۔1595ء کے جنوری میں استنبول کے توپ کاپی محل میں ایک نئی حکمرانی کا آغاز ہوا — اور اسی ہفتے، اس نئے سلطان کے حکم پر اس کے اپنے 19 بھائی قتل کر دیے گئے۔
یہ سلطان محمد ثالث تھا، جو اپنے والد مراد ثالث کی وفات کے بعد 16 جنوری 1595ء کو تخت نشین ہوا۔ عثمانی سلطنت میں جانشینی کا کوئی مقررہ اصول نہیں تھا کہ بڑا بیٹا ہی وارث ہوگا — ہر شہزادہ نظری طور پر تخت کا حق دار سمجھا جاتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ماضی میں، خصوصاً سلطان محمد ثانی سے پہلے، جانشینی کی کشمکش کئی بار برسوں پر محیط خانہ جنگیوں میں بدل چکی تھی۔ اسی تجربے کے بعد محمد ثانی نے ایک قانون رائج کیا: نیا سلطان اپنے بھائیوں کو قتل کر سکتا ہے، تاکہ سلطنت خانہ جنگی سے بچ جائے۔
محمد ثالث نے تخت سنبھالنے کے چند دن بعد اپنے تمام بھائیوں اور سوتیلے بھائیوں کو ایک ختنے کی تقریب کے بہانے محل میں بلایا اور انہیں یقین دلایا کہ وہ محفوظ ہیں۔ اس کے بعد، ایک ہی رات میں، گونگے بہرے خادموں کے ذریعے — تاکہ کوئی راز افشا نہ کر سکے — انیس شہزادوں کو کمانی کی ڈوری سے گلا گھونٹ کر قتل کر دیا گیا، کیونکہ شاہی روایت کے مطابق خون بہانا ممنوع تھا۔ ان میں سے اکثر کم عمر بچے تھے۔ روایات کے مطابق، اسی موقع پر مراد ثالث کی کئی حاملہ باندیوں کو بھی محل سے نکال دیا گیا تاکہ کوئی نیا ممکنہ دعوے دار پیدا نہ ہو۔
یہ اُس دور کا سب سے بڑا واحد رات میں ہونے والا شاہی قتلِ عام تھا — اتنا بڑا کہ عام لوگوں میں بھی خوف و ہراس پھیل گیا۔
اب سوال یہ ہے: ایسا کیوں کیا گیا؟ عثمانی سیاسی سوچ میں یہ اصول کارفرما تھا کہ ایک وقت میں صرف ایک سلطان کی مکمل اطاعت ہی سلطنت کو داخلی خانہ جنگی سے بچا سکتی ہے۔ ممکنہ حریف شہزادوں کا زندہ رہنا، چاہے وہ خود بغاوت نہ بھی کریں، سازشوں اور دھڑے بندی کا دروازہ کھلا رکھتا تھا۔
اور اگر یہ قانون نہ ہوتا؟ تاریخ خود جواب دیتی ہے — محمد ثانی سے پہلے کے دور میں جانشینی کی جنگیں برسوں چلتی رہیں، جن میں ہزاروں فوجی اور عام شہری مارے گئے۔ فرات ریسائیڈ کی پالیسی کو اسی طویل خانہ جنگی کا “حل” سمجھا گیا — ایک ہی رات کا سانحہ، برسوں کی جنگ کے مقابلے میں۔
لیکن اس پالیسی کی قیمت بھی بھاری تھی، اور خود سلطنت کے اندر اس پر سوالات اٹھے۔ محمد ثالث کے بعد آنے والے سلطان احمد اول نے یہ روایت توڑ دی — اس نے اپنے بھائیوں کو قتل کرنے کے بجائے انہیں محل کے ایک مخصوص حصے (“قفس” یا Cage) میں نظر بند رکھنے کا نظام رائج کیا۔ یوں جانشینی کا طریقہ خون سے قید کی طرف منتقل ہوا۔
یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سلطنتیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں بنتیں یا بگڑتیں — بلکہ اقتدار کی منتقلی کے اصولوں میں بھی ان کی پوری تاریخ چھپی ہوتی ہے
ایسی مزید تاریخی واقعات کے لیے تاریخی بکس وزٹ کریں
#تاریخی_بکس #تاریخی #سلطنت #عتیق_المنظور
#ottomanempire #tareekheislam
![]()

