Daily Roshni News

جنات کے کھودے ہوئے کنوئیں — حضرت سلیمانؑ کے لشکر کا حیرت انگیز واقعہ

جنات کے کھودے ہوئے کنوئیں — حضرت سلیمانؑ کے لشکر کا حیرت انگیز واقعہ

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )سعودی عرب کے شمالی علاقے میں واقع ایک قدیم اور پراسرار گاﺅں “لینہ” آج بھی تاریخ، آثارِ قدیمہ اور حیرت انگیز روایات کا ایسا مجموعہ ہے جو انسان کو صدیوں پرانے زمانے میں لے جاتا ہے۔ یہ گاﺅں نہ صرف اپنی جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے مشہور ہے بلکہ یہاں موجود سینکڑوں قدیم کنوئیں اسے دنیا کے ان چند مقامات میں شامل کرتے ہیں جنہیں لوگ حیرت، تجسس اور عقیدت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ کنوئیں حضرت سلیمان علیہ السلام کے حکم پر جنات نے کھودے تھے، اور انہی کنوﺅں کی وجہ سے یہ علاقہ عرب کی قدیم تاریخ میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔

لینہ سعودی عرب کے شمالی شہر رفحا سے تقریباً ایک سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ علاقہ قدیم تجارتی راستوں کے سنگم پر آباد تھا، اسی لیے اسے صدیوں سے قافلوں کی آرام گاہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ بیت المقدس سے یمن تک جانے والے مسافر اور تاجر اسی راستے سے گزرتے تھے۔ بعد میں ملکہ زبیدہ کی تعمیر کردہ مشہور شاہراہ “دربِ زبیدہ” بھی اسی مقام سے گزری، جس نے اس علاقے کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا۔

اس قدیم بستی میں موجود تقریباً تین سو کنوئیں آج بھی لوگوں کو حیران کر دیتے ہیں۔ ان کنوﺅں کی خاص بات یہ ہے کہ یہ عام زمین میں نہیں بلکہ سخت پتھریلی چٹانوں کو کاٹ کر بنائے گئے تھے۔ ان میں سے کئی کنوئیں ساٹھ سے اسی میٹر تک گہرے ہیں۔ جدید دور کے ماہرین آثار قدیمہ اور انجینئرز اس بات پر حیران ہیں کہ ہزاروں سال پہلے اتنی سخت چٹانوں کو کس طرح تراشا گیا ہوگا۔ کنوﺅں کی دیواروں پر ایسے نشانات موجود ہیں جو کسی جدید ڈرل مشین کی مانند دکھائی دیتے ہیں، اسی وجہ سے بہت سے محققین انہیں ایک حیرت انگیز معمہ قرار دیتے ہیں۔

روایات کے مطابق جب حضرت سلیمان علیہ السلام اپنے عظیم لشکر کے ساتھ یمن کی طرف روانہ تھے تو راستے میں اس مقام پر قیام فرمایا۔ آپؑ کے لشکر میں انسانوں کے ساتھ جنات اور پرندوں کے لشکر بھی شامل تھے۔ شدید گرمی اور خشک زمین کی وجہ سے پانی کی سخت ضرورت محسوس ہوئی۔ لشکر کے لوگ پیاس سے بے چین ہونے لگے۔ اسی دوران حضرت سلیمان علیہ السلام نے جنات کے ایک کمانڈر “سبطر” کو مسکراتے ہوئے دیکھا۔ آپؑ نے اس سے وجہ پوچھی تو اس نے عرض کیا کہ پانی زمین کے اندر موجود ہے، بس اسے نکالنے کی ضرورت ہے۔

حضرت سلیمان علیہ السلام نے حکم دیا کہ فوراً پانی کا انتظام کیا جائے۔ روایت میں آتا ہے کہ جنات نے بہت کم وقت میں چٹانوں کو توڑ کر تین سو کنوئیں کھود ڈالے۔ جلد ہی ان کنوﺅں سے میٹھا پانی نکل آیا اور پورا لشکر سیراب ہوگیا۔ یہی وہ کنوئیں ہیں جن کے آثار آج بھی “لینہ” میں موجود ہیں۔ اگرچہ وقت گزرنے کے ساتھ بیشتر کنوئیں خشک یا ناکارہ ہو چکے ہیں، لیکن آج بھی تقریباً بیس کنوﺅں سے میٹھا پانی حاصل کیا جاتا ہے۔

معروف سعودی محقق حمد الجاسر نے بھی اپنی تحقیقات میں اس واقعے کا ذکر کیا ہے۔ ان کے مطابق تاریخی روایات اس بات کی تائید کرتی ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا لشکر اس مقام پر ضرور رکا تھا۔ اسی طرح مشہور مؤرخ یاقوت حموی نے اپنی معروف کتاب “معجم البلدان” میں “لینہ” کے ان کنوﺅں کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ یہ علاقہ اپنے میٹھے پانی کی وجہ سے پورے عرب میں مشہور تھا۔ ان کے زمانے تک بھی یہ کنوئیں پانی سے بھرے ہوئے تھے اور قافلے یہاں رک کر پانی حاصل کرتے تھے۔

وقت گزرنے کے ساتھ یہ علاقہ ایک اہم تجارتی مرکز بن گیا۔ عراق، نجد اور شمالی عرب کے تاجر یہاں آکر اپنی منڈیاں لگاتے۔ پہاڑوں میں بنے بڑے بڑے گوداموں میں سامان محفوظ کیا جاتا، جنہیں “سیابیط” کہا جاتا تھا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی قدیم گودام آج بھی موجود ہیں اور اس علاقے کی تجارتی تاریخ کی خاموش گواہی دیتے ہیں۔

لینہ میں ایک تاریخی قلعہ بھی موجود ہے جسے 1354 ہجری میں تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ قلعہ پتھروں، لکڑی اور گارے سے بنایا گیا اور اس کا مقصد علاقے کی حفاظت اور مسافروں کو پناہ فراہم کرنا تھا۔ آج یہ قلعہ سعودی عرب کے قدیم طرزِ تعمیر کی خوبصورت مثال سمجھا جاتا ہے۔

حضرت سلیمان علیہ السلام کا ذکر قرآنِ کریم میں ایک ایسے عظیم نبی اور بادشاہ کے طور پر آیا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے انسانوں، پرندوں اور جنات پر حکومت عطا فرمائی تھی۔ جنات آپؑ کے حکم سے مختلف تعمیراتی کام انجام دیتے تھے۔ قرآنِ مجید میں ذکر ہے کہ وہ آپؑ کے لیے عظیم عمارتیں، محرابیں اور بڑے بڑے حوض بناتے تھے۔ بیت المقدس کی تعمیر میں بھی جنات نے حصہ لیا تھا۔ وہ سمندروں سے موتی نکالتے اور دور دراز علاقوں سے بھاری پتھر لا کر تعمیرات میں استعمال کرتے تھے۔

لینہ کے یہ کنوئیں آج بھی اسی عظیم تاریخ کی ایک جھلک دکھاتے ہیں۔ اگرچہ کچھ لوگ انہیں محض تاریخی روایت قرار دیتے ہیں اور بعض انہیں ایک معجزہ سمجھتے ہیں، مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ سخت ترین چٹانوں میں اتنی بڑی تعداد میں گہرے کنوﺅں کی موجودگی آج بھی حیرت کا باعث ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر سے سیاح، محققین اور تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے افراد اس مقام کو دیکھنے آتے ہیں۔

یہ علاقہ انسان کو اس حقیقت کا احساس دلاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب اپنے بندوں کو طاقت عطا فرماتا ہے تو ناممکن کام بھی ممکن ہو جاتے ہیں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کا یہ واقعہ نہ صرف ایک تاریخی داستان ہے بلکہ اللہ کی قدرت، انبیائے کرام کی عظمت اور جنات پر عطا کی گئی حکومت کی ایک زندہ یادگار بھی ہے، جو آج بھی صحرائے عرب کی خاموش فضاؤں میں اپنی داستان سناتی محسوس ہوتی ہے۔

#حضرت_سلیمانؑ

#جنات

#لینہ

#سعودی_عرب

#اسلامی_تاریخ

#معجزات

#آثار_قدیمہ

#درب_زبیدہ

#قدیم_کنوئیں

#تاریخی_حقائق

Loading