Daily Roshni News

‏پلاسٹک کا ڈبہ… جس میں آپ گرم گرم بریانی، چاول یا سالن گھر لے جاتے ہیں۔

‏پلاسٹک کا ڈبہ… جس میں آپ گرم گرم بریانی، چاول یا سالن گھر لے جاتے ہیں۔

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ہوٹل، ڈھابے یا ٹھیلے والا دیگ سے ابھی ابھی اترا ہوا، بھاپ چھوڑتا ہوا کھانا نکالتا ہے، اسے فوراً ایک باریک پلاسٹک کے ڈبے میں ڈال کر ڈھکن بند کرتا ہے اور چند سو روپے لے کر آپ کے حوالے کر دیتا ہے۔*

*لیکن جس لمحے تقریباً 90 ڈگری سینٹی گریڈ گرم کھانا اس پلاسٹک سے ٹکراتا ہے اسی لمحے ایک ایسا عمل شروع ہو جاتا ہے جو آپ کو نظر تو نہیں آتا مگر آپ کے جسم تک ضرور پہنچ جاتا ہے۔*

*پاکستان میں ٹیک اوے کے لیے استعمال ہونے والے بہت سے پلاسٹک کے ڈبے اور تھرموپول (فوم) کے برتن زیادہ گرمی برداشت کرنے کے لیے بنائے ہی نہیں جاتے۔*

*جب ان میں گرم کھانا، خاص طور پر تیل یا تیزابیت والی چیزیں رکھی جاتی ہیں، تو پلاسٹک آہستہ آہستہ اپنے کیمیائی اجزا کھانے میں شامل کرنا شروع کر دیتا ہے۔*

*ان میں اسٹائرین (Styrene)، بسفینول اے (BPA)، فتھیلیٹس (Phthalates) اور نہایت باریک مائیکرو پلاسٹکس شامل ہیں، جو آنکھ سے تو نظر نہیں آتے، لیکن خاموشی سے جسم کے اندر داخل ہو جاتے ہیں۔*

*اسٹائرین کو ممکنہ طور پر کینسر سے منسلک مادہ قرار دیا جاتا ہے، جبکہ یہ اعصابی نظام اور جگر کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔*

*بسفینول اے (BPA) ہارمونز کے نظام میں مداخلت کرتا ہے اور جسم میں ایسٹروجن ہارمون کی نقل کرتا ہے۔*

*مردوں میں یہ ٹیسٹوسٹیرون کی سطح کم کر سکتا ہے۔*

*خواتین میں یہ ایسٹروجن کے عدم توازن کو بڑھا سکتا ہے، جس کا تعلق رحم کی رسولیوں (فائبرائیڈز) اور ماہواری کی بے قاعدگی جیسے مسائل سے جوڑا جاتا ہے۔*

*بچوں میں یہ جسمانی نشوونما کے قدرتی عمل کو متاثر کر سکتا ہے۔*

*فتھیلیٹس نہایت معمولی مقدار میں بھی ہارمونز کے نظام میں خلل ڈال سکتے ہیں، چاہے ان کی مقدار ارب میں ایک حصے کے برابر ہی کیوں نہ ہو۔*

*یعنی آپ کے پہلا نوالہ لینے سے پہلے ہی یہ کیمیکل آپ کے کھانے میں شامل ہو چکے ہوتے ہیں۔*

*ہر وہ گرم بریانی یا چاول جو پلاسٹک کے ڈبے میں پیک کیے جاتے ہیں۔*

*ہر وہ گرم سالن یا شوربہ جو پلاسٹک کے شاپر میں ڈالا جاتا ہے۔*

*اور ہر وہ گرم چائے جو تھرموپول یا فوم کے کپ میں پیش کی جاتی ہے۔*

*گرمی پلاسٹک سے کیمیکلز کو کھانے میں منتقل ہونے پر مجبور کرتی ہے۔*

*کھانے میں موجود تیل اس عمل کو مزید تیز کر دیتا ہے جبکہ ٹماٹر یا دوسری تیزابیت والی چیزیں اس خطرے کو کئی گنا بڑھا دیتی ہیں۔*

*جب تک کھانا ٹھنڈا ہو کر کھانے کے قابل ہوتا ہے تب تک کیمیکل اس کا حصہ بن چکے ہوتے ہیں۔*

*یہ پلاسٹک کا ڈبہ صرف آپ کے کھانے کو سنبھال نہیں رہا ہوتا بلکہ آہستہ آہستہ خود بھی آپ کے کھانے کا حصہ بنتا جا رہا ہوتا ہے۔*

@everyone

Loading