ڈائریکٹر جنرل پاکستان اسپورٹس بورڈ اور سیکرٹری وزارتِ آئی پی سی محی الدین احمد وانی کے زیرِ صدارت ملک بھر کی نیشنل اسپورٹس فیڈریشنز کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔
پاکستان ( ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔۔۔۔ خصوصی مندوب ۔۔۔۔۔۔ طاہر لطیف )ڈائریکٹر جنرل پاکستان اسپورٹس بورڈ اور سیکرٹری وزارتِ آئی پی سی محی الدین احمد وانی کے زیرِ صدارت ملک بھر کی نیشنل اسپورٹس فیڈریشنز کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں کھیلوں کے فروغ، گراس روٹ ڈویلپمنٹ، مالی خود کفالت، قومی کھیل پالیسی، بین الاقوامی شرکت کے طریقۂ کار اور آئندہ قومی اسپورٹس فیسٹیول سمیت متعدد اہم امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں فیڈریشنز کو سہولتوں کی فراہمی، صوبائی محکموں کی شمولیت، اور نوجوان ٹیلنٹ کی بہتر شناخت و تربیت کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی پر بھی اتفاق کیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محی الدین احمد وانی نے شرکاء کو خوش آمدید کہا اور واضح کیا کہ کھیلوں کو صرف میڈلز اور مقابلوں تک محدود نہیں رکھا جا سکتا، بلکہ یہ جسمانی فٹنس، صحت مند طرزِ زندگی، نظم و ضبط، نوجوانوں کی شمولیت، سماجی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے فروغ کا بھی مؤثر ذریعہ ہیں۔ انہوں نے “کھیل سب کے لیے” کے تصور کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ کھیلوں میں عوامی شمولیت ایک صحت مند اور فعال معاشرے کے لیے ناگزیر ہے۔
اجلاس میں 18ویں آئینی ترمیم کے بعد کھیلوں کے صوبائی دائرہ کار، صوبوں کے موجودہ انفراسٹرکچر کے مؤثر استعمال، اسکول لیول پر کھیلوں کی بحالی اور گراس روٹ سطح پر ٹیلنٹ کی تلاش پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکاء نے اس امر پر زور دیا کہ تعلیم اور کھیل کے شعبوں میں ہم آہنگی کے بغیر نوجوان کھلاڑیوں کی درست تربیت اور بروقت رہنمائی ممکن نہیں، اسی لیے اگلی مشاورت میں صوبائی کھیل اور تعلیم کے محکموں کو بھی شامل کرنے کی تجویز دی گئی۔
مالی خود کفالت کے حوالے سے اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ وفاقی وسائل محدود ہیں، اس لیے فیڈریشنز اسپانسرشپ، پارٹنرشپ، برانڈنگ اور مارکیٹنگ کے ذریعے اپنی مالی بنیاد مضبوط بنائیں۔ سہولتوں کے حوالے سے بتایا گیا کہ بین الاقوامی ایونٹس میں شرکت کے لیے NOC کا طریقہ کار آسان بنا دیا گیا ہے، فیڈریشنز کے الحاق کے معیار میں نرمی کی گئی ہے، جبکہ پاکستان اسپورٹس بورڈ نیشنل فیڈریشنز کو تربیت اور مقابلوں کے لیے اپنی سہولیات مفت فراہم کرے گا۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان اسپورٹس بورڈ فیڈریشنز کو ٹریننگ اور مقابلوں کے لیے مفت سہولتیں دے گا، جبکہ فیڈریشنز سرکاری اسکولوں کے طلبہ کی تربیت کے لیے کوچز اور ٹرینرز فراہم کریں گی۔ ایف آئی اے کو خط لکھا جائے گا کہ کھلاڑیوں کو صرف NOC نہ ہونے کی بنیاد پر سفر سے نہ روکا جائے، البتہ سفر کرنے والی ٹیموں کی تفصیلات پاکستان اسپورٹس بورڈ کو فراہم کی جائیں۔ اسی طرح کیمپ کے ٹرینیز کا ڈیلی الاؤنس ٹیم منیجرز کے ذریعے جاری ہوگا اور اس کی رسیدیں لازمی جمع کرانی ہوں گی۔
مزید فیصلوں کے تحت پاکستان سائیکلنگ فیڈریشن سے اسلام آباد کے لیے خریدی گئی سائیکلوں کے جامع استعمال کا پلان طلب کیا گیا، جبکہ صوبائی اسپورٹس بورڈز کو قومی اور ڈیپارٹمنٹل مقابلوں میں اپنی ٹیموں کے سفر، قیام و طعام کے اخراجات برداشت کرنے کی ہدایت کی گئی۔ پاکستان اینٹی ڈوپنگ بورڈ کے ساتھ مل کر ایتھلیٹس کے لیے آگاہی سیشنز کے انعقاد پر بھی اتفاق کیا گیا۔
اجلاس میں نظرثانی شدہ قومی کھیل پالیسی کا مسودہ فیڈریشنز کو مشاورت کے لیے بھجوانے، فیڈریشنز کے مخصوص انتظامی مسائل پر الگ مشاورتی سیشنز منعقد کرنے، اور پاکستان اسپورٹس کمپلیکس کی سہولیات کو پی پی پی ماڈل پر چلانے کے لیے تجاویز طلب کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ اس کے ساتھ جولائی 2026 میں قومی اسپورٹس فیسٹیول کے انعقاد پر اتفاق کیا گیا، جس کے لیے پاکستان اسپورٹس بورڈ اور نیشنل فیڈریشنز پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کی جائے گی۔
اجلاس کے اختتام پر ڈائریکٹر جنرل پاکستان اسپورٹس بورڈ نے تمام فیڈریشنز کے نمائندوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کھیلوں کی ترقی کے لیے اداروں کے درمیان مسلسل رابطہ، مشترکہ کوششیں اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔
![]()








