کل جاوید غامدی صاحب کی پیدائش کا دن تھا ۔ اللہ انکو صحت و تندرستی عطا فرمائے ۔
غامدی صاحب قادیانی اور احمد شیخ کے ماننے والوں ، بلکہ ہر اس شخص جو خود کو مسلمان کہے اسکے پیچھے نماز کے جواز کے قائل ہیں اور انکی یہ رائے سامنے آنے پر ایک بار پھر تنقید کے نشانے پر ہیں ۔
اگرچہ روایتی مذہبی طبقے کی نظر میں وہ منکر حدیث ، فتنہ ، گمراہ ، ایجنٹ اور کافر تک ہیں ۔ لیکن انکے علمی دلائل ، انکا اخلاق اور طرز استدلال ایک خاص عوامی طبقے میں مقبول ہے ۔
میں غامدی صاحب کو گزشتہ پچیس سال سے پڑھ اور سن رہا ہوں۔ اس وقت سے جب نا وہ ٹی وی پر آتے تھے نا عوام انکو جانتے تھی۔ انکی کتب کا مطالعہ کیا ، انکے تفصیلی لیکچرر سنے اور ان سے بالمشافہ ملاقات بھی کی۔
میں ان سے اختلافات کے باوجود ، غامدی صاحب کو ایک بڑا عالم دین سمجھتا ہوں اور اردو جاننے سمجھنے والے دین کے طالب علموں کیلئے اللہ کی رحمت مانتا ہوں۔
البتہ جن باتوں پر غامدی صاحب کے خیالات سے کبھی بھی اتفاق نا ہوسکا ان میں ایک ان کا دین کا سیاسی نکتہ نظر ہے۔
اس میں انکی اتمام حجت کی تفہیم ، اسلام کے سیاسی اصولوں کی تشریح ، اسلامی قانون سیاست اور اسلامی سیاسی تاریخ کی تشریحات سب ہی شامل ہیں۔
اس میں ناصرف انکی فکر میں جھول نظر آیا بلکہ کئی مقامات پر تضادات بھی دکھے ۔
ایک چھوٹی سی مثال سے واضح کروں کہ ایک طرف انکا حکمرانی کیلئے شورائیت پر اصرار ہے ( جو بلکل درست ہے) لیکن دوسری جانب وہ یزید کی ولی عہدی کی بھی مکمل حمایت کرتے ہیں کہ اس وقت اقتدار کی منتقلی کا یہی سب سے بہتر راستہ تھا۔
یہی سیاسی فکر کا اثر ہے جو انکے ہاں حکمرانوں اور عالمی حالات کی تبدیلی کے ساتھ بدلتا ہوا نظر آتا ہے۔
ہمارے ہاں لوگ غلطی کرتے ہیں کہ مسئلہ تکفیر کو سیاسی زاویہ سے دیکھنے کے بجائے ، فقہ کے عمومی انداز سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
قادیانیوں کے معاملے میں بھی شروع سے اسی انداز میں انکی اپروچ رہی جس میں ریاست کے فیصلے ، اور قوانین اپنی سیاسی فکر کے تحت وہ بلکل نظر انداز کرتے ہیں ۔
اسی طرح کے تضادات دیگر سیاسی تشریحات ، اقامت دین ، مروجہ خلافت کے تصور ، جہاد وغیرہ سے متعلق بھی سامنے آتے ہیں۔ جن پر پھر ان شااللہ پھر کبھی بات کروں گا ۔
![]()

