Daily Roshni News

کوئی انسان برا پیدا نہیں ہوتا انتخاب ۔۔۔ میاں عاصم محمود

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ کوئی انسان برا پیدا نہیں ہوتا ۔۔۔ انتخاب ۔۔۔ میاں عاصم محمودایک سوال جو ہم اکثر سنتے ہیں: “یہ تو پیدائشی مجرم ہے۔” “یہ گھٹی میں پڑا ہے۔” “ایسے لوگ بدل نہیں سکتے۔”مگر کیا واقعی کوئی انسان “برا” پیدا ہوتا ہے؟ کیا کوئی بچہ اپنی پہلی سانس کے ساتھ ہی “مجرم” کا ٹھپہ لے کر آتا ہے؟

بیسویں صدی کے ایک بڑے فلسفی، ژاں پال سارتر، نے اِس پر ایک گہری بات کہی۔ اُس کا ایک مشہور جملہ تھا: “وجود، جوہر پر مقدم ہے۔”

یہ بھاری الفاظ ہیں، مگر اِن کا مطلب بہت سادہ اور بہت خوبصورت ہے۔

سارتر کہہ رہا تھا کہ انسان کسی طے شدہ “فطرت” کے ساتھ پیدا نہیں ہوتا۔ ایک کرسی کو دیکھیں — اُسے بنانے سے پہلے ہی طے تھا کہ یہ “بیٹھنے کی چیز” ہے۔ اُس کا مقصد، اُس کے وجود سے پہلے موجود تھا۔

مگر انسان ایسا نہیں۔ انسان پہلے وجود میں آتا ہے — خالی، آزاد، بغیر کسی طے شدہ لیبل کے۔ اور پھر، اپنی زندگی کے فیصلوں، اپنے حالات، اور اپنے تجربات سے، وہ خود کو بناتا ہے۔ کوئی “اچھا” یا “برا” پیدا نہیں ہوتا۔ وہ حالات، انتخاب، اور راستوں سے بنتا چلا جاتا ہے۔

اب یہ سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔ جب ہم کسی پر “پیدائشی مجرم” کا لیبل لگاتے ہیں، تو ہم دراصل اُس کی پوری کہانی کو مٹا دیتے ہیں۔

ہم یہ نہیں پوچھتے کہ وہ کن حالات میں پلا بڑھا۔ کس نے اُسے پہلی بار ٹھکرایا۔ کس بھوک، کس ناانصافی، کس تنہائی نے اُسے اِس راستے پر دھکیلا۔ ہم صرف اُس کے آخری قدم کو دیکھتے ہیں، اور اُس پورے سفر کو نظر انداز کر دیتے ہیں جو اُسے وہاں لے گیا۔

اور جب ہم کسی پر “برا” کا مستقل لیبل لگا دیتے ہیں، تو ہم اُس کی سب سے بنیادی انسانی طاقت کا انکار کرتے ہیں — بدلنے کی طاقت۔ کیونکہ اگر انسان اپنے فیصلوں سے بنتا ہے، تو وہ اپنے نئے فیصلوں سے دوبارہ بھی بن سکتا ہے۔

“پیدائشی برا” ایک زنجیر ہے۔ یہ اُس شخص کے پاؤں میں بھی، اور ہماری سوچ میں بھی۔ یہ کہتی ہے کہ “بدلنا ناممکن ہے، تو کوشش بے کار ہے۔”

مگر سچ یہ ہے کہ ہر انسان ایک نامکمل کہانی ہے۔ اُس کا آخری صفحہ ابھی لکھا نہیں گیا۔ اور جب ہم کسی کو “برا” کہہ کر بند کر دیتے ہیں، تو ہم اُس کی کہانی کا اگلا صفحہ لکھنے سے پہلے ہی پھاڑ دیتے ہیں۔

کیا میں نے کبھی کسی کو (یا خود کو) “ایسا ہی ہے، بدل نہیں سکتا” کہہ کر ہمیشہ کے لیے ایک خانے میں بند کر دیا؟

اگلی بار جب کوئی کہے “یہ تو ہے ہی ایسا”، تو ذہن میں ایک لفظ کا اضافہ کریں: “ابھی۔” “یہ ابھی ایسا ہے۔” یہ ایک چھوٹا لفظ، بند دروازے میں ایک دراڑ ڈال دیتا ہے — تبدیلی کے امکان کی دراڑ۔

نیچے بتائیے — کیا آپ نے کبھی کسی کو بدلتے دیکھا، جسے سب “ناقابلِ تبدیل” کہتے تھے؟ 👇

پروفیسر اسامہ رضا

Loading