چاند کی روشنی (نور) اور سورج (سراج): کیا قرآن چاند کو روشنی کا منبع مانتا ہے؟
تحقیق و ترتیب:طارق اقبال سوہدروی
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ تحقیق و ترتیب۔۔۔طارق اقبال سوہدروی)مستشرقین (Orientalists) اور سائنسی الحاد کی جانب سے اکثر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ قدیم زمانے میں عام انسان چاند اور سورج دونوں کو روشنی پیدا کرنے والے ستارے سمجھتا تھا، اور قرآن بھی نعوذ باللہ اسی قدیم فکری غلطی کا شکار ہے۔ ناقدین اعتراض کرتے ہیں کہ جدید کاسمولوجی بتاتی ہے کہ چاند کی اپنی کوئی روشنی نہیں، بلکہ وہ سورج کی روشنی کو منعکس (Reflect) کرتا ہے، تو پھر قرآن چاند کو آسمان کا “نور” کیوں کہتا ہے؟
کیا واقعی قرآن چاند کو روشنی کا اصل منبع (Source) مانتا ہے؟ آئیے اس کا ایک علمی اور محققانہ جائزہ لیتے ہیں۔
سورج اور چاند کے لیے قرآنی الفاظ کا انتخاب
اگر ہم قرآن مجید کے الفاظ پر غور کریں تو ایک حیران کن احتیاط نظر آتی ہے۔ قرآن نے کائنات کے ان دو بڑے اجسام کے لیے کبھی ایک جیسا لفظ استعمال نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ سورۃ نوح میں فرماتا ہے:
وَجَعَلَ الْقَمَرَ فِيهِنَّ نُورًا وَجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا (سورۃ نوح: 16)
“اور ان میں چاند کو نور (چمکنے والا) بنایا اور سورج کو چراغ (گرمی اور روشنی کا منبع) بنایا۔”
اسی طرح سورۃ یونس میں فرمایا:
هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاءً وَالْقَمَرَ نُورًا (سورۃ یونس: 5)
“وہی ہے جس نے سورج کو ‘ضیاء’ (چمکتا ہوا چشمہ) اور چاند کو ‘نور’ بنایا۔”
لغوی فرق اور سائنسی مطابقت
عربی لغت میں “سراج” اور “ضیاء” ان چیزوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں جن میں اپنی حرارت، جلنے کا عمل اور ذاتی روشنی موجود ہو۔ جدید فلکیات ہمیں بتاتی ہے کہ سورج ایک نیوکلیئر ری ایکٹر ہے جس میں جلنے کے عمل سے شدید حرارت اور روشنی پیدا ہوتی ہے۔
دوسری طرف، “نور” کا لفظ ایسی روشنی یا چمک (Illumination) کے لیے استعمال ہوتا ہے جس میں حرارت یا جلنے کا مفہوم شامل نہیں ہوتا۔
قرآنی احتیاط کا شاندار اسلوب
اگر قرآن بھی اپنے دور کے عام انسانی تصورات کی محض نقل کرتا، تو سورج اور چاند دونوں کو یکساں الفاظ سے بیان کرنا زیادہ فطری تھا۔ لیکن قرآن نے ایسا نہیں کیا۔ اس نے سورج کے لیے “سراج” اور “ضیاء” جیسے الفاظ استعمال کیے، جبکہ چاند کے لیے مستقل طور پر “نور” کا لفظ اختیار کیا۔ اس سے کم از کم یہ بات واضح ہوتی ہے کہ قرآن ان دونوں کی نوعیت میں فرق کرتا ہے، نہ کہ انہیں ایک ہی درجے کا منبعِ روشنی قرار دیتا ہے۔
یہاں ایک اور اہم نکتہ قابلِ غور ہے: قرآن یہ نہیں بتاتا کہ چاند سورج کی روشنی منعکس کرتا ہے، لیکن یہ بھی کہیں نہیں کہتا کہ چاند سورج کی طرح خود روشنی پیدا کرتا ہے۔ یہی احتیاط قرآن کے اسلوب کی نمایاں خصوصیت ہے۔
تاریخی حقائق
قرآن کے نزول کے زمانے میں عام لوگوں کے درمیان چاند کی روشنی کی سائنسی حقیقت معروف نہیں تھی، اگرچہ بعض قدیم یونانی فلاسفہ (جیسے انکساگورس) نے اس بارے میں مختلف آراء پیش کی تھیں کہ چاند روشنی منعکس کرتا ہے، لیکن یہ نظریہ عام لوگوں میں مقبول نہیں تھا۔ ایسے ماحول میں قرآن کا سورج اور چاند کے لیے مستقل طور پر مختلف الفاظ کا انتخاب انتہائی قابلِ غور ہے۔
حاصلِ کلام
مستشرقین کا یہ اعتراض دراصل قرآنی اسلوب کی نزاکت کو نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے۔ قرآن کا مقصد فلکیات کی تفصیلات پڑھانا نہیں، بلکہ کائنات پر تدبر کی دعوت دینا ہے۔ قرآن نے کوئی ایسا دعویٰ نہیں کیا جو آج کی ثابت شدہ سائنس سے ٹکراتا ہو۔ سورج کے لیے دہکتے ہوئے چراغ اور چاند کے لیے ایک ٹھنڈی چمک کا لفظ استعمال کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ کلامِ الٰہی کا اسلوب ہر دور کی انسانی عقل کے لیے ایک محتاط اور بے نقص رہنمائی ہے۔
حوالہ جات:
NASA (Solar System Exploration – Earth’s Moon & The Sun)
المفردات فی غریب القرآن (امام راغب اصفہانی)
History of Astronomy (Views of Anaxagoras on Moon’s light)
سورۃ نوح: 16، سورۃ یونس: 5
#سائنس #کائنات #فلکیات #تحقیق #سائنس_اور_قرآن
![]()

