۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بیلاگ تبصرہ ۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔ طاہر لطیف ۔۔۔۔۔
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ بیلاگ تبصرہ۔۔۔۔۔ طاہر لطیف ) ایشین ہاکی فائیوز نے مستقبل کا راستہ دکھا دیا؟
مسقط میں منعقدہ ایشین انڈر 18 ہاکی فائیوز چیمپئن شپ میں پاکستان اگرچہ فائنل میں بھارت کے ہاتھوں 3-1 سے شکست کھا کر سلور میڈل تک محدود رہا، لیکن اگر اس کامیابی کو صرف فائنل کے نتیجے کی نظر سے دیکھا جائے تو شاید ہم اصل تصویر کو سمجھنے سے محروم رہ جائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی سب سے بڑی کامیابی ایف آئی ایچ انڈر 18 ہاکی فائیوز ورلڈ کپ 2026 کے لیے کوالیفائی کرنا ہے۔ یہی وہ کامیابی ہے جو آنے والے برسوں میں پاکستان ہاکی کے لیے ایک نئی بنیاد بن سکتی ہے۔
پاکستان نے ٹورنامنٹ میں عمدہ آغاز کیا۔ میزبان عمان کو 5-0 سے شکست دی، پھر بنگلہ دیش کو 5-2 سے ہرایا۔ بھارت کے خلاف گروپ مرحلے میں شکست ہوئی، لیکن ٹیم نے حوصلہ نہیں ہارا، دوبارہ عمان کو 7-3 سے شکست دی اور فائنل تک رسائی حاصل کی۔ اگرچہ فیصلہ کن مقابلے میں بھارت کامیاب رہا، مگر پاکستان نے یہ ثابت کر دیا کہ ہمارے نوجوانوں میں صلاحیت کی کوئی کمی نہیں۔
اصل فرق صلاحیت کا نہیں بلکہ تیاری کا تھا۔
بھارت کے کھلاڑی زیادہ منظم، زیادہ پراعتماد اور دباؤ میں بہتر فیصلے کرتے دکھائی دیے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ انہیں مسلسل بین الاقوامی مقابلے، جدید ٹریننگ اور یورپی ٹیموں کے خلاف کھیلنے کا موقع ملا۔ دوسری طرف پاکستانی نوجوان کھلاڑی محدود بین الاقوامی تجربے کے باوجود فائنل تک پہنچے، جو خود ان کی صلاحیت کا ثبوت ہے۔
میرے نزدیک پاکستان کو اس شکست پر افسوس کرنے کے بجائے اس سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر یہی ٹیم آئندہ چند ماہ عالمی معیار کی تیاری حاصل کر لے تو مصر میں ہونے والے ورلڈ کپ میں کسی بھی مضبوط ٹیم کو شکست دے سکتی ہے۔
یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہاکی کی دنیا تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔
ایف آئی ایچ گزشتہ چند برسوں سے ہاکی فائیوز کو بھرپور انداز میں فروغ دے رہی ہے۔ اس کی وجہ صرف کھیل کو دلچسپ بنانا نہیں بلکہ اسے زیادہ قابلِ رسائی بنانا بھی ہے۔ کم کھلاڑی، کم اخراجات، کم وقت اور زیادہ سنسنی خیز مقابلے اس فارمیٹ کو دنیا بھر میں مقبول بنا رہے ہیں۔
اسی تناظر میں 2026 کامن ویلتھ گیمز کا فیصلہ بھی اہم ہے۔ بعض لوگ یہ تاثر دیتے ہیں کہ ہاکی کو اس لیے نکالا گیا کیونکہ ہاکی فائیوز نے اس کی جگہ لے لی ہے، لیکن حقیقت اس سے مختلف ہے۔ ہاکی کو محدود بجٹ، کم وینیوز اور انتظامی وجوہات کی بنا پر پروگرام سے نکالا گیا۔ تاہم اس فیصلے نے ایک حقیقت ضرور نمایاں کر دی کہ مستقبل کے بڑے ملٹی اسپورٹس ایونٹس ایسے فارمیٹس کو زیادہ اہمیت دے سکتے ہیں جن کے لیے کم وسائل درکار ہوں۔
یہی وجہ ہے کہ مجھے لگتا ہے ہاکی فائیوز کا مستقبل روشن ہے۔
میں یہ نہیں کہہ رہا کہ روایتی ہاکی ختم ہو جائے گی، کیونکہ اولمپکس اور ورلڈ کپ میں اس کی اہمیت آج بھی برقرار ہے، لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ہاکی فائیوز تیزی سے اپنی جگہ بنا رہی ہے اور آنے والے برسوں میں اس کی اہمیت مزید بڑھے گی۔ پاکستان کو اس تبدیلی کو وقت پر سمجھنا ہوگا، ورنہ ہم ایک بار پھر دنیا سے پیچھے رہ جائیں گے۔
اب سوال یہ ہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کیا کرے؟
میرے خیال میں سب سے پہلے اس پوری انڈر 18 ٹیم کو کم از کم تین سے چار ہفتوں کے لیے یورپ بھیجا جائے۔ جرمنی، بیلجیئم، نیدرلینڈز اور انگلینڈ کی مضبوط نوجوان ٹیموں کے خلاف مسلسل میچز کرائے جائیں۔ یہی وہ ممالک ہیں جہاں جدید ہاکی کھیلی جا رہی ہے اور جہاں سے سیکھنے کو بہت کچھ مل سکتا ہے۔
صرف کیمپ لگا دینا کافی نہیں ہوگا۔ ویڈیو اینالیسز، ڈیٹا اینالیسز، اسپورٹس سائیکالوجی، نیوٹریشن، جدید فٹنس پروگرام اور مستقل بین الاقوامی مقابلے اب ضرورت بن چکے ہیں۔ اسی کے ساتھ پاکستان میں مستقل ہاکی فائیوز سرکٹ بھی شروع کیا جانا چاہیے تاکہ نوجوان کھلاڑی اس فارمیٹ میں مسلسل کھیل سکیں۔
مسقط میں سلور میڈل شاید کسی کے لیے دوسری پوزیشن ہو، لیکن میرے نزدیک یہ پاکستان ہاکی کے مستقبل کی ایک نئی امید ہے۔ اس ٹیم نے ثابت کر دیا ہے کہ ہمارے پاس ٹیلنٹ موجود ہے۔ اب امتحان کھلاڑیوں کا نہیں بلکہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کا ہے۔
اگر آج درست فیصلے کیے گئے، نوجوانوں پر سرمایہ کاری کی گئی اور انہیں عالمی معیار کی تیاری فراہم کی گئی تو بعید نہیں کہ آج سلور میڈل جیتنے والی یہی ٹیم کل مصر میں پاکستان کے لیے عالمی اعزاز جیت کر ایک نئی تاریخ رقم کرے۔
![]()

