گستاخ پر بجلی گر پڑی
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ایک شخص جو کفار عرب کے سرداروں میں سے تھا اس کے پاس حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے چند صحابہ کرام (علیہم الرضوان)کو تبلیغ اسلام کے لئے بھیجا۔ چنانچہ ان حضرات نے اس کے پاس پہنچ کر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام سنا کر اسلام کی دعوت دی تو اس گستاخ نے ازراہ ِ تمسخر کہا کہ اللہ کون ہے؟ کیسا ہے اور کہاں ہے؟ کیا وہ سونے کا ہے یا چاندی کا ہے یا تانبے کا؟ اس کا یہ متکبرانہ اور گستاخانہ جواب سن کر صحابہ کرام (علیہم الرضوان)کے رونگٹھے کھڑے ہو گئے اور ان حضرات نے بارگاہ ِ نبوت صلی اللہ علیہ وسلم میں واپس حاضر ہو کر سارا ماجرا سنایا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! اس شخص سے بڑھ کر کافر اور باری تعالیٰ کی شان میں گستاخی کرنے والا تو ہم لوگوں نے دیکھا ہی نہیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ تم لوگ دوبارہ اس کے پاس جاؤ۔
چنانچہ یہ حضرات دوبارہ اس کے پاس پہنچے، تو اس خبیث نے پہلے سے بھی زیادہ گستاخانہ الفاظ زبان سے نکالے۔ صحابہ کرام (علیہم الرضوان)اس کی گستاخیوں اور بدزبانیوں سے رنجیدہ ہو کر دربارِ نبوت میں واپس پلٹ آئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ ان صحابہ کرام (علیہم الرضوان)کو اس کے پاس بھیجا جہاں یہ لوگ پہنچ کر اس کو دعوتِ اسلام دینے لگے اور وہ گستاخ ان حضرات سے جھگڑا کرتے ہوئے بدزبانی اور گالی گلوچ پر اُتر آیا۔ صحابہ کرام (علیہم الرضوان) ارشاد نبوی کے مطابق صبر کرتے رہے ۔
اسی دوران میں لوگوں نے دیکھا کہ ناگہاں ایک بدلی آئی اور اس بدلی میں اچانک گرج اور چمک پیدا ہوئی۔ پھر ایک دم نہایت ہی مہیب گرج کے ساتھ اس کافر پر بجلی گری جس سے اس کی کھوپڑی اُڑ گئی اور وہ لمحہ بھر میں جل کر راکھ ہو گیا ۔یہ منظر دیکھ کر صحابہ کرام (علیہم الرضوان) بارگاہِ اقدس میں واپس آئے تو ان حضرات کو دیکھتے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ جس گستاخ کے یہاں گئے تھے وہ تو جل کر راکھ ہو گیا۔ صحابہ کرام نے انتہائی حیرت و تعجب سے عرض کیا کہ یا رسول ﷺ ! آپ کو کیسے اور کس طرح اس کی خبر ہوگئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابھی ابھی مجھ پر یہ آیت نازل ہوئی ہے۔
وَ یُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیۡبُ بِہَا مَنۡ یَّشَآءُ وَہُمْ یُجَادِلُوۡنَ فِی اللہِ ۚ وَ ہُوَ شَدِیۡدُ الْمِحَالِ ۔
ترجمہ :۔اور کڑک بھیجتا ہے تو اسے ڈالتا ہے جس پر چاہے اور وہ اللہ میں جھگڑتے ہوتے ہیں اوراس کی پکڑ سخت ہے۔(پ۱۳،الرعد:۱۳)
(تفسیر صاوی ، ج ۳ ، ص ۹۹۶۔۹۹۵ ،پ۱۳، الرعد: ۱۳)
درسِ ہدایت:۔ باری تعالیٰ کی شان میں اس طرح کی گستاخی کرنے والوں کو بارہا عذابِ الٰہی نے اپنی گرفت میں لے کر ہلاک کرڈالا لہٰذا ! اس اللہ عزوجل کی شان میں ہرگزہرگز کوئی ایسا لفظ زبان سے نہ نکالنا چاہے جو شانِ الوہیت میں بے ادبی قرار پائے۔ آج کل بہت سے لوگ بیماریوں اور مصیبتوں کے وقت خداوند تعالیٰ کی شان میں ناشکری کے الفاظ بول کر خداوند قدوس کی بے ادبی کربیٹھتے ہیں۔ جس سے ان کا ایمان بھی جاتا رہتا ہے اور وہ دنیا و آخرت میں عذاب کے حق دار بن جاتے ہیں۔
میں یہاں پر کچھ کفریہ کلمات اپنے دلچسپ معلومات پیج کے دوستوں کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ جو عام طور پر ہمارے مسلمان بھائی بہن بول ڈالتے ہیں۔جن سے ان کا ایمان ضائع ہوجاتا ہے اور ان کو خبر بھی نہیں ہوتی۔ اسی لئے علماء کرام فرماتے ہیں کہ فرائض علوم کو ضرور سیکھئے ۔
1۔ جیسے کوئی مصیبت کے وقت کہے۔” اللہ نے پتہ نہیں مصیبتوں کے لئے ہمارا گھر ہی دیکھ لیا ہے”
2۔ یا موت کے وقت کوئی کہہ دے۔”پتہ نہیں اللہ کو اس شخص کی بڑی ضرورت تھی جو اس کو اپنے پاس اتنی کم عمر میں بلا لیا”۔
3۔ یا کہا ۔ نیک لوگوں کو اللہ عَزَّوَجَلَّ جلدی اٹھا لیتا ہے کیوں کہ ایسوں کی اللہ عَزَّوَجَلَّ کو بھی ضَرورت پڑتی ہے
4۔ یااللہ ! تجھے بچّوں پر بھی ترس نہیں آیا۔
5۔ االلہ ! ہم نے تیرا کیابِگاڑا ہے! آخِر ملکُ الموت کوہمارے ہی گھر والوں کے پیچھے کیوں لگا دیا ہے
6۔ اچّھا ہے جہنَّم میں جائیں گے کہ فلمی اداکار ئیں بھی تو وہیں ہوں گی نہ مزہ آجائے گا۔
7۔ اکثر لوگ فیس بک پر اس طرح کے لطائف لکھ ڈالتے ہیں۔ یہ بھی کفر ہے۔ جیسے اگر تم لوگ جنّت میں چلے بھی گئے تو سگریٹ جلانے کیلئے تو ہمارے ہی پاس (یعنی دوزخ میں)آنا پڑے گا
8۔ آؤ ظہر کی نماز پڑھیں ، دوسرے نے مذاق میں جواب دیا :یا ر ! آج تو چُھٹّی کا دن ہے ، نَماز کی بھی چُھٹّی ہے ۔
9۔ کسی نے مذاق میں کہا:”بس جی چاہتا ہے یہودی یا عیسائی یا قادیانی بن جاؤں۔ ویزہ تو جلدی مل جاتا ہے نا۔
10۔ صبح صبح دعا مانگ لیا کرو اس وقت اللہ فارِغ ہوتا ہے
11۔ اتنی نیکیاں نہ کرو کہ خُدا کی جزا کم پڑجائے
12۔ خُدا نے تمہارے بال بڑی فرصت سے بنائے ہیں
13۔ زید نے کہا:یار!ہوسکتا ہے آج بارش ہوجائے۔ بکرنے کہا:”نہیں یار ! اللہ تو ہمیں بھول گیا ہے۔
14۔ کسی نے نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا مذاق اڑایا توکافر ہے۔
15۔ دنیا بنانے والے کیا تیرے من میں سمائی؟ تو نے کاہے کو دنیا بنائی؟ (گانا)
16۔ حسینوں کو آتے ہیں کیا کیا بہانے ۔ خدا بھی نہ جانے تو ہم کیسے جانے (گانا)
17۔ میری نگاہ میں کیا بن کے آپ رہتے ہیں ۔ قسم خدا کی ‘ خدا بن کے آپ رہتے ہیں ۔ (گانا) اس طرح کے بے شمار گانے جو ہمارے مسلما ن اکثر گنگناتے دیکھائی دیتے ہیں۔
18۔ نَماز کی دعوت دینے پر کسی نے کہا:”ہم نے کون سے گُناہ کئے ہیں جن کو بخْشوانے کیلئے نَماز پڑھیں۔
19۔ایک نے طبیعت پوچھی تو دوسرے نے مذاق کرتے ہوئے جواب دیا: نصْرمِّنَ اللہِ وَ ٹِّھیک ۔ کہہ دیا ۔کہنے والے پر حکم کفر ہے کہ آیت کو تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔
20۔ رَحمٰن کے گھر شیطان اور شیطان کے گھر رَحمٰن پیدا ہوتا ہے۔
21۔مسلمان بن کر امتحان میں پڑ گیا ہوں۔
وغیرہ وغیرہ۔۔ مزید تفصیل کےلئے “کفریہ کلمات ” نامی کتاب کا مطالعہ فائدہ مند رہے گا۔
رحمتِ عالم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ارشادِمُعظَّم ہے:”ان فِتنوں سے پہلے نیک اعمال کے سلسلے میں جلدی کرو !جو تاریک رات کے حِصّوں کی طرح ہوں گے، ایک آدَمی صُبح کو مومِن ہو گا اور شام کو کافِر ہوگااور شام کو مومِن ہوگااور صُبح کو کافِر ہوگا ۔ نیز اپنے دین کو دُنیاوی سازو سامان کے بدلے فروخت کر دے گا۔ ” (مُسلِم حدیث118ص73)
(توبہ نعوذباللہ منہ)
![]()

