Daily Roshni News

کربلا، کیا فرق پڑتا ہے؟

کربلا، کیا فرق پڑتا ہے؟

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ایک اور محرم آگیا۔ وہی کہانی پھر کئی طرح دہرائی جائے گی۔ پرانے فتوے اور نئے کھانے گردش کریں گے۔ پھر سے وہی روایات کا پوسٹ مارٹم، راویوں کے جھوٹے سچے ہونے کے دعوے، داستانِ کربلا کے تضادات کی بحثیں ہوں گی، مرثیے گائے جائیں گے اور 11 محرم کو سب اپنے اپنے کام دھندے پر اور کہانی ختم اور پیسہ ہضم!!!

مجھ کو سمجھ نہیں آسکا آج تک کہ آخر ہم کربلا کی یاد مناتے کیوں ہیں؟ ہم سے تو رسول اللہ محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی کوئی سنت پوری نہیں ہوتی تو ہم حضرت حسین کی سنت کا خاک پوری کریں گے؟؟؟ ہم نے تو معاشرتی عادات کا نام “سنت” رکھ لیا ہے ، جیسے کپڑے، جوتے، کھانا، بال،داڑھی وغیرہ۔ بس یہ سنن کی لسٹ ہے، عمل کرلو اور جنت پکی!

اتنا سستا سودا تو کسی بھی قوم کو نہیں سوجھا آج تک! یہ دو نمبری تو صرف امت مسلمہ کے ساتھ خاص ہے، آسان پر عمل اور مشکل پر بہانے، مجبوریاں اور مصلحتیں۔

عیسائی ہوں، یہودی یا پھر ہندو، کوئی بھی اپنے پیغمبروں کے حلیے کی نقل نہیں کرتا بلکہ اعمال کو مشعلِ راہ بناتا ہے۔ سیکولر عظیم لیڈرز جیسے نیلسن منڈیلا، جارج واشنگٹن، ابراہم لنکن وغیرہ کے کپڑوں اور بالوں کے اسٹائل کی نقل کوئی افریقی، امریکی نہیں کرتا۔

ہم، سنی ہوں یا شیعہ، غمِ حسین میں شامل ہوتے ہیں۔ کوئی اہلسنت عالم بھی یزید کو خلیفہ راشد نہیں مانتا نہ لکھتا ہے اور نہ عوام میں کہتا ہے۔ پھر بھی ہمارا عمل حضرتِ حسین سے بالکل الگ ہے۔ کم از کم پچھلے 400 سالوں میں۔ اکا دکا اشخاص اور مثالوں کی بات نہیں کررہا بلکہ ہمارے عمومی رویوں کا ذکر کررہا ہوں۔

عباسی خلافت اپنوں کی وجہ سے گئی، عثمانی بھی اپنے ہی بھائیوں کے ہاتھوں سازشوں کا شکار ہوئے، لودھی، سلجوقی، مغل بھی میر جعفروں اور میر صادقوں کے ہاتھوں ذلیل اور قتل ہوئے۔ قیامِ پاکستان کی جدوجہد کے دوران بھی بہت سارے عام مگر پڑھے لکھے اور اثرورسوخ والے مسلمان، پیر اور گدی نشین اور کئی علماء بھی اس تحریک کے خلاف رہے۔ آج بھی ہماری سیاسی لوٹے تھوک کے بھاؤ ملتے ہیں بازارِ سیاست میں۔

ہمارا عمل تو سو فیصد کوفے والوں جیسا ہے۔ دل حضرت حسین کے ساتھ اور تلواریں مروان کے ساتھ۔ ہمارے بھی دل میں اسلام کا، مسلمانوں کا، شریعت کا بڑا درد ہے جو چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے محسوس ہوتا ہے مگر جیسے ہی دنیا اور دنیاوی مال کی بات آئے، سارا درد رفوچکر ہوجاتا ہے اور ہم سب کچھ بھول بھال کر خالص دنیا دار بن جاتے ہیں۔

آج تک کسی بدکردار کو سزا نہیں ہوتی، کسی بدعنوان سے ایک روپیہ نہیں بر آمد ہوا، چلئے یہ تو عام لوگ ہوئے۔ مذہب اور اسلامی تاریخ جن کا اوڑھنا بچھونا ہے، علماء اور مدارس، ان کا حال کیا ہے، کسی مولوی کو بچوں سے جنسی زیادتی پر سزا نہیں ہوئی، آج تک وفاق المدارس نے کسی ایسے مولوی یا مدرسے کی رکنیت معطل نہیں کی۔ جیل ہوتی بھی ہے تو کچھ ہفتے مہینے بعد خاموشی سے نکال کر کہیں اور کسی دوسرے مدرسے میں بھیج دیا جاتا ہے۔ عوام کا حال بھی اپنے لیڈروں اور علماء سے مختلف نہیں ہے۔

میں تو یہی سوچ کر پریشان ہوجاتا ہوں کہ کہیں غمِ حسین کا رونا میرے حساب کتاب میں نہ لکھ لیا جائے، میری آنکھوں سے پوچھا جائے کہ غمِ حسین میں آنسو بہانے کے بعد حرام کیسے دیکھ لیا؟ میرے ہاتھوں پیروں سے سوال ہوجائے کہ ظلم کیسے سہہ لیا؟ جبر ہوتے کیسے دیکھ لیا اور روکا نہیں؟ میرے دل کا احتساب نہ ہو کہیں کہ اس دل میں غمِ حسین کے ساتھ لالچ، ناجائز شہوت، غرور، جھوٹ اور دو رُخا پن کیسے جمع ہوگیا؟؟

آپ بھی سوچیے کہ کیا آپ اس قابل بھی ہیں کہ حسین کی شہادت کا غم منا سکیں؟؟

Loading