Daily Roshni News

کتاب ، روگ ۔۔۔ تبصرہ نگار ۔۔۔۔ رخسانہ سحر

روگ ایک خوبرو دوشیزہ کی درد بھری داستان

کتاب روگ
مصنف محمد یعقوب فردوسی امیربادشاہ

صنف۔ رودادِ حیات

تبصرہ نگار: رخسانہ سحر

ادب محض الفاظ کو قرطاس پر سجانے کا نام نہیں بلکہ ادب زندگی کے ان گوشوں کو آواز دینے کا فن بھی ہے جہاں اکثر خاموشی کا بسیرا ہوتا ہے۔ کچھ کہانیاں ایسی ہوتی ہیں جو پڑھی نہیں جاتیں بلکہ محسوس کی جاتی ہیں۔ کچھ کردار ایسے ہوتے ہیں جو کتاب کے صفحات سے نکل کر قاری کے دل میں اتر جاتے ہیں، اور کچھ داستانیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں لکھنے کے لیے صرف قلم نہیں بلکہ ایک زخمی دل بھی درکار ہوتا ہے۔
محمد یعقوب فردوسی امیربادشاہ کی کتاب ’’روگ‘‘ بھی ایسی ہی ایک درد انگیز، کرب ناک اور جھنجھوڑ دینے والی داستان ہے۔
یہ کتاب محض ایک عورت کی کہانی نہیں بلکہ وفا محبت صبر ظلم، بے بسی عورت کی عزت، خاندانی رویوں اور معاشرتی بے حسی کی ایسی روداد ہے جو قاری کو بار بار سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ آخر ایک عورت کو معاشرہ کس مقام تک لے جا سکتا ہے اور اس کے صبر کی آخری حد کہاں ختم ہوتی ہے۔
مصنف نے اس کتاب کو ’’رودادِ حیات ایک خوبرو دوشیزہ کی درد بھری داستان‘‘ قرار دیا ہے۔ مرکزی کردار ایک خوبصورت دوشیزہ ہے جو محبت کی خاطر اپنی زندگی کا رخ بدلتی ہے، ایک نئے مذہبی اور معاشرتی ماحول میں قدم رکھتی ہے، شادی کرتی ہے ماں بنتی ہے شوہر کی محبت پاتی ہے، مگر پھر حالات کا ایسا بھنور اس کے گرد بنتا ہے کہ اس کی پوری زندگی ایک مسلسل روگ بن جاتی ہے۔
محبت سے شروع ہونے والی داستان
’’روگ‘‘ کا مرکزی کردار ایک ایسی عورت ہے جس نے محبت کو اپنی زندگی کا مرکز بنایا۔ وہ اپنے خاندان اپنے ماضی اور اپنے ماحول سے نکل کر ایک مسلمان شخص چوہدری غلام یاسین، کے ساتھ زندگی کا سفر شروع کرتی ہے۔ مگر شادی کے بعد اسے جس ماحول کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہ اس کے خوابوں سے بالکل مختلف ہے۔
مصنف کے بیان کے مطابق سسرال اسے قبول نہیں کرتا۔ یہاں تک کہ اس کی اولاد کو بھی وہ پذیرائی نہیں ملتی جس کے وہ حق دار تھے۔ یہیں سے ایک ایسی داستان شروع ہوتی ہے جس میں ایک عورت کو اپنی محبت کے ساتھ ساتھ اپنی عزت، اپنے بچوں اور اپنی زندگی کے تحفظ کی جنگ بھی لڑنا پڑتی ہے۔
چوہدری غلام یاسین اپنی بیوی کا ساتھ دیتے ہیں اور اسے گاؤں کے ماحول سے نکال کر شہر لے آتے ہیں۔ وہاں وہ اپنے بچوں کے ساتھ زندگی کا ایک نیا باب شروع کرتی ہے۔ چار بیٹے اور ایک بیٹی اس کی گود میں آتے ہیں۔ بظاہر زندگی سنور جاتی ہے، مگر قسمت کو کچھ اور منظور ہوتا ہے۔
شوہر کی وفات اور آزمائش کا نیا دور
کہانی کا سب سے بڑا المیہ اس وقت سامنے آتا ہے جب چوہدری غلام یاسین دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ ایک عورت جو پہلے ہی سسرال کی سرد مہری اور تلخیوں کا سامنا کر رہی تھی اب پانچ بچوں کے ساتھ تنہا رہ جاتی ہے۔
یہاں مصنف نے عورت کی بے بسی کا وہ پہلو سامنے رکھا ہے جس پر ہمارے معاشرے میں بہت کم گفتگو ہوتی ہے۔
ایک بیوہ عورت صرف اپنے شوہر کو نہیں کھوتی بعض اوقات وہ شوہر کے ساتھ اپنا تحفظ اپنا سہارا اپنا سماجی مقام اور اپنے بچوں کے مستقبل کا اطمینان بھی کھو دیتی ہے۔
’’روگ‘‘ میں یہی مرحلہ مرکزی کردار کی زندگی کا سب سے کرب ناک باب بن کر سامنے آتا ہے۔
مصنف نے اس عورت پر ہونے والے مبینہ مظالم الزامات اور دباؤ کو مختلف ابواب میں بیان کیا ہے۔ ’’جرمِ وفا‘‘، ’’روگ‘‘، ’’حسرت‘‘، ’’ماتم‘‘، ’’گوہرِ نایاب‘‘، ’’نوحہ‘‘ اور ’’بولی‘‘ جیسے عنوانات دراصل اسی ایک زندگی کے مختلف دکھوں کی علامت بن جاتے ہیں۔
’’جرمِ وفا‘‘ وفا آخر جرم کیوں بن گئی؟
کتاب کا ایک انتہائی اثر انگیز حصہ ’’جرمِ وفا‘‘ ہے۔
یہاں سوال صرف یہ نہیں کہ ایک عورت پر ظلم کیوں ہوا، بلکہ سوال یہ بھی ہے کہ اس کی وفا اس کے لیے جرم کیوں بن گئی؟
وہ عورت اپنے شوہر سے وفادار رہی۔ اس نے اپنی زندگی اس کے نام کر دی۔ شوہر کی محبت کو اپنی سب سے بڑی دولت سمجھا۔ مگر شوہر کے جانے کے بعد اسی وفا کی سزا اسے معاشرے سے ملتی رہی۔
یہ عنوان پورے المیے کا استعارہ بن جاتا ہے:
وہ عورت بے وفا نہیں تھی، شاید اسی لیے سب سے زیادہ سزاوار ٹھہری۔
’’روگ‘‘ ایسا مرض جس کا علاج کسی حکیم کے پاس نہیں
کتاب کا مرکزی عنوان ’’روگ‘‘ اپنے اندر بہت گہری معنویت رکھتا ہے۔
یہ روگ جسم کا نہیں، روح کا روگ ہے۔
یہ وہ درد ہے جو انسان کے چہرے پر ہمیشہ دکھائی نہیں دیتا۔ یہ وہ زخم ہے جو بدن پر نہیں بلکہ یادوں، احساسات اور دل پر لگتا ہے۔ مصنف نے دکھایا ہے کہ مسلسل صدمات کس طرح ایک خوبصورت، زندہ دل عورت کو اندر سے توڑ دیتے ہیں۔
وہ عورت جو کبھی حسن کی دیوی تھی، وقت کے ساتھ خاموش ہوتی جاتی ہے۔ اس کے لبوں پر تالے پڑ جاتے ہیں۔ اس کی آنکھیں بولنے لگتی ہیں۔ اس کی خاموشی ایک پوری کتاب بن جاتی ہے۔
اور شاید یہی ’’روگ‘‘ کا سب سے بڑا استعارہ ہے:
ظلم سہتے سہتے انسان کبھی کبھی شکایت کرنا بھی چھوڑ دیتا ہے۔
’’حسرت‘‘ گلاب، قدموں کے نشان اور ایک بیوہ کی یاد
’’حسرت‘‘ کتاب کا نہایت جذباتی باب ہے۔ شوہر کے دنیا سے چلے جانے کے بعد مرکزی کردار اپنے ماضی کی یادوں میں زندہ رہتی ہے۔
فرش پر شوہر کے قدموں کے نشانات صحن میں لگے گلاب اور گزرے ہوئے دن یہ سب اس کے لیے یادوں کے چراغ بن جاتے ہیں۔
یہاں مصنف نے دکھایا ہے کہ بعض اوقات انسان کسی شخص کی موجودگی سے نہیں بلکہ اس کی چھوڑی ہوئی چیزوں سے محبت کرتا رہتا ہے۔
گلابوں کو دیکھ کر شوہر کو یاد کرنا آنکھوں میں آنسو آ جانا اور یہ کہنا کہ کاش وہ زندہ ہوتے یہ سب ایک بیوہ عورت کے اندر چھپی اس حسرت کو ظاہر کرتا ہے جس کا کوئی علاج نہیں۔
’’گوہرِ نایاب‘‘ ایک عورت کی قدر کب ہوئی؟
مصنف نے مرکزی کردار کو گوہرِ نایاب قرار دیا ہے۔
یہ استعارہ بہت خوبصورت بھی ہے اور المیہ بھی۔
وہ عورت جس کی آمد سے گھر آباد ہوا جس کے شوہر کی زندگی میں خوشیاں آئیں جس نے سات بچوں کو جنم دیا جس نے حالات کا مقابلہ کیا، جس نے گھر اور خاندان کے لیے اپنی خواہشات قربان کیں وہی عورت اپنی زندگی میں عزت اور سکون کی متلاشی رہی۔
مصنف کے نزدیک وہ ایک ایسا نایاب گوہر تھی جس کی قدر اس کے جیتے جی نہ ہو سکی۔
یہاں کتاب ایک بڑا معاشرتی سوال اٹھاتی ہے
ہم اپنے گھروں کی عورتوں کی قدر ان کی زندگی میں کیوں نہیں کرتے؟
’’نوحہ‘‘ ایک عورت کا نہیں، پورے معاشرے کا ماتم
’’نوحہ‘‘ شاید اس کتاب کے سب سے زیادہ دردناک عنوانات میں سے ایک ہے۔
یہ نوحہ صرف ایک ماں کا نہیں، ایک بیوی کا نہیں، ایک بیوہ کا نہیں بلکہ ان تمام عورتوں کا نوحہ ہے جو اپنی زندگی میں ظلم سہہ کر خاموش رہتی ہیں۔
مصنف اپنے بچپن، اپنی یادوں اور مرکزی کردار سے اپنے تعلق کو بھی اس حصے میں سامنے لاتے ہیں۔ یوں داستان ذاتی مشاہدے، یادداشت اور جذبات کا رنگ اختیار کر لیتی ہے۔
ایک ادیب کے لیے سب سے مشکل مرحلہ وہ ہوتا ہے جب اسے کسی اجنبی کا نہیں بلکہ اپنے کسی عزیز کا دکھ لکھنا پڑے۔
یہاں مصنف کا قلم صرف لکھتا نہیں کئی مقامات پر خود بھی رو پڑتا محسوس ہوتا ہے۔
’’بولی‘‘ عورت کیا ہے انسان یا بازار کی چیز؟
’’بولی‘‘ ایک علامتی اور منفرد باب ہے۔
اس میں عورت کے حسن کی بولی مختلف کرداروں کی زبان سے لگائی گئی ہے۔ ماں، شوہر، سسر، ساس، نند، جیٹھ، دیور اور بیٹی ہر کردار اپنے اپنے انداز میں اس عورت کی زندگی میں ایک قیمت مقرر کرتا ہے۔
یہ حصہ دراصل ہمارے معاشرے کے ان رویوں پر سوال اٹھاتا ہے جہاں عورت کو کبھی عزت کبھی ملکیت کبھی خواہش اور کبھی الزام کے ترازو میں تولا جاتا ہے۔
مگر اس پوری ’’بولی‘‘ کے درمیان مصنف کا کردار ایک مختلف آواز بن کر سامنے آتا ہے۔ وہ عورت کے حسن کی نہیں بلکہ اس کی عزت محبت قربانی اور انسانیت کی بولی لگاتا ہے۔
یہی اس باب کا اصل حسن ہے۔
مصنف کا قلم اور بیانیہ
محمد یعقوب فردوسی امیربادشاہ نے ’’روگ‘‘ میں روایتی افسانوی تکنیک کے بجائے یادداشت مشاہدے، روداد اور جذباتی بیانیے کو بنیاد بنایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کتاب میں واقعات محض قصے محسوس نہیں ہوتے بلکہ ایک شخص کے حافظے میں محفوظ پرانے زخموں کی طرح سامنے آتے ہیں۔
مصنف بار بار قاری کو مخاطب کرتے ہیں:
’’قارئین کرام۔۔۔‘‘
یہ انداز قاری کو کہانی سے باہر نہیں رہنے دیتا بلکہ اسے اس داستان کا ایک خاموش گواہ بنا دیتا ہے۔
کتاب کی زبان سادہ، رواں اور جذباتی ہے۔ مصنف نے مشکل ادبی الفاظ کے بجائے عام فہم زبان اختیار کی ہے تاکہ مرکزی کردار کا دکھ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے۔
’’روگ‘‘ کا اصل پیغام
میرے نزدیک ’’روگ‘‘ کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ قاری کے سامنے ایک سوال چھوڑ جاتی ہے
اگر کسی عورت کو مسلسل دکھ الزام تنہائی اور بے بسی میں دھکیل دیا جائے تو آخر وہ کہاں جائے؟
یہ کتاب ہمیں بتاتی ہے کہ ظلم صرف مارنے کا نام نہیں۔
کسی کو مسلسل طعنہ دینا بھی ظلم ہے۔
کسی کو تنہا چھوڑ دینا بھی ظلم ہے۔
کسی کی عزت پر الزام لگانا بھی ظلم ہے۔
کسی کے حق کو دبانا بھی ظلم ہے۔
اور کسی مظلوم کی خاموشی کو اس کی رضامندی سمجھ لینا بھی ظلم ہے۔
’’روگ‘‘ اس لحاظ سے صرف ایک کتاب نہیں بلکہ معاشرتی رویوں کے خلاف ایک ادبی احتجاج بھی ہے۔
محمد یعقوب فردوسی امیربادشاہ کی ’’روگ‘‘ ایک ایسی داستان ہے جس میں ایک عورت کی پوری زندگی کے دکھ، محبت وفا قربانی، تنہائی اور خاموش مزاحمت کو نو حصوں میں سمیٹنے کی کوشش کی گئی ہے۔
یہ کتاب ہمیں ایک ایسے کردار سے ملواتی ہے جو مصنف کے لیے صرف ایک عورت نہیں بلکہ ماں، محبت، یاد، وفا اور ایک ناقابلِ فراموش رشتہ ہے۔
وہ دنیا سے چلی گئی، مگر اس کی داستان باقی رہ گئی۔
شاید یہی ایک قلم کار کی سب سے بڑی ذمہ داری بھی ہے کہ جو آواز دنیا میں خاموش ہو جائے، اسے اپنے قلم سے دوبارہ زندہ کرے۔
’’روگ‘‘ دراصل ایک عورت کے دکھ کی داستان نہیں یہ اس معاشرے کے ضمیر کا نوحہ ہے جس میں ایک عورت ساری زندگی صبر کرتی رہی مگر اس کے حصے میں سکون بہت کم آیا۔
کتاب کا آخری تاثر یہی رہ جاتا ہے کہ کچھ لوگ دنیا سے چلے جاتے ہیں مگر اپنی کہانیاں ہمارے دلوں پر لکھ جاتے ہیں۔
اور کچھ کہانیاں ایسی ہوتی ہیں جنہیں لکھنے میں برسوں لگتے ہیں مگر پڑھنے کے بعد وہ عمر بھر دل میں رہتی ہیں۔
’’روگ‘‘ بھی ایسی ہی ایک داستان ہے۔
اللہ تعالیٰ اس داستان کے تمام مرحوم کرداروں کی مغفرت فرمائے ان کے درجات بلند فرمائے اور مصنف کو حق سچ اور مظلوم کی آواز اپنے قلم سے بلند کرنے کی مزید توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دعا گو۔رخسانہ سحر

Loading