چہرہ سرورق ہے دل پوری کتاب
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹر نیشنل )ہماری غلطی یہ ہے کہ ہم کتاب کھولے بغیر سرورق دیکھ کر فیصلہ کرلیتے ہیں چہرے پر رنگ سجا ہوتا ہے مسکراہٹ بناوٹی ہوتی ہے اداہیں مصنوعی ہوتی ہیں یہ سب دھوپ میں رکھا مجسمہ ہیں خوبصورت لگتا ہے مگر پگھل جاتا ہے
اصل حسن وہ ہے جو وقت کے ساتھ بڑھتا ہے گھٹتا نہیں اور چہرے پر نہیں کردار میں ہوتا ہے کبھی چہرہ نورانی ہوتا ہے مگر زبان زہر اگلتی ہے کبھی چہرہ عام سا ہوتا ہے مگر دل سے نکلے الفاظ روح کا مرہم بن جائے ہیں
جانچنا ہے تو ساتھ بیٹھو خاموشی دیکھو غصہ دیکھو تنگی دیکھو رویہ پرکھو کیونکہ مصیبت میں میک اپ اتر جاتا ہے اور اصل چہرہ یعنی دل سامنے آ جاتا ہے دس منٹ میں تم چہرے کی تعریف کر سکتے ہو مگر دس دن میں تمھیں دل کا پتہ چلتا ہے
وہ غیر موجودگی میں تمھارا زکر کیسے کرتا ہے؟
کمزور کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتا ہے؟ وعدہ نبھاتا ہے یا بہانے بناتا ہے؟ ان سوالوں کے جواب چہرہ نہیں دیتا وقت دیتا ہے
آج کل چہرے خریدے جا سکتے ہیں فلٹر، سرجری، میک اپ مگر خلوص وفا، احساس،قربانی بازار میں نہیں ملتے یہ دل میں پیدا ہوتے ہیں اگر صرف چہرہ دیکھ کر مان لیا تو کل کو جب چہرہ بدلے گا تمھارا مان ٹوٹ جائے گا
ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم شکل دیکھ کر نہیں پرکھتے تھے دلوں کو دیکھتے تھے
نیتوں کو، عمل کو حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا رنگ کالا تھا مگر آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے نزدیک آسمان کے ستاروں سے افضل تھے کیونکہ دل روشن تھا
چہرے کی تعریف گناہ نہیں مگر اس پر رشتے، اعتبار اور فیصلے کرنا نادانی ہے پہلے دلوں کے ساتھ وقت گزارو دکھ سکھ میں شریک ہو جاؤ تنہائی کا ساتھی بنو جب یقین ہو جائے کہ دل خوبصورت ہے تب کہو چہرہ بھی خوبصورت ہے
کیونکہ تب تمہاری تعریف آنکھوں کی نہیں روح کی گواہی ہو گی یاد رکھو چہرے بدل جاتے ہیں مگر اچھے دل ہمیشہ خوبصورت رہتے ہیں
چہرہ پردہ ہے دل کتاب ہے سرورق پر نہ رکو کتاب پڑھو کیوں کہ میک اپ اتر جاتا ہے کردار ٹہھر جانا ہے
✍️ @ یاسر احمد
![]()

