Daily Roshni News

کائنات بہت جلد ختم ہونے والی ہے؟

کائنات بہت جلد ختم ہونے والی ہے؟

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )بہت زیادہ جینے کی خواہش رکھنے والوں کے لیے بری خبر ہے کہ کائنات ہمارے اب تک کے اندازوں سے کہیں جلد ختم ہو سکتی ہے۔ اگر آپ لمبی عمر، لازوال زندگی یا اپنی نسل کو اربوں سال تک چلانے کا خواب دیکھ رہے ہیں تو یہ خبر آپ کے لیے تھوڑی مایوس کن ہو سکتی ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کائنات کا انجام ہمارے اب تک کے تخمینوں کے مقابلے میں کافی جلدی وقوع پذیر ہونے کا امکان ہے۔ البتہ فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہاں جلدی کا مطلب اب بھی اربوں کھربوں سال یا اتنا لمبا عرصہ ہے کہ انسانی فہم کے لیے اس کا تخیل بھی محال ہے۔ تاہم ایک بات تو طے ہے کہ یہ نئی تحقیق ہمیں کائنات کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے پر مجبور کر رہی ہے۔

تقریباً تیس برس تک اکثر سائنسدان اس خیال پر قائم رہے کہ ڈارک انرجی (Dark Energy) وہ پراسرار قوت ہے جو کائنات کو تیزی سے پھیلا رہی ہے اور یہ ایک مستقل کاسمولوجیکل کانسٹنٹ (Cosmological Constant) ہے۔ اس تصور کے مطابق کائنات ہمیشہ پھیلتی رہے گی، ستارے ایک ایک کر کے بجھ جائیں گے، کہکشائیں ایک دوسرے سے اس قدر دور ہو جائیں گی کہ روشنی بھی ان کے درمیان سفر نہ کر سکے گی اور بالآخر کائنات ٹھنڈی، تاریک اور توانائی سے خالی ہو کر ایک خاموش انجام تک پہنچ جائے گی۔ اس حالت کو بگ فریز (Big Freeze) یا ہیٹ ڈیتھ (Heat Death) کہا جاتا ہے اور اس کے لیے اندازاً 10¹¹⁰⁰ سال کا وقت درکار سمجھا جاتا تھا۔ یہ ایک ایسا عرصہ ہے جس کا تصور بھی ذہن کو تھکا دیتا ہے۔

لیکن 2025 اور 2026 میں ڈارک انرجی سپیکٹروسکوپک انسٹرومنٹ (Dark Energy Spectroscopic Instrument, DESI) اور ڈارک انرجی سروے (Dark Energy Survey, DES) کے مشاہدات نے اس تصویر کو بدل دیا ہے۔ DESI نے تقریباً پندرہ ملین کہکشاؤں اور کویزارز (Quasars) کا ایک مفصل تین جہتی نقشہ تیار کیا جو گیارہ ارب سال کی کائناتی تاریخ پر محیط ہے۔ بیریون اکوسٹک آسیلیشنز (Baryon Acoustic Oscillations, BAO) جیسے قابل اعتماد معیاری پیمانے کے ذریعے معلوم ہوا کہ ڈارک انرجی وقت کے ساتھ کمزور ہو رہی ہے۔ بعض ماڈلز کے مطابق ڈارک انرجی ماضی میں زیادہ طاقتور تھی، موجودہ دور میں کچھ کمزور ہو چکی ہے اور مستقبل قریب میں یہ آج کے مقابلے میں تقریباً مزید دس فیصد کم دکھائی دیتی ہے۔

کورنیل یونیورسٹی کے ماہر طبیعیات S. H. Henry Tye نے انہی مشاہدات کی بنیاد پر یہ اندازہ پیش کیا کہ اگر ڈارک انرجی (Dark Energy) مسلسل کمزور ہوتی رہی تو اب سے تقریباً گیارہ ارب سال بعد کائنات کا پھیلاؤ رک جائے گا اور اس کے بعد کششِ ثقل غالب آ کر کائنات کو واپس سکیڑنا شروع کر دے گی۔ یہ سکڑاؤ اگلے تقریباً بیس ارب سال تک جاری رہے گا یہاں تک کہ کائنات مکمل طور پر سمٹ کر ایک انتہائی کثیف سنگلرٹی نما (Singularity) نقطے میں تبدیل ہو جائے گی جسے بگ کرنچ (Big Crunch) کہا جاتا ہے۔ اس حساب کتاب کے مطابق آغاز سے انجام تک کائنات کی مجموعی عمر تقریباً 33 ارب سال بنتی ہے۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ کائنات کی موجودہ عمر 13.8 ارب سال ہے، لہٰذا اس وقت کائنات اپنی ممکنہ زندگی کے نصف کے قریب پہنچ چکی ہے۔ یہ خیال اپنے آپ میں انتہائی حیران کن ہے ہے کہ جسے ہم لازوال داستان سمجھتے تھے وہ دراصل ایک محدود کہانی ہے۔

اس منظرنامے میں ایک اور اہم موڑ اسٹیفن ہاکنگ کی پیش کردہ ہاکنگ ریڈی ایشن (Hawking Radiation) کے تصور سے بھی سامنے آتا ہے۔ 1974 میں ہاکنگ نے واضح کیا کہ بلیک ہول (Black Hole) مکمل طور پر سیاہ یا تاریک نہیں ہوتے۔ کوانٹم میکینکس (Quantum Mechanics) کے مطابق خلا میں مسلسل ورچوئل پارٹیکل اور اینٹی پارٹیکل (Virtual Particle-Antiparticle) کے جوڑے بنتے رہتے ہیں۔ اگر بلیک ہول کے ایونٹ ہورائزن (Event Horizon) کے قریب ان میں سے ایک ذرہ اندر گر جائے اور دوسرا باہر نکل جائے تو بلیک ہول اپنی توانائی کھونے لگتا ہے۔ یہی عمل وقت کے ساتھ اسے بخارات بنا کر ختم کر دیتا ہے اور یوں یہ نظریہ جنرل ریلیٹیویٹی (General Relativity) اور کوانٹم میکینکس (Quantum Mechanics) کے درمیان ایک اہم ربط فراہم کرتا ہے۔

نیدرلینڈز کی راڈبود یونیورسٹی کے سائنسدانوں کی حالیہ تحقیق نے اس خیال کو مزید وسعت دی ہے۔ ان کے مطابق ہاکنگ ریڈی ایشن (Hawking Radiation) صرف بلیک ہول (Black Hole) تک محدود نہیں بلکہ ہر وہ جسم جس کا گریویٹیشنل فیلڈ (Gravitational Field) مضبوط ہو، اسی طرح کے عمل سے گزرتا ہے چاہے اس میں ایونٹ ہورائزن (Event Horizon) بھی موجود نہ ہو۔ اس بنیاد پر وائٹ ڈوارفس (White Dwarfs)، نیوٹران اسٹارز (Neutron Stars)، سپر میسیو بلیک ہولز (Supermassive Black Holes) اور یہاں تک کہ ڈارک میٹر ہیلوز (Dark Matter Halos) بھی آہستہ آہستہ ایواپوریٹ (Evaporate) ہو سکتے ہیں۔ اس نئے اندازے کے مطابق کائنات کی ممکنہ مدت 10¹¹⁰⁰ سال کے بجائے تقریباً 10⁷⁸ سال رہ جاتی ہے۔ نیوٹران اسٹارز (Neutron Stars) اور اسٹیلر ماس بلیک ہولز (Stellar-Mass Black Holes) تقریباً 10⁶⁷ سے 10⁶⁸ سال میں ختم ہو سکتے ہیں جبکہ وائٹ ڈوارفس (White Dwarfs) جو ہماری کہکشاں کے زیادہ تر ستاروں کی موت کے بعد ان کا انجام ہیں، کل 10⁷⁸ سال تک قائم رہ سکتے ہیں۔ یہ مدت اب بھی ناقابلِ تصور حد تک طویل ہے مگر پہلے کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔

کائنات کے انجام کے حوالے سے دیگر نظریات بھی زیر بحث ہیں۔ اگر ڈارک انرجی (Dark Energy) غیر معمولی طور پر بڑھ جائے تو بگ رِپ (Big Rip) کا امکان پیدا ہوتا ہے جس میں کائنات کا پھیلاؤ اس قدر تیز ہو جاتا ہے کہ ہر ساخت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہے۔ ایک اور امکان ویکیوم ڈیکے (Vacuum Decay) ہے جس میں کوانٹم ویکیوم (Quantum Vacuum) کی بنیادی حالت بدلنے سے قوانینِ فطرت ہی تبدیل ہو جائیں۔ اس کے برعکس بگ باؤنس (Big Bounce) کا تصور یہ پیش کرتا ہے کہ بگ کرنچ (Big Crunch) کے بعد کائنات دوبارہ جنم لے سکتی ہے اور یہ عمل مسلسل جاری رہ سکتا ہے۔ موجودہ شواہد زیادہ تر بگ کرنچ (Big Crunch) یا کمزور ڈارک انرجی (Dark Energy) کے حق میں اشارہ کرتے ہیں مگر تحقیق ابھی جاری ہے اور حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

یہ سب اربوں سال کے پیمانے کی باتیں ہیں لیکن ہماری زمین، ہمارا سورج اور ملکی وے کہکشاں ابھی ہمارے لیے محفوظ ہیں۔ اس تحقیق سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کائنات کوئی جامد یا لامتناہی وجود نہیں بلکہ آغاز، پھیلاؤ اور اختتام پر مشتمل ایک مربوط اور مسلسل سائنسی عمل ہے۔ جوں جوں ہم اس کے انجام کو بہتر سمجھتے جائیں گے، ویسے ویسے اس کے آغاز اور بنیادی قوانین بھی زیادہ واضح ہوتے جائیں گے۔

اب سوال یہ ہے کہ ہم کیا کریں؟ کچھ بھی نہیں ،بس خوب جئیں، سیکھیں، دریافت کریں اور کائنات کی خوبصورتی سے لطف اٹھائیں کیونکہ چاہے کائنات کا انجام جتنا بھی قریب ہو، ہمارے پاس جو وقت ہے وہ بہت قیمتی ہے۔ یہ وقت کائنات کے بارے میں اپنے علم کو آگے بڑھانے، سوال اٹھانے اور ان کے جواب تلاش کرنے کے لیے کافی ہے۔ مزید جاننے کی اسی جستجو میں دراصل کائنات کو سمجھنے کا اصل لطف چھپا ہے۔

(تحریر: ڈاکٹر احمد نعیم)

Research Paper:

Title: The Lifespan of our Universe

Authors: S. H. Henry Tye، Hoang Nhan Luu، Yu-Cheng Qiu

Year: 2025

Source: arXiv

Loading