسو آنے لگے۔
”حیا آئیندہ میں تمھیں لڑکوں کے ساتھ نہ دیکھوں, خاص طور پر اس لڑکے کے ساتھ جو ابھی راستے میں ملا تھا۔“ ادیبہ روحان کی بات کر رہی تھی کیونکہ اسے روحان خان سے سخت نفرت تھی۔
”مگر آپی وہ تو ازلان اور روحان تھے۔“
”اس گھٹیا انسان کا نام مت لو میرے سامنے حیا۔“ ادیبہ کو روحان کا نام سنتے ہی آگ لگ گئی تھی۔
”مگر آپی۔“ حیا کچھ بولتی اس سے پہلے ہی ادیبہ نے اس کی بات بیچ میں کاٹ دی۔
”تم جانتی بھی ہو وہ کس کا بیٹا ہے, حیا۔“
” آپی آپ کس کی بات کر رہی ہیں روحان کی یا پھر ازلان کی۔“حیا حیران تھی کہ ادیبہ ان کو کیسے جانتی ہے۔
”میں نے تو آپی کو کبھی نہیں بتایا انکے بارے میں۔“حیا نے دل میں سوچا۔
”میں روحان کی بات کر رہی ہوں۔“ ادیبہ نے دانت پیستے ہوئے کہا۔
”مگر اس نے کیا کیا ہے آپی, وہ بہت اچھا انسان ہے۔“ ”اچھا انسان ہے؟ واہ حیا! تم جانتی کیا ہو اس کے بارے میں ,اگر ایک بار تم جان لو نا کہ اس کے باپ نے کیا کیا ہے, تو تم اس سے دوستی کرنا تو دور کی بات ,اس کی شکل بھی نہ دیکھو۔“ ادیبہ کے پرانے زخم ایک بار پھر تازہ ہو گئے تھے۔
”آپی ایسا کیا کیا ہے اس کے باپ…“ حیا اپنی بات مکمل کرتی اس سے پہلے ہی ادیبہ بول پڑی۔
”حیا جاٶ اپنے روم میں, مجھے اور کوئی بحث نہیں کرنی ابھی۔“
”مگر آپی..“
”حیا جاؤ اپنے روم میں۔“اب کی بار ادیبہ نے تھوڑا تیز بولا۔
حیا بھیگی آنکھوں کے ساتھ اپنے کمرے میں چلی گئی۔ ادیبہ نے حیا کے جاتے ہی اپنے کمرے کا دروازہ بند کیا اور وہیں گھٹنوں میں سر دیئے بیٹھ گئی۔ آج پھر اس کے زخم تازہ ہو گئے تھے, ماضی کی تلخ یاد اس کے سامنے آ گئی تھی۔ احمد رضا خان چھوڑوں گی نہیں تمہیں تم نے 8 سال پہلے جو کیا نہ میرے ساتھ, بھولی نہیں ہوں میں۔“ ادیبہ کا چہرہ ضبط کے مارے لال ہو گیا تھا۔ اس نے اپنے آنسو صاف کیے اور اٹھی پھر واش روم جاکر وضوکیا اور نماز پڑھنے کھڑی ہوگی نماز پڑھنے کے بعد اس نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھاۓ, تو ماضی کی یاد اس کے دماغ میں گھوم گئی اور وہ زاروقطار رونے لگی۔
” یا اللہ مجھے کمزور نہ کر, مجھے ہمت دے, میں اُُس گنہگار کو سزا دلوا سکوں۔ وہ رو رو کر اللہ سے دعاءیں مانگ رہی تھی۔
___________________________
”آپی روحان کو کیسے جانتی ہیں۔“ حیا اپنے روم میں ادھر سے ادھر چکر کاٹتے ہوئے ایک ہی بات سوچ رہی تھی میں نے تو کبھی آپی کے آگے ذکر نہیں کیا۔“
” آخر ایسی کیا بات ہے جو مجھے نہیں پتا“……..
جاری ہے……..
#IslamicNovel
#UrduNovel
#RomanUrduStory
#IslamicStory
#DeeniKahani
#HayaAurImaan
#NamazKiTaqat
#QuranKiRoshni
#PardaAurHaya
#ImanVsDuniya
#PakizaMohabbat
#SabrAurDua
#TahajjudKiDua
#DilKoSukoon
#TrueIslam
![]()

