Daily Roshni News

شباب کی باتیں۔۔۔کہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے۔۔۔ تحریر  ۔۔۔۔۔۔   مشتاق شباب

شباب کی باتیں

*کہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے*

تحریر  ۔۔۔۔۔۔   مشتاق شباب

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ شباب کی باتیں۔۔۔کہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے۔۔۔ تحریر  ۔۔۔۔۔۔   مشتاق شباب)وہ جو ہسپانوی مصور اور سنگتراش بیچارے پکاسو (Picasso) کا حشر ایک “جاہل بے بدل”  کاتب نے کیا تھا،  اس کے بعد یہ سلسلہ رکا نہیں بلکہ اس کا تازہ ترین شاہکار گزشتہ روز اس وقت سامنے  آیا،  جب ایک وزیر با تدبیر  نے سرکاری طور پر (ماہ مادر دودھ) کی نئی اصطلاح ایجاد کرتے ہوئے,  ماں کے دودھ کی اہمیت اجاگر کی اور اردو زبان میں نئی ترکیب کا اضافہ فرمایا۔ یوں نواب مرزا داغ دہلوی کی اپنی زبان کے حوالے سے دعوے کو بھی غلط قرار دے دیا جو یہ کہتے کہتے منوں  مٹی اوڑھ کر اگلے جہان سدھار گئے کہ

اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ

 سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے

بلکہ ایک اور استاد شاعر اصغر علی خان نسیم نے بھی تو کہا تھا کہ

 نسیم دہلوی ہم موجد باب فصاحت ہیں

کوئی اردو کو کیا سمجھے گا جیسا ہم سمجھتے ہیں

 اور مرزا داغ  نے یہ بھی تو کہا تھا نا کہ

 نہیں کھیل اے داغ یاروں سے کہہ دو

 کہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے

وزیر موصوف کا اردو زبان سے ممکن ہے کوئی تعلق واسطہ نہ ہو، تاہم دکھ تو ان متعلقہ سرکاری ذمہ دار افراد کی مبلغ علمیت پر ہوتا ہے جنہوں نے “ماہ مادر دودھ”  جیسی نئی ترکیب ایجاد کر کے باباۓ قوم قائد اعظم محمد علی جناح کی اردو کو پاکستان کی قومی زبان قرار دینے کے فرمان کو بھی کھڈے لائن لگانے کی کوشش کی ہے۔ حالانکہ محاورہ یا روز مرہ تو “شیر مادر”  ہے اور لوگ عام گفتگو میں بھی اس ترکیب شیر مادر ہی کو استعمال کرتے رہتے ہیں، مگر کیا کیا جائے جب ماضی میں ایک جاہل مطلق کاتب نے رسالے کے ایڈیٹر کے لکھے ہوئے مضمون میں ہسپانوی مصور و سنگتراش پکاسو (Picasso) کے نام کو دوران کتابت, ایڈیٹر کی جانب سے ممکنہ طور پر نامکمل سمجھتے ہوئے اسے *پکا سور* کر دیا تھا اور اگلے روز رسالہ شائع ہو کر آگیا تو پکاسو کا نام ہر جگہ پکاسور،  پکاسور۔  بن چکا تھا۔ اسی طرح شیر مادر کی اہمیت سے آگاہی مہم کے دوران متعلقہ محکمے کے متعلقہ ذمہ داران نے شیر مادر کا آسان اردو ترجمہ کر کے اسے (مادر دودھ)  بنا کر وزیر موصوف کو چھٹی کا دودھ یاد دلا دیا ہے۔

 یہ تو نہیں معلوم کہ جس نابغہء روزگار ہستی نے صدیوں سے رائج ترکیب “شیر مادر”  کو قائد اعظم کے فرمان کے مطابق سلیس اردو میں ڈھالا یا پھر ویسے ہی تفنن طبع کے لیے اردو زبان کو خالص بنانے کے لیے نئی مہم شروع کر دی ہے اور اگر ایسا ہے تو آئندہ دیگر لاتعداد ایسے الفاظ، جن کا تعلق دنیا کی دیگر زبانوں کے ساتھ ہے اور اردو میں وہیں سے مستعار لے کر  زبان کی سچ دھج میں اضافہ کیا گیا ہے، انہیں بھی کل کلاں آسان اردو ۔یں ڈھالنے کی کوشش کی جاۓگی؟ ہمارے یار طرحدار اور کلاس فیلو، مقیم امریکہ،  خالد خواجہ نے کیا خوب کہا ہے کہ

 آپ بھٹکیں گے تو الزام ہمیں ہی دیں گے

 آپ کو راہ بتاتے ہوئے ڈر لگتا ہے

ہماری عادتیں بھی کچھ زیادہ اچھی نہیں ہیں، ادبی محفلوں میں بیٹھ کر ہم اکثر زبان و بیان کے حوالے سے اظہار خیال کرنے اور نوجوان پود کی زبان، املا اور فکر و فن پر بات کرنے سے باز نہیں آتے۔ اب ہم کوشش کرتے ہیں کہ نئی نسل کو زیادہ پریشان نہ کریں، مگر جب معاملہ سدھرنے کی بجائے، یہ عادتیں راسخ  ہو جائیں تو ہماری “رگ مداخلت”  بھی بالاآخر پھڑک ہی جاتی ہے۔  مثلاً  سرکاری اشتہارات میں ایک طویل عرصے سے ایک غلط لفظ اس قدر تسلسل کے ساتھ استعمال ہوتا آرہا  ہے,  جس پر ہم ماضی میں بھی اکثر اپنے کالموں میں توجہ دلاتے آرہےہیں مگرصورتحال،  عادت بد نہ رود تا لب گور،  والی ہو جائے تو ہم کو ہی ہار ماننا پڑ جاتی ہے اور وہ لفظ ہے اسامی یا اسامیاں،  جو اشتہارات میں عام طور پر آسامی یا آسامیاں، یعنی حرف الف پر مد لگا کر شائع کیا جاتا ہے۔ جب آپ الف  پر مد لگا کر اسے ( آ ) میں بدل لیتے ہیں, جس سے  آگے پورا لفظ آسامی یا آسامیاں بن جاتا ہے تو اس سے مراد ملک آسام کا باشندہ ہوتا ہے یعنی بقول علامہ راغب مراد آبادی

خدا کاتب کی سفاکی سے بھی محفوظ فرمائے

 اگر نقطہ اڑا دے نامزد نامرد  ہوجائے

دراصل سرکاری اشتہارات کے حوالے سے متعلقہ حکام کی عادتیں اس قدر راسخ ہو چکی ہیں کہ اب ان کو سنوارنا (شہزادی بکاؤلی)  کے تالاب سے گلاب اسود یعنی سیاہ گلاب توڑ کر لانے سے کم جان جوکھم کا کام نہیں،  کیونکہ وہاں ہر لمحے جنات کا پہرا رہتا ہے اور وہ درست لفظ کو “عمرو عیار”  کی (زنبیل)  میں منتقل کرنے والوں کی فکری، فنی اور ادبی وراثت،  کے لیے ہر قدم پر دام ہم رنگ بچھائے چوکس رہتے ہیں۔ یعنی ادھر کسی نے لفظ پر ہاتھ ڈالا ادھر بقول فیض

لکھتے رہے جنوں میں حکایات خونچکاں

 ہر چند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے

بات بہت اگے بڑھ چکی ہے اور اگر غور سے دیکھیں تو مختلف ٹی وی چینلز پر خبروں کی سرخیاں اور خاص طور پر سکرین پر چلنے والی ٹکرز میں اردو زبان کا جو حلیہ بگاڑا جاتا ہے، اسے دیکھ کر آٹھ آٹھ آنسو بہانے کو جی کرتا ہے۔ مگر کیا کیا جائے کہ نہ صرف خبروں کی سرخیاں جمانے والے سب ایڈیٹروں اور کمپوزروں کی مبلغ علمیت، اسی کاتب کی تقلید کرتی نظر آتی ہے،  جس نے ابتدا کرتے ہوئے پکاسو کے نام کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا تھا،  بلکہ انتہائی معذرت کے ساتھ اکثر چینلز پر براجمان سینیئر ایڈیٹرز کا بھی اردو املا سے کوئی تعلق واسطہ نظر نہیں آتا، جبکہ ٹاک شوز پر جن لوگوں کو مسلط کیا جاتا ہے ان کی گلابی اردو پر بھی حیرت کا اظہار کئے بنا نہیں رہا جا سکتا۔  بقول غالب

 بقدر شوق نہیں ظرف تنگنائے غزل

 کچھ اور چاہیئے وسعت مرے بیاں کے لیے

Loading