Daily Roshni News

کائنات کا “میزان”: ایک ایسا حیرت انگیز توازن جس پر پوری کائنات قائم ہے۔۔۔تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی

کائنات کا “میزان”: ایک ایسا حیرت انگیز توازن جس پر پوری کائنات قائم ہے

تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی)انسان جب بھی کسی پرسکون کالی رات کو اس لامتناہی اور پراسرار آسمان کی طرف نگاہِ شوق دوڑاتا ہے، تو اربوں چمکتے ستارے، گھومتی کہکشائیں، معلق سیارے اور ایک ایسی مہیب خاموش وسعت اسے اپنے حصار میں لے لیتی ہے جو انسانی عقل کو ورطہِ حیرت میں ڈال دیتی ہے۔ پھر ذرا گہرائی سے سوچیے کہ مادی فزکس کا یہ پورا لشکری نظام آخر کس نادیدہ نظم اور توازن کے تحت اربوں سالوں سے مستقل چل رہا ہے؟ ہماری یہ نیلی زمین اپنے سورج سے خلا کے تالاب میں نہ تو اتنی قریب جاتی ہے کہ اس کا مادی وجود جل کر خاکستر ہو جائے، اور نہ ہی اتنی دور ہٹتی ہے کہ یہاں کی پوری زندگی پتھر کی طرح برف بن جائے۔

چاند ایک مخصوص مقررہ ریاضیاتی رفتار سے چکر کاٹ رہا ہے، کھربوں ستارے اپنے اپنے مداروں (Orbits) میں قائم ہیں، اور پوری کائنات ایک عجیب و غریب حیاتیاتی توازن کے ساتھ سانس لے رہی ہے۔

ابنِ آدم جتنا زیادہ اس کائنات کے ذروں کا مطالعہ کرتا ہے، اتنا ہی اس کا باطن یہ گواہی دینے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ یہ مادی نظام کسی اندھے حادثے کا نام نہیں بلکہ یہ تو ایک انتہا درجے کے باریک اور حساس توازن کے ساتھ قائم کیا گیا ہے۔ اور کائنات کا سب سے بڑا علمی معجزہ یہ ہے کہ قرآنِ حکیم نے آج سے چودہ سو سال پہلے، اس وقت جب انسان کائناتی فزکس کے حروفِ تہجی سے بھی بالکل لاعلم تھا، اس پوری مہیب حقیقت کو صرف ایک نہایت جامع، لافانی اور فلسفیانہ لفظ کے اندر سمیٹ کر رکھ دیا تھا؛ اور وہ لفظ ہے: “میزان”۔

اللہ رب العزت سورۂ الرحمٰن کی شان دار آیات میں ارشاد فرماتا ہے:

﴿وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ ۝ أَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ﴾

“اور اسی نے آسمان کو بلند کیا اور (کائنات کا پورا) میزان (توازن) قائم کر دیا، تاکہ تم بھی (اپنی زندگی کے) توازن میں حد سے تجاوز نہ کرو۔” — (سورۃ الرحمٰن: 7-8)

عربی لغت اور شریعت کی رو سے اس “میزان” کا ایک واضح اور مانا ہوا مطلب عدل، کائناتی انصاف اور ترازو کا اعتدال ہے۔ لیکن جب ایک جدید پڑھے لکھے ذہن کا انسان اج کی ریسرچ کی روشنی میں کائنات کے قوانین پر تدبر کرتا ہے، تو یہ قرآنی لفظ ایک لامتناہی وسیع تر معنی اختیار کرتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے کائنات کا پورا سافٹ ویئر ہی سچ مچ ایک عظیم حیاتیاتی توازن کے تحت لکھا گیا ہے۔

آج کا جدید علمِ کائنات (Cosmology) اور مادی فزکس بھی ہمیں یہی چونکا دینے والا سچ بتاتی ہے کہ اگر کائنات کی پیدائش کے وقت اس کے بنیادی طبیعی قوانین اور مستقلات (Physical Constants) میں ایک انچ یا سیکنڈ کے اربوں حصّے کے برابر بھی کوئی معمولی سا فرق رہ جاتا، تو کائنات کی ہسٹری میں نہ کبھی ستارے بن سکتے تھے، نہ کہکشائیں وجود میں آتیں، نہ ہماری زمین کا کوئی مادی وجود ہوتا اور نہ ہی زندگی کا کوئی بیج یہاں پھوٹ سکتا تھا۔ سائنسدان اس تصور کو “فائن ٹیوننگ آف دی یونیورس” (Fine-Tuning of the Universe) یا کائنات کی نازک ترین ترتیب کا نام دیتے ہیں۔

مثال کے طور پر اگر ہم کائنات کی سب سے بڑی اور مانی ہوئی قوت، یعنی کششِ ثقل (Gravitational Force) کو ہی ترازو پر رکھ کر دیکھیں؛ تو یہی وہ نادیدہ جادوئی طاقت ہے جو تمام سیاروں کو ان کے مقررہ مدار میں جکڑ کر رکھتی ہے، ستاروں کے دل کو پھٹنے سے بچاتی ہے اور اربوں کہکشاؤں کو ایک لڑی میں منظم رکھتی ہے۔ اب ذرا جدید فزکس کا کمال دیکھیے؛ ماہرینِ فلکیات کہتے ہیں کہ اگر کائنات کی تخلیق کے ابتدائی لمحے میں اس کششِ ثقل کی طاقت اپنی موجودہ مقدار سے محض 10^{40} ویں حصے کے برابر بھی (یعنی ایک کے بعد چالیس صفر لگا کر جو باریک ترین جینیاتی ریشو بنتا ہے) ذرا سی زیادہ تیز ہو جاتی، تو پوری کائنات کا مادہ دھماکے کے بعد پھیلنے کے بجائے خود اپنے ہی اندر دوبارہ شدید دباؤ کے ساتھ سسک کر سکڑ جاتا، تمام ستارے بہت جلد بلیک ہول بن کر تباہ ہو جاتے اور نظامِ حیات سیکنڈوں میں بگڑ جاتا۔ اور اس کے برعکس، اگر یہ کششِ ثقل ذرا سی بھی کمزور رہ جاتی، تو کائنات کا مادہ دھماکے کے بعد خلا میں اس طرح دور بھاگتا کہ وہ کبھی ایک دوسرے کے ساتھ جڑ ہی نہ پاتا، اور پوری کائنات میں ستارے، سیارے اور گلیکسیز کبھی جنم ہی نہ لے پاتیں۔

اسی طرح بگ بینگ (Big Bang) کے بعد کائنات کے مستقل پھیلنے کی رفتار (Expansion Rate of the Universe) بھی حیرت انگیز حد تک ایک ایسے باریک دھاگے پر معلق ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ اسٹیفن ہاکنگ سمیت دنیا کے بڑے بڑے ماہرینِ کائنات تسلیم کرتے ہیں کہ اگر کائنات کے آغاز کے پہلے ایک سیکنڈ میں اس کے پھیلنے کی یہ رفتار روشنی کی نسبت محض ایک ارب کے دسویں حصے کے برابر بھی سست یا تیز ہوتی، تو یہ پوری کائنات یا تو اپنے ہی ملبے تلے دب کر دوبارہ ختم ہو جاتی یا اس طرح بکھر جاتی کہ وہ حالات اور سازگار ماحول کبھی پیدا ہی نہ ہو سکتے جن میں زندگی اور انسان کا وجود ممکن ہو سکتا۔

اسی لیے دورِ حاضر کے بڑے بڑے سائنسدان اس مہیب نظم اور کامل توازن کو سچ مچ ایک ناقابلِ یقین معجزہ قرار دیتے ہیں۔ اگرچہ کچھ مادی فلسفی اپنے الحاد کو بچانے کے لیے اسے محض ایک ‘اتفاق’ کا نام دے کر جان چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں، مگر ایک ایماندار اور صاحبِ بصیرت عقل یہ گواہی دیتی ہے کہ اس قدر مائیکرو اسکوپک باریک توازن کے پیچھے ایک انتہا درجے کی علیم، حکیم اور قادرِ مطلق ذات کی نادیدہ پلاننگ اور اس کا ارادہ کارفرما ہے۔

ایک سچا مومن جب ان چونکا دینے والے سائنسی حقائق پر غور کرتا ہے، تو اسے چودہ سو سال پہلے کے عرب کے صحرا میں نازل ہونے والا قرآن کا وہ ایک لفظ “میزان” اپنے دل کی دھڑکن کے پاس اور بھی زیادہ گہرا، سچا اور زندہ محسوس ہونے لگتا ہے۔

لیکن یہاں ریسرچ کے اس موڑ پر ایک بہت ہی خوبصورت اور فکری حقیقت سمجھنا ہر انسان کے لیے لازم ہے۔ قرآنِ مجید کوئی فلکیات (Astronomy) یا طبیعیات (Physics) کی کوئی روایتی اسکول کی نصابی کتاب نہیں ہے جس کا مقصد صرف اوزاروں کی گنتی سکھانا ہو؛ قرآن کا اصل اور حتمی مقصد تو ابنِ آدم کی روح کو ہدایت کا سچا راستہ دکھانا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ پاک میں اس کائناتی “میزان” کا تذکرہ صرف ستاروں یا کہکشاؤں کے مادی توازن تک ہی محدود نہیں رہتا، بلکہ وہ اس عظیم الشان کائناتی مثال کو لا کر فوراً انسان کی اپنی انفرادی، اخلاقی، معاشی اور معاشرتی زندگی کے توازن کی طرف ایک بہت بڑا اشارہ کر دیتا ہے۔

غور فرمائیے کہ قرآن کا اسلوبِ بیان کتنا کمال کا ہے؛ اللہ رب العزت پہلے آسمان کی بلندی اور اس کے اندر قائم مہیب کائناتی میزان کا جلال کے ساتھ ذکر کرتا ہے، اور اس کے فوراً بعد زمین پر کھڑے انسان کو یہ کڑا حکم جاری فرماتا ہے کہ: “الّا تطغوا فی المیزان، یعنی اوئے انسانو! تم بھی اپنی روزمرہ کی زندگی کے ترازو اور انصاف میں کبھی حد سے تجاوز مت کرنا”۔ گویا وحیِ الٰہی انسان کو یہ گہرا صوفیانہ سبق سکھا رہی ہے کہ جو کامل توازن، اعتدال اور عدل اس کائنات کی ہر ایک کہکشاں اور ذرے کے اندر قائم ہے، تمہیں بھی اپنے اس چھوٹے سے معاشرے اور گھر کے اندر اسی خدائی توازن اور عدل کی پیروی کرنی ہوگی۔

اگر کائنات کا یہ کھربوں ٹن بھاری نظامِ فزکس محض چند سیکنڈ کے لیے بھی توازن کھو دے تو پوری کائنات کا شیرازہ بکھر جاتا ہے؛ بالکل اسی طرح:

انسانی معاشرہ بھی عدل، انصاف اور حقوق العباد کے سچے توازن کے بغیر کبھی امن کا گہوارہ نہیں بن سکتا۔

انسان کا اپنا باطن بھی جب تک اعتدال اور بندگی کے ترازو پر قائم نہ ہو، وہ کبھی سچا سکون حاصل نہیں کر سکتا۔

اور انسان کی سماجی زندگی بھی جب اخلاق کے توازن سے ہٹتی ہے، تو وہ فرعونی تکبر کی مٹی بن کر بکھر جاتی ہے۔

قرآنِ پاک کے اس اعجازِ بیان پر قربان جائیے کہ اس نے صرف ایک ہی لفظ کے ذریعے انسان کے سامنے تدبر کے تین بڑے لافانی دروازے ایک ساتھ کھول دیے ہیں؛ یعنی کائنات کے مظاہر پر سائنسی غور و فکر، اس مہیب نظم کے پیچھے چھپے ہوئے اپنے سچے خالق کی پہچان اور معرفت، اور زمین پر اپنے کردار کی اخلاقی ذمہ داری کا سچا احساس۔

آج کا مادی انسان اپنی بڑی بڑی خلائی دوربینوں اور سیٹلائٹس کے ذریعے اربوں نوری سال دور کی کہکشاؤں کے فوٹو کھینچ رہا ہے، کوانٹم فزکس کے پیچیدہ قوانین پر موٹی موٹی کتابیں لکھ رہا ہے، اور کائنات کے ابتدائی لمحات (Cosmic Dawn) کو ڈی کوڈ کرنے کی کوششوں میں جتا ہوا ہے۔ لیکن کائنات کا یہ اصول ہے کہ جوں جوں انسان کا سائنسی علم آگے بڑھ رہا ہے، ویسے ویسے کائنات کے اس لاجواب نظم، اس کی مہیب پیچیدگی اور اس کے ریاضیاتی توازن پر انسان کی حیرت اور اس کی عاجزی بھی دن بہ دن بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ اور شاید یہی وہ آخری سچ ہے جو قرآنِ حکیم انسان کی روح کے اندر اتار دینا چاہتا ہے کہ جس رحمان نے آسمان کی بلندیوں میں یہ میزان قائم کی ہے، وہی تمہیں بھی تمہارے لین دین، تمہاری عدالتوں اور تمہاری زندگی میں عدل اور اعتدال کا حکم دیتا ہے۔ اسی لیے قرآن بار بار انسان کو کائنات کی وسعتوں میں تفکر کی دعوت دیتا ہے، تاکہ وہ محض ایک عام جانور کی طرح ان چمکتے ستاروں کو دیکھ کر نہ گزر جائے، بلکہ ان کے پیچھے چھپی ہوئی کائنات کے مالک کی عظیم حکمتِ عملی کو بھی سچے دل سے پہچان لے۔

﴿مَّا تَرَىٰ فِي خَلْقِ الرَّحْمَٰنِ مِن تَفَاوُتٍ ۖ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَىٰ مِن فُطُورٍ﴾

“تم رحمان کی اس تخلیق (اور کائناتی نظام) میں کوئی بے ربطی، خلل یا نقص کہیں نہیں دیکھو گے۔ سو تم اپنی نگاہ کو دوبارہ (آسمان کی طرف) دوڑاؤ، کیا تمہیں اس میں کوئی شگاف یا عیب نظر آتا ہے؟” — (سورۃ الملک: 3)

جوں جوں مادی انسان خلا کے نئے نئے راز دریافت کر رہا ہے، اس پر یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی جا رہی ہے کہ اس مہیب اور وسیع نظام کے پیچھے محض کوئی اندھی مادی طاقت یا حادثہ کارفرما نہیں ہے، بلکہ اس کے پیچھے تو ایک ایسی سپریم انٹیلی جنس اور زبردست علیم ذات کی سچی حکمت کام کر رہی ہے جس کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ اور یہی کائنات کے اس لافانی “میزان” کا سب سے گہرا، سچا اور آخری صوفیانہ مفہوم ہے۔

واللہ اعلم بالصواب۔

#قرآن_اور_سائنس #کائناتی_میزان #سائنس_قرآن_کے_حضور_میں #توازن_کائنات #تدبر_قرآن #اسلام_اور_سائنس #کائنات #عدل #میزان #فائن_ٹیوننگ #بگ_بینگ #فزکس

Loading