Daily Roshni News

راہِ سلوک کے معلمین اور تربیتِ باطن کے وارث

مراتبِ اولیاء و مقاماتِ اہلِ اللہ

قسط اوّل: مشایخ

راہِ سلوک کے معلمین اور تربیتِ باطن کے وارث

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید المرسلین، خاتم النبیین، شفیع المذنبین، رحمة للعالمین، سیدنا و مولانا محمدٍ المصطفیٰ، وعلیٰ آلہٖ واصحابہٖ وبارک وسلم۔

اما بعد

اہلِ تصوف کے نزدیک انسان کا باطن بھی ایک عالم ہے؛ ایسا عالم جس میں نفس کی وادیاں، خواہشات کے جنگل، غفلت کے پردے، معرفت کے دروازے، محبت کی منزلیں اور قربِ الٰہی کی راہیں موجود ہیں۔ ظاہری دنیا میں جس طرح انسان تنہا سفر کرتے ہوئے راستہ بھٹک سکتا ہے، اسی طرح باطن کے سفر میں بھی محض اپنی عقل، اپنے ذوق اور اپنے تجربے پر اعتماد کبھی کبھی سالک کو ایسے راستوں پر لے جا سکتا ہے جہاں حقیقت اور وہم، الہام اور خیال، کشف اور نفس، کرامت اور استدراج ایک دوسرے سے مشتبہ ہونے لگتے ہیں۔

اسی لیے اہلِ سلوک نے صحبتِ صالحین اور تربیتِ شیخ کو بڑی اہمیت دی ہے۔

شیخ وہ ہے جو خود راستے سے واقف ہو، منزل کا دعویٰ نہ کرے بلکہ منزل کی طرف لے جائے؛ جو مرید کو اپنی ذات کا اسیر نہ بنائے بلکہ اللہ تعالیٰ کی بندگی کا غلام بنائے؛ جو دل کو اپنی طرف نہیں بلکہ اپنے رب کی طرف متوجہ کرے؛ جو شریعت کے چراغ کے بغیر طریقت کی تاریکی میں قدم نہ بڑھائے۔

یہی وجہ ہے کہ صوفیاء کی اصطلاح میں شیخ محض عمر رسیدہ شخص یا مذہبی عالم کا نام نہیں، بلکہ تربیت یافتہ اور تربیت کرنے والے رہبر کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

1۔ شیخ کا لغوی معنی

عربی زبان میں شیخ اس شخص کو کہا جاتا ہے جو عمر، تجربے، علم یا مقام میں بڑائی رکھتا ہو۔ قرآن کریم میں حضرت یوسف علیہ السلام کے قصے میں بھی “شیخ کبیر” کا لفظ آیا ہے۔

قَالُوا يَا أَيُّهَا الْعَزِيزُ إِنَّ لَهُ أَبًا شَيْخًا كَبِيرًا

یعنی: “انہوں نے کہا: اے عزیز اس کا ایک بہت بوڑھا باپ ہے۔”

لیکن تصوف کی اصطلاح میں شیخ کا مفہوم عمر کی زیادتی سے آگے بڑھ کر روحانی تربیت تک پہنچتا ہے۔

وہ شخص جو اپنے نفس کی اصلاح، قلب کی تطہیر، ذکر و فکر، آدابِ شریعت اور احوالِ سلوک کے تجربے سے گزر چکا ہو، اور جسے اللہ تعالیٰ نے کسی طالبِ حق کی تربیت کی صلاحیت عطا فرمائی ہو، اسے اہلِ تصوف کے ہاں شیخِ تربیت یا شیخِ ارشاد کہا جاتا ہے۔

پس ہر بزرگ شیخِ تربیت نہیں، ہر عالم شیخِ سلوک نہیں، اور ہر صاحبِ کرامت مربی نہیں۔

شیخ ہونا ایک ذمہ داری ہے، منصبِ فخر نہیں۔

2۔ شیخ کی قرآنی بنیاد

قرآن مجید میں “شیخِ طریقت” کی اصطلاح صراحت کے ساتھ موجود نہیں، لیکن صحبتِ صالحین، اہلِ علم سے رجوع، اہلِ ذکر سے سوال، اور اہلِ صدق کے ساتھ رہنے کی بنیادی تعلیمات قرآن میں موجود ہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ

“پس اہلِ ذکر سے پوچھو اگر تم نہیں جانتے۔”

یہ آیت اگرچہ اپنے مخصوص سیاق میں نازل ہوئی ہے، لیکن اس میں ایک عمومی اصول بھی نمایاں ہے کہ جس امر کا علم نہ ہو، اس میں اہلِ علم کی طرف رجوع کیا جائے۔

اسی طرح فرمایا:

وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ

“اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ۔”

یہ آیت اہلِ سلوک کے لیے نہایت معنی خیز ہے، کیونکہ سلوک صرف کتاب پڑھنے کا نام نہیں؛ صحبت انسان کے باطن کو بناتی ہے۔

پھر فرمایا:

وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ

“اور اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ روکے رکھو جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں اور اس کی رضا چاہتے ہیں۔”

اہلِ تصوف اس آیت میں صحبتِ اہلِ ذکر کی ایک عظیم روحانی بنیاد دیکھتے ہیں۔

یہاں ایک لطیف نکتہ ہے۔

قرآن نے یہ نہیں فرمایا کہ صرف ان کے الفاظ سنو؛ فرمایا کہ اپنے آپ کو ان کے ساتھ رکھو۔

کیونکہ بعض حقائق کتاب سے معلوم ہوتے ہیں، مگر بعض حقائق صحبت سے دل میں اترتے ہیں۔

3۔ شیخ اور رسول ﷺ میں فرق

یہ فرق سمجھنا نہایت ضروری ہے۔

انبیاء علیہم السلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ رسول اور نبی ہوتے ہیں۔ ان کی اتباع دین کا بنیادی حصہ ہے۔ ان کے ذریعے وحی اور شریعت پہنچتی ہے۔

اس کے مقابلے میں شیخِ طریقت نہ نبی ہے، نہ رسول، نہ وحی کا حامل۔

وہ شریعت کا خادم ہے، شریعت بنانے والا نہیں۔

اس کا کام یہ ہے کہ:

قرآن و سنت کی روشنی میں انسان کی تربیت کرے۔

نفس کی بیماریوں کو پہچاننے میں مدد دے۔

ذکر و عبادت میں استقامت پیدا کرے۔

باطن کے امراض جیسے تکبر، حسد، ریا، عجب اور حبِ جاہ کا علاج کرے۔

مرید کو اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ کرے۔

اس لیے جس شخص کی صحبت انسان کو شریعت سے دور کرے، وہ روحانی رہبر نہیں ہو سکتا، خواہ اس کے گرد کتنی ہی شہرت کیوں نہ ہو۔

طریقت، شریعت کی بیٹی ہے؛ شریعت سے الگ کوئی مستقل دین نہیں۔

4۔ شیخِ تربیت، شیخِ صحبت اور شیخِ ارشاد

صوفیانہ روایت میں شیخ کے مختلف پہلو بیان کیے گئے ہیں۔

شیخِ صحبت

وہ بزرگ جس کی صحبت سے انسان کے اخلاق سنورتے ہیں، دل میں اللہ کی یاد پیدا ہوتی ہے اور دنیا کی غفلت کم ہوتی ہے۔

شیخِ تربیت

وہ رہبر جو سالک کے باطنی امراض کو سمجھ کر اس کی اصلاح کرتا ہے۔

وہ کبھی محبت سے تربیت کرتا ہے، کبھی خاموشی سے، کبھی توجہ سے اور کبھی مرید کی کسی کمزوری کو اس کے سامنے لا کر۔

شیخِ ارشاد

وہ صاحبِ نسبت و معرفت جو لوگوں کو ذکر، سلوک اور تزکیہ کی راہ میں رہنمائی کی اجازت رکھتا ہو۔

لیکن یاد رہے۔

ہر شیخ کا طریقہ ایک جیسا نہیں ہوتا۔

کسی کے ہاں ذکرِ جہر غالب ہے، کسی کے ہاں ذکرِ خفی؛ کسی کے ہاں مراقبہ، کسی کے ہاں خدمت؛ کسی کے ہاں مجاہدہ، کسی کے ہاں محبت و ادب۔

طریقے مختلف ہو سکتے ہیں، مگر مقصد ایک ہے۔

نفس کی اصلاح اور اللہ تعالیٰ کی رضا۔

5۔ شیخ کی اصل ذمہ داری کیا ہے؟

شیخ کا سب سے بڑا کام مرید کو اپنے ساتھ باندھنا نہیں، بلکہ اسے اللہ کے ساتھ جوڑنا ہے۔

وہ مرید کو تین بنیادی چیزوں کی طرف لے جاتا ہے۔

شریعت

ظاہر کی اصلاح۔

طریقت

باطن کی اصلاح۔

حقیقت

اللہ تعالیٰ کی معرفت اور بندگی میں اخلاص۔

اگر کوئی شخص طریقت کے نام پر شریعت سے آزاد ہو جائے تو وہ سلوک نہیں، گمراہی ہے۔

اور اگر کوئی شخص شریعت کے ظاہری اعمال تو انجام دے مگر دل کو تکبر، حسد، ریا اور بغض سے پاک نہ کرے تو اس کا سفر ابھی باطن کے دروازے تک نہیں پہنچا۔

شیخ کا کام دونوں کو جمع کرنا ہے۔

ظاہر میں شریعت، باطن میں تزکیہ، اخلاق میں رحمت، اور دل میں اللہ کی یاد۔

6۔ شیخ کی علامات کیا ہیں؟ق

کسی شخص کو صرف اس لیے شیخِ کامل نہیں مانا جا سکتا کہ اس کے پاس مریدوں کی بڑی تعداد ہے، لباس مخصوص ہے، کشف و کرامت کے قصے مشہور ہیں یا لوگ اس کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں۔

اہلِ سلوک نے شیخ کی پہچان میں چند بنیادی علامات بیان کی ہیں۔

پہلی علامت: شریعت کی پابندی

وہ فرض عبادات، حلال و حرام اور اخلاقِ اسلامی میں مضبوط ہو۔

دوسری علامت: اخلاص

وہ اپنی ذات کی شہرت کا طالب نہ ہو۔

تیسری علامت: تواضع

جس قدر مقام بڑھے، اتنا ہی عجز بڑھے۔

چوتھی علامت: مرید کو اللہ سے جوڑنا

وہ مرید کو اپنی ذات کا پرستار نہ بنائے۔

پانچویں علامت: علم

اسے کم از کم اتنا شرعی علم ہو کہ وہ حلال و حرام اور صحیح و غلط کی بنیادی تمیز رکھتا ہو۔

چھٹی علامت: صحبت کا اثر

اس کے پاس بیٹھنے سے اللہ یاد آئے، آخرت یاد آئے، گناہ سے نفرت اور نیکی کی رغبت پیدا ہو۔

ساتویں علامت: مرید کی اصلاح

وہ مرید کی ہر خواہش پر خوش نہیں ہوتا؛ جہاں نفس کو توڑنا ضروری ہو وہاں حق بات کہتا ہے۔

آٹھویں علامت: دعویٰ سے احتراز

حقیقی اہلِ اللہ عموماً اپنے لیے بڑے بڑے روحانی دعوے نہیں کرتے۔

7۔ شیخ کی سب سے بڑی کرامت

اولیاء کے تذکروں میں کرامات کے بے شمار واقعات ملتے ہیں۔

لیکن اہلِ معرفت کے نزدیک شیخ کی سب سے بڑی کرامت یہ نہیں کہ وہ ہوا میں اڑتا ہے، پانی پر چلتا ہے یا دور کی چیز دیکھ لیتا ہے۔

بلکہ:

شیخ کی سب سے بڑی کرامت یہ ہے کہ اس کی صحبت میں ایک گناہ گار انسان اللہ والا بننے کی راہ پر چل پڑے۔

حضرت جنید بغدادی رحمہ اللہ سے منسوب ایک معروف قول ہے کہ ہمارا یہ راستہ کتاب و سنت سے بندھا ہوا ہے۔ صوفیانہ روایت میں اس مفہوم کو بار بار دہرایا گیا کہ کشف و کرامت سے پہلے استقامت ضروری ہے۔

ایک بزرگ نے فرمایا:

استقامت، ہزار کرامتوں سے بہتر ہے۔

کیونکہ کرامت ایک غیر معمولی واقعہ ہے، مگر استقامت پوری زندگی کا نور ہے۔

8۔ شیخ مرید کی تربیت کیسے کرتا ہے؟

شیخ کی تربیت کے کئی طریقے ہیں۔

صحبت

سب سے پہلا طریقہ صحبت ہے۔

صحبت میں الفاظ سے زیادہ حال منتقل ہوتا ہے۔

جس طرح مشک کے قریب بیٹھنے والا خوشبو سے محروم نہیں رہتا، اسی طرح صالحین کی صحبت دل میں ایک کیفیت پیدا کرتی ہے۔

ذکر

شیخ مرید کو ایسا ذکر عطا کرتا ہے جو اس کی استعداد اور طریقۂ تربیت کے مطابق ہو۔

ذکر کا مقصد صرف زبان کی حرکت نہیں بلکہ دل کی بیداری ہے۔

مراقبہ

مراقبہ میں سالک اپنے دل کو غفلت سے نکال کر اللہ تعالیٰ کی نگرانی اور قرب کا احساس پیدا کرتا ہے۔

مجاہدہ

نفس کی خواہشات کو شریعت کے تابع کرنا۔

کم کھانا، کم سونا یا خاموش رہنا بذاتِ خود مقصد نہیں؛ مقصد یہ ہے کہ نفس انسان کا مالک نہ رہے۔

خدمت

خدمت انسان کے اندر سے خود پسندی کو توڑتی ہے۔

جو شخص لوگوں کے جوتے سیدھے کرنے میں عار محسوس کرتا ہے، وہ اپنے نفس کی بادشاہی سے ابھی باہر نہیں نکلا۔

محاسبہ

دن کے اختتام پر اپنے اعمال کا جائزہ:

آج میں نے کس کو دکھ دیا؟

آج میری نیت کہاں خراب ہوئی؟

آج کہاں نفس غالب آیا؟

یہی محاسبہ باطن کی صفائی کا دروازہ ہے۔

9۔ شیخ کی صحبت اور مرید کی استعداد

ایک ہی بارش ہر زمین پر برستی ہے، مگر ہر زمین ایک جیسا پھل نہیں دیتی۔

زمین کی کیفیت مختلف ہوتی ہے۔

اسی طرح شیخ کی صحبت بھی ایک جیسی ہوتی ہے، مگر مرید کی استعداد مختلف۔

کسی کے دل میں پہلے ہی عاجزی ہوتی ہے، کسی کو مجاہدہ درکار ہوتا ہے۔

کسی کو ذکر سے فائدہ ہوتا ہے، کسی کو خدمت سے۔

کسی کو خاموشی سنوارتی ہے، کسی کو نصیحت۔

اس لیے کامل تربیت کا ایک اصول یہ ہے:

شیخ ہر مرید کو اس کے نفس کے مرض کے مطابق دوا دیتا ہے۔

جو دوا ایک شخص کے لیے شفا ہے، ممکن ہے دوسرے کے لیے مناسب نہ ہو۔

اسی لیے سلوک میں نسخہ عام نہیں، تربیت شخصی ہوتی ہے۔

10۔ کیا شیخ کے بغیر اللہ تک پہنچنا ممکن نہیں؟

یہ سوال بہت اہم ہے۔

اللہ تعالیٰ ہر انسان سے قریب ہے:

وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ

اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کے لیے کوئی انسان اللہ اور بندے کے درمیان عقیدے کے اعتبار سے واسطہ نہیں۔

اللہ کی عبادت، دعا، توبہ اور رجوع براہِ راست اللہ ہی کی طرف ہے۔

لیکن تربیت کے میدان میں استاد، مربی اور رہبر کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔

جس طرح

طب میں طبیب،

علم میں استاد،

سفر میں رہنما،

اسی طرح سلوک میں مربی کی صحبت فائدہ مند ہوتی ہے۔

پس شیخ معبود نہیں، مربی ہے۔

وہ منزل نہیں، منزل کی طرف اشارہ کرنے والا ہے۔

وہ دروازہ نہیں، دروازے تک پہنچنے والا رہبر ہے۔

اور حقیقت میں توفیق دینے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔

11۔ شیخ کی نسبت کیسے ملتی ہے؟

صوفیانہ سلسلوں میں بیعت اور اجازت کا ایک نظام رہا ہے۔

شیخ اپنے شیخ سے، اور وہ اپنے شیخ سے نسبت حاصل کرتا ہے۔

یہ سلسلہ آخرکار رسول اللہ ﷺ تک پہنچنے کی نسبت سے بیان کیا جاتا ہے۔

اسی کو سلسلۂ طریقت کہا جاتا ہے۔

مثلاً۔

قادریہ، چشتیہ، نقشبندیہ، سہروردیہ وغیرہ۔

ان سلسلوں میں بیعت، ذکر، آداب اور تربیت کے مختلف طریقے ہیں۔

لیکن صرف کسی سلسلے سے نسبت حاصل کر لینا انسان کو خود بخود ولی نہیں بنا دیتا۔

نسبت دروازہ کھول سکتی ہے، مگر راستہ چلنا مرید کا کام ہے۔

12۔ شیخ عبدالقادر جیلانیؒ

شریعت و طریقت کا حسین امتزاج

رحمہ اللہ کی زندگی اہلِ سلوک کے لیے اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ روحانی تربیت شریعت سے جدا نہیں۔

آپ علمِ دین کے بھی امام تھے اور تزکیہ و تصوف کے بھی عظیم مربی۔

آپ کی تعلیمات میں توبہ، تقویٰ، اخلاص، توکل، صبر، رضا اور توحید بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔

آپ کی طرف منسوب مشہور کتب، خصوصاً فتوح الغیب اور الفتح الربانی میں بار بار یہی پیغام ملتا ہے کہ بندہ اپنے نفس، خواہش اور دنیا کے تعلقات کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع کرے۔

آپ کی تعلیمات کا خلاصہ یہ ہے۔

اللہ کو چاہو، مگر اللہ کے رسول ﷺ کی اتباع کے راستے سے۔

یہی حقیقی طریقت ہے۔

13۔ حضرت جنید بغدادیؒ

صحو کے امام

حضرت جنید بغدادی رحمہ اللہ کو صوفیانہ روایت میں سید الطائفہ کہا جاتا ہے۔

آپ کے ہاں تصوف کا مرکزی تصور شریعت، توحید، ادب اور اعتدال تھا۔

آپ کی طرف منسوب مشہور قول ہے:

“ہمارا یہ راستہ کتاب و سنت سے بندھا ہوا ہے۔”

آپ کے مکتبِ فکر میں تصوف کوئی شریعت سے باہر کا تجربہ نہیں تھا، بلکہ شریعت کی روحانی گہرائی کا نام تھا۔

اسی لیے جنیدؒ کا مقام ہمیں یہ سبق دیتا ہے۔

جس تصوف سے نماز کم ہو جائے، وہ تصوف نہیں؛

جس معرفت سے اخلاق نہ سنوریں، وہ معرفت نہیں؛

جس کشف سے شریعت ٹوٹے، وہ کشف قابلِ اعتماد نہیں۔

14۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ

خدمت کے ذریعے تربیت

رحمہ اللہ کی نسبت چشتیہ سلسلے سے ہے۔

آپ کی تعلیمات میں محبت، سخاوت، خدمت اور تواضع نمایاں ہیں۔

آپ کے مشہور اقوال میں سے ایک مفہوم یہ بیان کیا جاتا ہے کہ درویش وہ ہے جو۔

دریا جیسی سخاوت رکھے،

سورج جیسی شفقت رکھے،

زمین جیسی تواضع رکھے۔

یہی شیخ کی تربیت کا ایک اہم رخ ہے۔

مرید کو صرف ذکر کرنے والا نہیں، انسانوں کے لیے رحمت بنانا۔

اگر ذکر سے دل نرم نہ ہو، تو ابھی ذکر کی روح نہیں آئی۔

15۔ شیخ بہاؤالدین نقشبندؒ

خلوت در انجمن

حضرت بہاؤالدین نقشبند بخاری رحمہ اللہ کی نسبت نقشبندیہ سلسلے سے ہے۔

نقشبندی مکتب میں ذکرِ خفی، حضورِ قلب اور خلوت در انجمن کو اہمیت حاصل رہی۔

“خلوت در انجمن” کا مفہوم یہ ہے کہ انسان لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی دل کو اللہ تعالیٰ سے غافل نہ ہونے دے۔

یہاں شیخ کا کردار ایک ایسے مربی کا ہے جو سالک کو دنیا سے بھاگنا نہیں سکھاتا، بلکہ دنیا کے اندر رہ کر اللہ کو یاد کرنا سکھاتا ہے۔

16۔ شیخ اور مرید کا تعلق

شیخ و مرید کا تعلق محض رسمی بیعت کا تعلق نہیں۔

یہ ایک تربیتی عہد ہے۔

مرید کو چاہیے کہ۔

شیخ کا ادب کرے۔

خیرخواہی قبول کرے۔

نصیحت پر عمل کی کوشش کرے۔

شیخ کو معصوم نہ سمجھے۔

ہر بات کو قرآن و سنت کے میزان پر دیکھے۔

شیخ کی ذات کو مقصد نہ بنائے۔

اور شیخ کو چاہیے کہ۔

مرید کا استحصال نہ کرے۔

مال و جاہ کا طالب نہ بنے۔

مرید کو شریعت سے وابستہ رکھے۔

اپنی ذات کی غیر ضروری تقدیس نہ کرائے۔

مرید کی کمزوری سے ناجائز فائدہ نہ اٹھائے۔

اسے اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ کرے۔

جہاں شیخ مرید کو اپنی ذات کا غلام بنائے، وہاں سلوک کی روح مجروح ہو جاتی ہے۔

17۔ کیا شیخ سے محبت ضروری ہے؟

ہاں، مگر اس محبت کی حقیقت سمجھنا ضروری ہے۔

شیخ سے محبت کا مقصد یہ نہیں کہ انسان اسے اللہ تعالیٰ کے برابر سمجھے یا اس کے لیے ایسی صفات مانے جو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہیں۔

بلکہ شیخ سے محبت دراصل اس خیر سے محبت ہے جو اس کے ذریعے انسان تک پہنچ رہی ہے۔

جس طرح استاد سے محبت علم کی محبت بن جاتی ہے، اسی طرح مربی سے محبت انسان کو اس راستے سے محبت سکھاتی ہے جس پر وہ چل رہا ہے۔

لیکن حقیقی شیخ ہمیشہ یہی چاہے گا کہ۔

مرید کا دل اللہ کے لیے ہو، محبت رسول ﷺ کے لیے ہو، اور شیخ کی محبت اس راستے کی خدمت ہو۔

18۔ شیخ کی طرف سے مقام کیسے ملتا ہے؟

یہاں ایک بہت اہم حقیقت سمجھنے کی ضرورت ہے۔

شیخ مرید کو ولایت نہیں دیتا۔

ولایت اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔

شیخ زیادہ سے زیادہ۔

راستہ دکھاتا ہے،

تربیت کرتا ہے،

ذکر کی اجازت دیتا ہے،

غلطیوں سے بچاتا ہے،

باطن کے امراض کی نشاندہی کرتا ہے۔

مگر دل کو نور دینے والا اللہ ہے۔

اسی لیے اہلِ تصوف کہتے ہیں۔

شیخ سبب ہے، مؤثر حقیقی اللہ ہے۔

جیسے طبیب دوا دیتا ہے مگر شفا اللہ دیتا ہے، اسی طرح شیخ تربیت کرتا ہے مگر دل کی حقیقت اللہ تعالیٰ بدلتا ہے۔

19۔ حقیقی شیخ اور جعلی دعوے دار

ہر زمانے میں اہلِ اللہ بھی رہے اور ان کے نام پر دعویٰ کرنے والے بھی۔

اس لیے طالبِ حق کو چند باتوں سے محتاط رہنا چاہیے۔

جو شخص

شریعت سے آزادی کا دعویٰ کرے،

اپنے آپ کو ہر حکم سے بالاتر سمجھے،

مریدوں سے غیر معمولی مالی مطالبات کرے،

عورتوں یا کمزور افراد کا استحصال کرے،

اپنی ذات کی غیر مشروط اطاعت کا مطالبہ کرے،

ہر اختلاف کو کفر یا گستاخی قرار دے،

اپنے لیے قطعی غیبی علم کا دعویٰ کرے،

تو اس کے بارے میں احتیاط لازم ہے۔

ولی کی پہچان اس کے دعوے سے نہیں، اس کے حال، علم، تقویٰ اور شریعت کی پابندی سے ہوتی ہے۔

20۔ شیخ کی سب سے بڑی نشانی: مرید کی تبدیلی

ایک شخص برسوں کسی بزرگ کی صحبت میں رہا۔

اس نے بہت سے وظائف پڑھے، بہت سی مجالس میں بیٹھا، بہت سے روحانی تجربات کیے۔

لیکن اگر۔

اس کا تکبر کم نہ ہوا،

زبان سے غیبت نہ چھوٹی،

دل سے حسد نہ نکلا،

نماز میں بہتری نہ آئی،

والدین سے اخلاق بہتر نہ ہوئے،

لوگوں کے حقوق ادا نہ ہوئے،

تو اسے اپنے سفر کا جائزہ لینا چاہیے۔

کیونکہ سلوک کی اصل علامت احوال کا بدلنا ہے۔

اگر دل پہلے سے زیادہ نرم ہو،

آنکھ پہلے سے زیادہ نم ہو،

زبان پہلے سے زیادہ پاک ہو،

معاملات پہلے سے زیادہ صاف ہوں،

اور انسان اپنے آپ کو پہلے سے زیادہ محتاجِ رحمت سمجھے۔

تو سمجھو صحبت نے اثر کیا۔

21۔ سالک کے لیے عملی لائحۂ عمل

اگر کوئی طالبِ حق اس باب سے عملی سبق لینا چاہے تو اس کے لیے یہ ترتیب مفید ہو سکتی ہے:

پہلا قدم: عقیدہ درست کرو

اللہ تعالیٰ کو واحد معبود اور حقیقی فاعل مانو۔

دوسرا قدم: شریعت مضبوط کرو

نماز، روزہ، حلال و حرام اور حقوق العباد کی پابندی۔

تیسرا قدم: توبہ

اپنی گزشتہ زندگی کا محاسبہ۔

چوتھا قدم: صحبت

صالحین کی مجلس اختیار کرو۔

پانچواں قدم: ذکر

اپنے لیے ایک مستقل معمول بناؤ۔

چھٹا قدم: نفس کا محاسبہ

روزانہ اپنے باطن کا جائزہ لو۔

ساتواں قدم: خدمت

کسی انسان کے لیے آسانی بنو۔

آٹھواں قدم: عاجزی

اپنے آپ کو صاحبِ مقام سمجھنے سے بچو۔

نواں قدم: رہبر کی تلاش

اگر ضرورت محسوس ہو تو اہلِ علم و تقویٰ میں کسی صاحبِ نسبت مربی کی صحبت اختیار کرو۔

دسواں قدم: دعویٰ نہیں، عمل

مقام کی طلب سے زیادہ اللہ کی رضا کی طلب رکھو۔

22۔ مشایخ کے مقام کا خلاصہ

مشائخ وہ لوگ ہیں جو راہ کے امین ہوتے ہیں۔

وہ منزل کے مالک نہیں۔

وہ مرید کے رب نہیں۔

وہ شریعت کے مقابل نہیں۔

وہ وحی کے حامل نہیں۔

وہ صرف اس راستے کے مسافر ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے دوسروں کی رہنمائی کی توفیق دی۔

حقیقی شیخ کی مجلس میں انسان کو اپنے نفس کی بڑائی نہیں، اپنی بندگی کی حقیقت معلوم ہوتی ہے۔

وہ مرید سے یہ نہیں کہتا۔

“مجھے پا لو۔”

بلکہ اس کا حال یہ کہتا ہے۔

“اپنے رب کو پا لو۔”

وہ مرید کو اپنے گرد نہیں گھماتا، بلکہ قبلۂ دل کی طرف موڑ دیتا ہے۔

شیخ راستے کا چراغ

اے سالک

اگر کبھی تجھے کوئی ایسا دل مل جائے جس کی صحبت میں تیرا دل اللہ کو یاد کرنے لگے، تو اس صحبت کو غنیمت جان۔

اگر کوئی ایسا مربی مل جائے جو تیرے نفس کی تعریف کرنے کے بجائے تیرے نفس کا علاج کرے، تو اس کی نصیحت کو محبت سے سن۔

اگر کوئی ایسا شیخ مل جائے جو تجھے اپنے نام سے زیادہ محمد مصطفیٰ ﷺ کی محبت دے، اور اپنی ذات سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی معرفت کی طرف بلائے، تو سمجھ کہ تجھے صحبت کا ایک دروازہ مل گیا۔

لیکن یاد رکھ

شیخ منزل نہیں۔

شیخ راستے کا چراغ ہے۔

چراغ کو دیکھ کر سفر نہ بھول جانا۔

چراغ کا کام راستہ دکھانا ہے؛

چلنا تجھے ہے۔

اور جب سفر کی گرد میں تیری اپنی ذات مٹنے لگے، جب “میں” کی آواز مدھم ہونے لگے، جب عبادت میں دکھاوا کم اور اخلاص زیادہ ہونے لگے، جب مخلوق کے لیے دل میں رحمت پیدا ہونے لگے، جب گناہ کے بعد دل بے چین اور توبہ کے بعد دل مطمئن ہونے لگے۔

تب سمجھنا کہ شیخ کی صحبت نے اپنا کام شروع کر دیا ہے۔

کیونکہ سلوک کا پہلا نشان یہ نہیں کہ انسان کہے۔

“میں پہنچ گیا ہوں۔”

بلکہ یہ ہے کہ وہ جھک کر کہے

“یا اللہ میں کچھ نہیں، تو ہی سب کچھ ہے؛

مجھے اپنے راستے کے ان بندوں کی صحبت عطا فرما

جن کی نگاہ مجھے اپنی ذات سے نکال کر

تیری بندگی میں داخل کر دے۔”

آمین یا رب العالمین۔

اگلی قسط: زُہّاد

دنیا ہاتھ میں ہو، دل میں نہ ہو,

#Khaak_e_rawan

Loading