#IslamicNovel
#پاکیزہ
#قسط_نمبر_3
”ادیبہ آپی, ادیبہ آپی کہاں ہو آپ۔“ حنین گھر آیا تو ادیبہ کو ڈھونڈنے لگ گیا۔
”ارے بیٹا کیوں چینخ رہے ہو ادیبہ اپنی دادی کے سر پر تیل لگا رہی ہے, تمہیں کیا کام ہے؟“ فاطمہ بیگم نے کہا۔
”میں آپی کے لئے چاکلیٹس لایا ہوں۔“ ادیبہ کو چاکلیٹ بہت پسند تھی۔
”بےوفا انسان میں نے کیا بگاڑا ہے تمہارا۔“ حیا نے ناراض ہوتے ہوئے کہا۔
”ارے یار آپ تو اتنییییییییییی بڑی ہو۔ آپ کیا کروگی چاکلیٹ کھا کر۔“
(حنین کا کہنا تھا کہ ادیبہ حیا سے چھوٹی لگتی ہے۔) حنین نے اتنی کو اتنا کھینچا کہ دونوں کو بے ساختہ ہنسی آگئی۔
”آنے دو تمہاری شریک حیات کو پھر بتاتی ہوں تمھیں تو میں۔“ حیا نے جان بوجھ کر وہی ٹوپک چھیڑا جس سے حنین چڑتا تھا۔
”امی آپ دیکھ رہی ہیں یہ کیسے اپنے چھوٹے سے, معصوم سے بھائی کو تنگ کر رہی ہیں۔“ حنین نے فاطمہ بیگم کو شکایت لگائی۔
”حیا بیٹا کیوں میرے بیٹے کو تنگ کر رہی ہو۔“ فاطمہ بیگم ہمیشہ اپنے بیٹے کی سائڈ لیتی تھیں۔
”آپ تو بس اپنے معصوم سے بیٹے کی طرف داری کرنا, مجھے تو لگتا ہے آپ لوگ مجھے سڑک سے اٹھا کر لاۓ تھے ,کوئی ویلیو ہی نہیں ہے میری۔“ حیا نے ناراض ہوتے ہوئے کہا۔
حنین ادیبہ کے روم میں گیا اور وہاں جاکر ویٹ کرنے لگا۔
ادیبہ کا کمرہ بہت ہی نفاست سے سجا ہوا تھا۔ وہاں جاکر حنین کو بہت سکون ملتا تھا۔
(جس جگہ ہر وقت اللہ کا ذکر کیا جاۓ وہاں بہت سکون ملتا ہے۔)
”السلام عليكم ورحمة الله وبركاته۔“ ادیبہ کمرے میں آئی تو حنین نے سلام کیا۔
”وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته۔“
”یہ لیں آپی میں آپ کے لیے چاکلیٹس لایا ہوں۔“
”جزاک اللہ حنین۔“
"اچھا آپی میں چلتا ہوں, بازار بھی جانا ہے اُففففف۔”
اُس نے اس انداز میں اُفف کہا کہ ادیبہ کی ہنسی چھوٹ گئی۔
”ادیبہ آپی مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔“ ابھی حنین گیا ہی تھا کہ حیا ادیبہ کے روم میں آ کر کہنے لگی۔
”جی بولو کیا بات کرنی ہے۔“
”ادیبہ آپی وہ میری ایک فرینڈ ہے, اسے دین سیکھنے کا بہت شوق ہے ,تو وہ پوچھ رہی تھی کیا آپ اسے دین سکھا دیں گی؟“
”ماشاءاللہ یہ تو بہت اچھی بات ہے ,اسے کہو کہ کوئی مدرسہ جوائن کرلے وہاں پر دین سیکھنے کو مل جاۓ گا۔“
”مگر آپی وہ آپ سے دین سیکھنا چاہتی ہے اور ویسے بھی آپ اسے دین سیکھاٶ گی تو آپ کو کتنا ثواب ملے گا نا۔“
”نام کیا ہے اُسکا؟“
”حمنہ نام ہے اُسکا۔“
”اچھا ٹھیک ہے میں اسے سکھا دوں گی۔“
”ٹھیک ہے آپی میں اسے کہہ دوں گی۔“
حیا کہہ کر چلی گئی۔
_________________________
”حمنہ مبارک ہو ادیبہ آپی مان گئی۔“ سارہ ابھی ابھی حیا سے مل کر آئی تھی۔
”کیا سچییییی۔“ حمنہ خوشی کے مارے جھوم اٹھی۔
”مگر تمہیں وہ کرنا پڑے گا جو میں کہوں گی۔“
”اچھا ٹھیک ہے بولو کیا کرنا ہے۔“
”تمہیں حجاب پہننا ہوگا, تم مکمل پردے میں ان کے گھر جاؤ گی۔“
”واٹ! پاگل ہوگئی ہو تم؟ میں اور حجاب نونونو ۔“
”تو پھر ٹھیک ہے میں نہیں ملوا رہی تمہیں ادیبہ آپی سے۔“
”یار ایسے تو نہیں کر, اچھا ٹھیک ہے میں لے لوں گی حجاب, کب جانا ہے ان کے گھر؟“
”شام میں چلیں گے, تم شام میں میرے گھر آ جانا میں تمہیں اُنکے گھر چھوڑ دوں گی۔“
”ٹھیک ہے۔“
_________________________
”ماشاءاللہ! میری بیٹی نے حجاب لینا شروع کردیا۔“ جہانگیر صاحب (حمنہ کے والد) نے حمنہ کو پہلی بار حجاب لیتے دیکھا تو تعریف کیے بغیر نہیں رہ سکے۔
”جی ابو میرا دل کر رہا تھا, آج سے میں حجاب پہن کر گھر سے باہر جایا کروں گی۔“ حمنہ نے کہا۔
”ماشاءاللہ! بیٹا یہ تو بہت اچھی بات ہے, مگر اس وقت کہاں جا رہی ہو؟ ابھی تو یونیورسٹی سے آئی ہو۔“
”ابو وہ میری دوست سے ملنے جا رہی ہوں, میری دوست دینی تعلیمات سکھاتی ہیں, تو میں نے سوچا میں تھوڑا بہت دین کے بارے میں سیکھ لوں۔“
(حمنہ کو بالکل شوق نہیں تھا دینی تعلیمات سیکھنے کا ,وہ تو بس حنین کے لئے سیکھ رہی تھی۔)
”ٹھیک ہے بیٹا مگر جلدی آ جانا۔“ جہانگیر صاحب نے کہا۔
(حمنہ کی امی کا حمنہ کے پیدا ہونے کے وقت انتقال ہو گیا تھا ,اس لئے جہانگیر صاحب اور حمنہ گھر میں اکیلے رہتے تھے۔)
”اللہ حافظ ابو۔“ حمنہ دروازے سے نکلتے ہوئے کہنے لگی۔
”اللہ حافظ بیٹا۔“
_________________________
حمنہ اور سارہ سلیمان رضا ہاؤس کے باہر کھڑی تھیں۔ ”یہ تم مجھے حنین کے گھر لائی ہو۔“ حمنہ نے اشتیاق لہجے میں پوچھا۔
”ہاں حنین بھائی کے گھر ہی لائی ہوں مگر تم شرافت کا مظاہرہ رکھنا اندر جا کر اپنی گنڈاگردی شروع مت کر دینا۔“
ان دونوں نے دروازے سے اندر قدم رکھا تو انہیں حیا نظر آئی۔
”اسلام علیکم حیا آپی۔“ انہوں نے سلام کیا۔
”وعلیکم السلام, آٶ اندر۔“حیا انہیں گھر کے اندر لے گئی۔
”السلام علیکم آنٹی۔“ انہوں نے فاطمہ بیگم کو سلام کیا۔
”وعلیکم السلام, بیٹا بیٹھو۔“ فاطمہ بیگم نے خوش دلی سے انہیں سلام کا جواب دیا۔
”سارہ بیٹا اس وقت خیریت سے آنا ہوا؟“
”آنٹی یہ میری دوست ہے حمنہ, اسے ادیبہ آپی سے دین سیکھنے کا بہت شوق ہے, اس لیے ان سے ملنے کے لیے آۓ ہیں۔“
”ماشاءاللہ بیٹا یہ تو بہت اچھی بات ہے, حیا جاؤ ادیبہ اپنے کمرے میں ہو گی انہیں ادیبہ سے ملوا دو۔“
حیا ان دونوں کو لے کر ادیبہ کے کمرے میں چلی گئی۔
”السلام عليكم ورحمة الله وبركاته۔“ حمنہ نے اندر جاتے ہی سلام کیا۔ سارہ تو اس کا مکمل سلام سن کر حیران ہو گئی۔
”آج سے پہلے تو کبھی کسی کو ایسے سلام نہیں کیا۔“ سارہ نے دل میں سوچا۔
”وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته۔“ ادیبہ نے جواب دیا۔
”ادیبہ آپی یہ میری دوست ہیں حمنہ جہانگیر, یہ آپ سے دین سیکھنا چاہتی ہیں۔“ سارہ نے کہا۔
حمنہ تو بس ادیبہ کو گھورنے میں ہی لگی ہوئی تھی۔
”اتنا خوبصورت چہرہ شاید نور تھا اس کے چہرے پر کیوں کہ گورا رنگ ایسا تو نہیں ہوتا۔“ حمنہ نے دل میں سوچا۔
”آپ یہاں پر حجاب ہٹا لیجئے یہاں کوئی نہیں آئے گا۔“ حمنہ نے اپنا حجاب اتار دیا۔ اسے کب سے حجاب میں گرمی لگ رہی تھی۔
”مجھے بہت خوشی ہوئی یہ جان کر کہ آپ دین سیکھنا چاہتی ہیں۔“
”جی میرا دل کر رہا تھا میں دین کے بارے میں کچھ سیکھوں اور اس پر عمل کروں۔“
ادیبہ نے سب سے پہلے حمنہ کو نماز کے بارے میں بتایا کہ نماز ہمارے دین میں کتنی ضروری ہے۔ نماز کی اہمیت اور فضیلتیں بتائیں۔ اس کو چھوڑنے پر کتنا عذاب ہوتا ہے۔ نماز کے بارے میں کافی احادیث بھی سنائیں۔






