Daily Roshni News

کائنات کا واپس لوٹانے والا نظام: آسمان کی صفت ‘الرَّجْعِ’ کیا ہے؟۔۔۔ تحقیق و ترتیب۔۔۔ طارق اقبال سوہدروی

کائنات کا واپس لوٹانے والا نظام: آسمان کی صفت ‘الرَّجْعِ’ کیا ہے؟

تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ کائنات کا واپس لوٹانے والا نظام: آسمان کی صفت ‘الرَّجْعِ’ کیا ہے؟۔۔۔ تحقیق و ترتیب۔۔۔ طارق اقبال سوہدروی)جب ہم آسمان کی طرف دیکھتے ہیں تو ہمیں بظاہر ایک خالی خلا نظر آتا ہے۔ لیکن جدید سائنس (Atmospheric Physics) ہمیں بتاتی ہے کہ ہمارے اوپر موجود آسمان (کرہِ ہوائی) کوئی خالی جگہ نہیں، بلکہ ایک انتہائی فعال اور ‘واپس لوٹانے والا’ (Returning) نظام ہے۔

ہماری فضا کی مختلف تہیں زمین سے جانے والی، اور خلا سے آنے والی چیزوں کو ایک خاص مقناطیسی اور کیمیائی انداز میں واپس لوٹا دیتی ہیں یا ان کے اثرات کو روکتی ہیں۔ آئیے اس حیرت انگیز نظام کو دو سائنسی پہلوؤں سے سمجھتے ہیں۔

1۔ آبی چکر (The Water Cycle)

یہ آسمان کے لوٹانے کی سب سے بنیادی اور زندگی کے لیے سب سے اہم شکل ہے۔ سورج کی حرارت سے سمندروں کا پانی بخارات (Vapors) بن کر اوپر اٹھتا ہے۔ کرہِ ہوائی کی نچلی تہہ (Troposphere) ان بخارات کو خلا میں گم نہیں ہونے دیتی، بلکہ انہیں بادلوں کی شکل دے کر بارش اور برف باری کی صورت میں واپس زمین پر لوٹا دیتی ہے۔ اگر یہ لوٹانے والا نظام نہ ہو تو زمین کا سارا پانی خلا میں اڑ جائے اور زمین بنجر ہو جائے۔

2۔ آئنوسفیر (The Ionosphere) اور ریڈیو لہریں

جدید سائنس کی ایک اور حیرت انگیز دریافت فضا کی ایک اوپری تہہ ‘آئنوسفیر’ ہے۔ سورج کی الٹرا وائلٹ شعاعوں کی وجہ سے اس تہہ میں موجود گیسوں کے ایٹم چارج ہو جاتے ہیں۔ اس تہہ کا کمال یہ ہے کہ یہ بعض مخصوص فریکوئنسیوں (خصوصاً HF یا Shortwave) کی ریڈیو لہروں کو منعکس (Reflect) کر کے دوبارہ زمین کی طرف بھیج سکتی ہے، جس سے طویل فاصلے تک وائرلیس مواصلات ممکن ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، زمین کی فضا اور مقناطیسی میدان مل کر خلا سے آنے والی کئی نقصان دہ شعاعوں اور ذرات کے اثرات کو کم بھی کرتے ہیں، جس سے زمین پر زندگی محفوظ رہتی ہے۔

قرآن ہمیں کیا سکھاتا ہے؟

چودہ سو سال پہلے، جب کرہِ ہوائی کی تہوں کا کوئی سائنسی تصور موجود نہیں تھا، قرآن مجید نے آسمان کی اس عظیم الشان طبعی خصوصیت کو ایک انتہائی جامع لفظ میں یوں بیان فرمایا:

وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الرَّجْعِ ﴿١١﴾

“قسم ہے آسمان کی جو لوٹانے والا (صفتِ رجع رکھنے والا) ہے۔” (سورۃ الطارق: 11)

یہاں ایک بات سمجھنا بھی ضروری ہے کہ قرآنِ مجید میں لفظ “السَّمَاء” ہمیشہ صرف سات آسمانوں (Seven Heavens) کے لیے استعمال نہیں ہوتا۔ عربی زبان میں “سماء” ہر اس چیز کو بھی کہا جاتا ہے جو انسان کے اوپر ہو۔ اسی لیے مفسرین نے مختلف مقامات پر سیاق و سباق کے مطابق اس کے مختلف مصادیق بیان کیے ہیں، جیسے فضائے زمین (Atmosphere)، بادلوں والا آسمان یا بلند آسمان۔

سورۃ الطارق کی اس آیت میں “ذَاتِ الرَّجْعِ” کے حوالے سے کلاسیکی مفسرین نے بارش لوٹانے والے آسمان کی تفسیر کی ہے، جبکہ جدید سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ زمین کے اوپر موجود فضائی تہیں بھی کئی اہم چیزوں کو واپس لوٹانے یا ان کی واپسی میں کردار ادا کرتی ہیں۔ اس لیے اس آیت کو ہماری زمین کے اوپر موجود آسمانی نظام (Atmospheric System) کے تناظر میں سمجھنا بالکل فطری اور سیاق کے مطابق ہے۔

ہم یہ دعویٰ ہرگز نہیں کرتے کہ قرآن نے چودہ سو سال پہلے ریڈیو فریکوئنسی یا آئنوسفیر کا سائنسی فارمولا پیش کیا تھا۔ لیکن “الرَّجْعِ” کا لفظ بارش لوٹانے کی کلاسیکی حقیقت کو بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے، اور آج کی جدید فزکس جب یہ بتاتی ہے کہ کرہِ ہوائی مخصوص مقناطیسی لہروں کو بھی ‘واپس لوٹاتا’ ہے، تو یہ قرآنی تعبیر جدید سائنس سے بھی مکمل ہم آہنگ نظر آتی ہے۔

حاصلِ کلام

یہ قرآن کے الفاظ کی جامعیت اور لسانی اعجاز کی ایک خوبصورت مثال ہے کہ ایک ہی لفظ مختلف ادوار میں انسان کو نئے زاویۂ فکر کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ ایک مومن کے لیے آسمان کا یہ ‘لوٹانے والا نظام’ محض فزکس کا اتفاق نہیں، بلکہ اس خالق کی عظیم الشان منصوبہ بندی کا ثبوت ہے جس نے زمین پر زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے آسمان کو ایک مکمل اور فعال ڈھال بنا رکھا ہے۔

#سائنس #آسمان #فزکس #آئنوسفیر #طبیعیات #تحقیق #سائنس_اور_قرآن

حوالہ جات:

NASA (Earth’s Atmospheric Layers and the Ionosphere)

NOAA – National Oceanic and Atmospheric Administration (The Water Cycle)

Space.com (What is the Ionosphere?)

سورۃ الطارق: 11

Loading