Daily Roshni News

کیا اسلام نے سائنس کو روکا تھا؟۔۔۔ تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی

کیا اسلام نے سائنس کو روکا تھا؟ — اصل مسلم مصادر اور تاریخِ سائنس کیا بتاتی ہے؟

تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ کیا اسلام نے سائنس کو روکا تھا؟۔۔۔ تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی) آج کل سوشل میڈیا اور ٹی وی مباحثوں میں یہ بات فیشن کے طور پر کہی جاتی ہے کہ مسلمانوں نے ایک زمانے میں بڑی سائنسی ترقیاں کیں، مگر پھر اچانک مذہب کی سختی غالب آ گئی اور اسلام نے سوچنے سمجھنے پر پابندی لگا کر سائنسی ترقی کا راستہ ہی بند کر دیا۔ بعض لوگ اس پورے علمی زوال کا ملبہ امام غزالیؒ کے سر ڈال دیتے ہیں اور کچھ کا خیال ہے کہ اسلامی مدارس اور مذہبی سوچ بنیادی طور پر عقل اور سائنسی تجربات کی دشمن تھی۔

لیکن کسی بھی تاریخی حقیقت کو جانچنے کے لیے سنی سنائی باتوں یا مغرب کے متعصب لکھاریوں کے چند بیانات پر تکیہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس سنجیدہ سوال کا جواب جاننے کے لیے ہمیں قرآنِ مجید کے احکامات، خود مسلم فقہا اور سائنس دانوں کی اصل کتابیں، اور جدید دور کے غیر جانبدار مؤرخین کی تحقیقات کو سامنے رکھ کر ایک منصفانہ جائزہ لینا ہوگا۔

قرآنِ حکیم کا علم اور عقل کے بارے میں بنیادی نظریہ

قرآنِ کریم کوئی فزکس، کیمسٹری یا فلکیات کی روایتی درسی کتاب نہیں ہے، مگر یہ اپنے ماننے والوں کو کائنات کے مشاہدے اور عقل کے استعمال کی بھرپور ترغیب دیتا ہے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشادِ گرامی ہے:

﴿قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ﴾

ترجمہ: “کہہ دیجیے: کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہو سکتے ہیں؟”

حوالہ: سورۃ الزمر، آیت نمبر 9

ایک اور مقام پر عقل کے استعمال پر زور دیتے ہوئے ربِ کائنات نے فرمایا:

﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ﴾

ترجمہ: “بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کے باری باری بدلنے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔”

حوالہ: سورۃ آل عمران، آیت نمبر 190

یہ آیات کائنات کے سربستہ رازوں کو سمجھنے، تحقیق کرنے اور عقل کو بروئے کار لانے کی راہ ہموار کرتی ہیں۔ اسلام نے کبھی بھی فطرت کے مشاہدے اور تحقیق کو گناہ یا شیطانی کام قرار نہیں دیا، بلکہ اسے ایمان کو مضبوط کرنے کا ایک ذریعہ ٹھہرایا ہے۔

بغداد کا علمی انقلاب اور غیر مسلموں کا کردار

عباسی خلافت کے دور میں بغداد دنیا کا سب سے بڑا علمی اور تحقیقی مرکز بن کر ابھرا۔ اس دور میں یونانی، ایرانی، ہندی اور سریانی زبانوں میں موجود پرانے سائنسی علوم کو بڑی محنت کے ساتھ عربی زبان میں منتقل کیا گیا۔

یہاں یہ بات خاص طور پر یاد رکھنے کے لائق ہے کہ یہ عظیم کارنامہ صرف مسلمان محققین کا نہیں تھا، بلکہ اس میں عیسائی اور یہودی اہلِ علم بھی کندھے سے کندھا ملا کر شریک تھے۔ مثال کے طور پر اس دور کا سب سے بڑا مترجم حنین بن اسحاق ایک عیسائی عالم تھا، جسے مسلم حکمرانوں نے سونے کے وزن کے برابر انعامات دے کر نوازا۔ اس سے یہ سچائی واضح ہوتی ہے کہ اسلامی تہذیب نے علم کو کسی ایک مذہب یا نسل کی ملکیت نہیں سمجھا بلکہ اسے کھلے دل سے گلے لگایا۔

مسلمانوں نے پرانی کتابوں کا صرف رٹا نہیں لگایا بلکہ قدیم نظریات کی غلطیوں کو پکڑا اور اپنے نئے تجربات سے پرانی خامیوں کو درست کیا۔

الخوارزمی اور ابن الہیثم: تجرباتی سائنس کی بنیادیں

ریاضی کی تاریخ میں محمد بن موسیٰ الخوارزمی کا مقام سب سے نمایاں ہے، جنہوں نے حساب کے الجھے ہوئے مسائل کو سلجھانے کے لیے الجبرا (Algebra) کا باقاعدہ نظام متعارف کروایا۔ انہوں نے ہندوستانی اور یونانی اعداد کو ملا کر دنیا کو وہ ریاضی دی جس کے بغیر آج کا کمپیوٹر اور انٹرنیٹ بن ہی نہیں سکتا تھا۔

روشنی اور بصارت کے میدان میں ابن الہیثم نے وہ شاندار کام کیا جس نے دنیا کو دیکھنے کا زاویہ ہی بدل دیا۔ انہوں نے قدیم یونانی فلاسفروں کے اس نظریے کو مکمل جھٹلا دیا کہ آنکھ سے روشنی نکل کر اشیاء سے ٹکراتی ہے، اور تجربے سے ثابت کیا کہ روشنی باہر سے آنکھ کے پردے پر پڑتی ہے۔ ان کی کتاب المناظر نے جدید آپٹکس (Optics) کی بنیاد رکھی اور انہوں نے باقاعدہ لیبارٹری میں تجربات کر کے سائنسی طریقہ کار یعنی سائنٹفک میتھڈ کی داغ بیل ڈالی۔

اسی طرح تیرہویں صدی کے عظیم مسلمان طبیب ابن النفیس نے یونانی حکیم جالینوس کے اس نظریے کو چیلنج کیا کہ دل کی درمیانی دیوار میں سوراخ ہوتے ہیں۔ انہوں نے سینہ چیر کر مشاہدہ کیا اور دنیا میں پہلی بار پھیپھڑوں کے ذریعے خون کی گردش یعنی پلمونری سرکولیشن (Pulmonary Circulation) کو دریافت کیا، جس نے بعد میں جدید میڈیکل سائنس کی کایا پلٹ دی۔

کیا واقعی امام غزالیؒ نے سائنس پر پابندی لگائی تھی؟

تاریخ کے سب سے بڑے مغالطوں میں سے ایک یہ دعویٰ ہے کہ گیارہویں صدی میں امام ابو حامد غزالیؒ نے فلسفے اور سائنس کو کفر قرار دے کر مسلمانوں کی سوچ کو تالے لگا دیے۔ اگر ہم تعصب کا چشمہ اتار کر خود امام غزالیؒ کی اپنی کتابوں کا مطالعہ کریں تو یہ الزام بالکل بے بنیاد ثابت ہوتا ہے۔

امام غزالیؒ نے اپنی مشہور کتاب تہافت الفلاسفہ میں ان فلسفیانہ عقائد پر تنقید کی تھی جو خدا کے وجود اور موت کے بعد جی اٹھنے کا انکار کرتے تھے۔ انہوں نے ریاضی، جیومیٹری اور فلکیات کے سائنسی حساب کتاب کے بارے میں صاف لکھا کہ ان علوم کو مذہب کے خلاف سمجھنا ایک بڑی حماقت ہے، کیونکہ چاند گرہن یا سورج گرہن کا حساب لگانا خالص ریاضیاتی حقیقت ہے جس کا کفر اور ایمان سے کوئی جھگڑا نہیں۔

مزید یہ کہ انہوں نے اپنی معروف تصنیف احیاء علوم الدین میں طب اور ریاضی جیسے علوم کو مسلمانوں کے لیے فرضِ کفایہ قرار دیا، یعنی اگر مسلم معاشرے میں اچھے ڈاکٹر اور ریاضی دان موجود نہ ہوں تو پورا معاشرہ گناہ گار ٹھہرے گا۔

امام غزالیؒ کے بعد بھی سائنس کا سفر جاری رہا

اگر واقعی امام غزالیؒ کے فتوؤں کی وجہ سے اسلامی دنیا میں سائنس کی موت واقع ہو گئی تھی، تو ان کے انتقال کے بعد کی صدیوں میں فلکیات اور ریاضی کی تاریخ ساز ترقیاں کیسے ممکن ہوئیں؟

حقیقت یہ ہے کہ امام غزالیؒ کے بعد تیرہویں صدی میں مراغہ کی عظیم رصدگاہ قائم ہوئی، جہاں نصیر الدین طوسی نے سیاروں کی گردش کے وہ نئے ریاضیاتی ماڈل بنائے جنہیں صدیاں بعد یورپ کے سائنس دان کوپرنیکس نے بغیر حوالے کے اپنے نظریات میں استعمال کیا۔ پندرہویں صدی میں سمرقند کی رصدگاہ میں الغ بیگ نے ستاروں کے ایسے درست نقشے کھینچے جن کی مثال اس دور میں نہیں ملتی تھی۔ اس کے علاوہ عثمانی ترکوں کے دور میں بھی بڑے بڑے ہسپتال اور نقشہ نویسی کے ادارے کامیابی سے کام کرتے رہے۔

سن 1258 میں چنگیز خان کے پوتے ہلاکو خان نے بغداد کو جلا کر راکھ کر دیا اور لاکھوں کتابیں دریا میں بہا دیں، مگر اس قیامت خیز تباہی کے باوجود مسلمانوں کی سائنسی روح مری نہیں بلکہ سمرقند، دمشق، قاہرہ اور استنبول میں نئی صورتوں میں زندہ رہی۔

پھر مسلم دنیا میں علمی زوال کیوں آیا؟

یہ بات ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں یورپ صنعتی انقلاب اور جدید سائنسی ایجادات کی دوڑ میں بہت آگے نکل گیا جبکہ مسلم دنیا علمی اور سائنسی میدان میں پیچھے رہ گئی۔ لیکن اس زوال کا سبب اسلام بطورِ مذہب ہرگز نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے پیچیدہ سیاسی، معاشی اور معاشرتی اسباب کارفرما تھے۔

امریکہ کی دریافت کے بعد سمندری تجارتی راستے بدل گئے جس سے مسلم دنیا کی معیشت کمزور پڑ گئی، آپس کی خانہ جنگیوں اور بیرونی حملوں نے ریاستوں کو غیر مستحکم کر دیا، اور حکمرانوں نے فوجی فتوحات پر تو پیسہ لگایا مگر نئی یونیورسٹیوں، پرنٹنگ پریس اور تحقیقاتی لیبارٹریوں کی سرپرستی چھوڑ دی۔

جدید تاریخ دان جیسے جارج صلیبا اور احمد دلال نے اپنی تحقیقات میں یہ ثابت کیا ہے کہ سائنس اور مذہب کے درمیان تصادم کا نظریہ دراصل یورپ کا اپنا مسئلہ تھا جسے زبردستی اسلامی تاریخ پر تھوپنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

حاصلِ کلام

تاریخ کا غیر جانبدارانہ مطالعہ چیخ چیخ کر یہ بتا رہا ہے کہ اسلام نے کبھی بھی عقل، سائنس اور فطرت کے مشاہدے کا راستہ نہیں روکا۔ اگر اسلام سائنس کا دشمن ہوتا تو جس دور میں پورا یورپ جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں غرق تھا، اسی دور میں بغداد، قرطبہ اور قاہرہ کی دھرتی سے الخوارزمی، ابن الہیثم، البیرونی اور ابن سینا جیسے سائنسی افق کے درخشندہ ستارے کبھی جنم نہ لیتے۔

مسلمانوں کا سائنسی زوال مذہب کی پیروی کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ تحقیق سے دوری، معاشی کمزوری، سیاسی انتشار اور عقل و تدبر کو ترک کر دینے کی سزا تھی۔

آج اگر مسلم دنیا کو دوبارہ دنیا میں اپنی عزت اور وقار بحال کرنا ہے تو ہمیں ماضی کے کھوکھلے فخر اور فضول عذر تراشنے سے نکل کر اپنے اصل اسلامی ورثے کی طرف لوٹنا ہوگا، جہاں علم کی جستجو کو عبادت اور کائنات کے مشاہدے کو خالق کی پہچان کا بنیادی ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔

#اسلام_اور_سائنس #تاریخ_سائنس #مسلم_سائنسدان #اسلامی_تہذیب #علم_اور_عقل #طارق_اقبال_سوہدروی

حوالہ: القرآن الكريم، سورۃ الزمر، آیت نمبر 9

حوالہ: القرآن الكريم، سورۃ آل عمران، آیت نمبر 190

حوالہ: کتاب تہافت الفلاسفہ، امام ابو حامد محمد الغزالی

حوالہ: کتاب احیاء علوم الدین، امام ابو حامد محمد الغزالی

حوالہ: تاریخی تحقیق، اسلام سائنس اور تاریخ کا چیلنج، پروفیسر احمد دلال

حوالہ: تحقیقی کتاب، اسلامی سائنس اور یورپی نشاۃِ ثانیہ، ڈاکٹر جارج صلیبا

حوالہ: تاریخِ سائنس کیمبرج، اسلامی تہذیب میں قدرتی علوم، پروفیسر جمیل راگیپ

حوالہ: تاریخِ طب، ابن النفیس اور پھیپھڑوں میں خون کی گردش کی دریافت

Loading