Daily Roshni News

پی آئی ڈی سی برج، ایک پل کئی کہانیاں

پی آئی ڈی سی برج، ایک پل کئی کہانیاں

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )کراچی کی پہچان بننے والا یہ تاریخی پل اپنی گزرگاہ میں کئی ناموں کی کہانی سمیٹے ہوئے ہے۔

اس پل کا اصل نام ریلوے برج تھا، جو انگریز دور میں تعمیر کیا گیا اور نیپیئر مول برج کے بعد اس زمانے کا دوسرا بڑا پل شمار ہوتا تھا۔ وقت کے ساتھ اس کی شناخت بدلتی گئی، مگر اس کی تاریخ آج بھی زندہ ہے۔

انگریز دور میں یہ مقام صرف آمد و رفت تک محدود نہیں تھا۔ چاندنی راتوں میں یہاں جوڑے آ کر سکون کے لمحات گزارتے تھے، اسی وجہ سے اس دور کے لوگ اسے محبت سے لوورز برج بھی کہتے تھے۔ یہ نام اس پل کے ایک نرم اور رومانوی پہلو کی عکاسی کرتا ہے۔

چاند ماری کا پل کہلانے کی ایک اور دلچسپ وجہ بھی ہے۔ اس کے قریب انگریز دور میں شوٹنگ رینج قائم تھی، جہاں سپاہیوں کو فائرنگ کی تربیت دی جاتی تھی، بالکل اسی طرح جیسے گولیمار کے علاقے میں بھی تربیتی میدان موجود تھا۔ اسی نسبت سے یہ نام عام ہوا۔

وقت کے ساتھ شہر بدلا، علاقے بدلے، اور نام بھی بدل گیا۔ آج یہ پل زیادہ تر لوگوں کے لیے پی آئی ڈی سی برج کے نام سے جانا جاتا ہے۔

یہ پل صرف ایک راستہ نہیں، بلکہ کراچی کی تاریخ، ثقافت اور بدلتے وقت کی ایک جیتی جاگتی نشانی ہے۔

منقول

Loading