Daily Roshni News

موت کی ضیافت۔۔۔ تحریر ۔۔۔  قدرت جوت۔۔۔قسط نمبر5

موت کی ضیافت

تحریر ۔۔۔۔۔۔۔  قدرت جوت

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ موت کی ضیافت۔۔۔ تحریر ۔۔۔  قدرت جوت) اب کیا ہو سکتا ہے۔ اتنی سردی میں اب مجھ سے گھر اور واپس نہیں آیا جاتا۔ آپ ان چیزوں کو ہمارے حساب میں لکھ دیجیے۔ کل میں جب اس طرف آؤں گا تو آپ کے پیسے لیتا آؤں گا ۔

بودس نبھی ایک کا ئیاں تھا۔ وہ غریب اور مجبور لوگوں کی ایسی چالاکیوں سے خوب واقف تھا۔ اس نے عینک کے شیشوں میں سے گھورتے ہوئے جواب دیا۔ تم اتنے کمزور ہو گئے ہو مگر جن کے گھروں میں پیسے ہوں وہ تو کم زور نہیں ہوتے “ یہ کہتے ہوئے اس نے تینوں چیزیں ایک جانب رکھ دیں اور کہا ”جاؤ، پہلے پیسے لے آؤ، پھر تمہیں سودا مل جائے گا“۔

لڑکے نے کہا اچھا جناب ! اپنا جھوٹ پکڑا جانے پر اس کا چہرہ شرمندگی سے اور بجھ گیا“ میں ابھی آیا یہ کہہ کر وہ تیزی سے باہر نکل گیا۔ اس کے جانے کے بعد بودس آغا اپنی بیوی کی جانب مڑا جو دکان میں اس کی اعانت کرتی تھی اور کہا ” بیچارے…. میں ان کے لیے اپنے دل میں دکھ محسوس کرتا ہوں اور سوچتا ہوں کہ اب وہ کس طرح زندگی گزاریں گے

ہاں ۔ مجھے بھی بے حد افسوس ہے…..

بیچارے“ اس کی بیوی نے جواب دیا۔

لڑکا اب سردی سے کپکپا رہا تھا۔ گرم دکان سے نکلنے ہی منجمد کر دینے والی سرد ہوائیں اس کے پرانے کوٹ میں سے نکلتی ہوئی اس کے نحیف و نزار جسم کو چھورہی تھیں۔ جب وہ گلی میں داخل ہوا تو اس نے ”سفید حویلی“ کی چمنی میں سے

دھواں اٹھتا ہوا دیکھا اور سوچنے لگا ”کتنے خوش نصیب ہیں وہ لوگ !“ مگر اس کے دل میں سفید حویلی والوں کے لیے حسد کا کوئی جذبہ نہ ابھر ابلکہ وہ ان کے لیے بہت اچھے اور نیک جذبات رکھتا تھا۔ کیونکہ انہی لوگوں نے ان کے گھر زندگی کا سب سے لذیذ اور نفیس کھانا بھیجوایا تھا۔

نقاہت اور شدید کپکپاہٹ کے باوجود وہ ممکن حد تک تیز چلتا ہوا اپنے گھر تک پہنچا۔ کمرے میں داخل ہونے کے بعد اس نے اپنے منہ سے کچھ نہ کہا۔ اس کے خالی ہاتھ خود بخود اس کی زبان بن چکے تھے۔

اس سے قبل کہ ماں اور چھوٹے بھائی کی سوالیہ نگا ہیں اس کا پیچھا کریں اس نے تیزی سے اپنا پر انا کوٹ اور پھٹے بوٹ اتارے اور بستر میں کھس گیا جو ابھی تک پوری طرح سرد نہ ہوا تھا۔ اور پھر جب وہ بولا تو اس نے کہا ” مجھے سردی لگ رہی ہے، میں مر رہا ہوں“۔

گلناز نے تشویش بھری نظروں سے اسے دیکھا اور پھر اسے گھر میں جو بھی کپڑا ملا لڑکے کے اوپر ڈالتی چلی گئی۔ لڑکا اب بری طرح کانپ رہا تھا اور اس کی کپکپاہٹ سے اس پر رکھے ہوئے کپڑوں کی موٹی تہہ بھی کانپ رہی تھی۔

یہ کیفیت کوئی ڈیڑھ گھنٹے تک برقرار رہی۔ پھر اسے شدید بخار نے آلیا۔ لڑکا پشت کے بل بے حس و حرکت لیٹا ہوا تھا اور اس کی آنکھیں خلا میں گھور رہی تھیں۔

گلناز نے اس کے چہرے سے کپڑے ہٹائے اور اپنے برف جیسے ٹھنڈے ہاتھوں سے اس کی جلتی ہوئی پیشانی کو معمول کی حالت پر لانے کی کوشش میں مصروف ہو گئی۔

گلناز الجھن اور پریشانی کے عالم میں شام تک گھر میں ادھر ادھر شبلتی رہی۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ اسے کیا کرنا چاہیے۔ اس کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مفلوج ہو گئی تھی۔ وہ سخت پریشانی میں کمرے اور پھر کمرے سے باہر شہلتی رہی اور خالی خالی نظروں سے دیواروں چھت اور گھر کے سامان کو دیکھتی رہی۔ پھر اسے یوں محسوس ہوا جیسے اس کی بھوک اڑ چکی ہے۔ شاید انتباء کی سردی نے اس پر بے حسی طاری کر دی تھی اور اس کے اعصاب

شل ہو چکے تھے۔

سورج کو غروب ہوئے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی۔ لڑکے کے اوپر سے اس نے تمام کپڑے اور کمیل اتار کر فرش پر ڈھیر کر رکھے تھے۔ ان پر نگاہیں جماتے ہوئے اچانک گلناز کو ایک خیال آیا ” کیا کپڑوں کے اس ڈھیر کے بدلے میں تھوڑی سی رقم نہیں مل سکتی ۔

اس کو یاد آیا کہ ایک بار اس کی ہمسائی نے بڑے بازار میں ایک ایسی دکان کے بارے میں بتایا تھا جہاں ہر قسم کی پرانی چیزیں بیچی جاسکتی ہیں مگر اب تو وہ دکان بھی بند ہو چکی ہو گی۔ اب اس کام کے لیے اسے صبح کا انتظار کرنا ہو گا۔

ایک حل کی بازیافت سے اس کے ذہن کو کچھ اطمینان ملا۔ اس نے ٹہلنا چھوڑ دیا اور اپنے بیٹے کے سرہانے بیٹھ گئی۔ لڑکے کا بخار اور زیادہ تیز ہو چکا تھا۔ وہ بے حس و حرکت اس کے قریب بیٹھی رہی۔ چھوٹا لڑ کا بھی بھوک کے مارے سونے میں ناکام رہا تھا اور کھلی آنکھوں سے کھانے کا منتظر تھا۔ بیمار لڑکا کر اہا۔ اس نے بے چینی اور وحشت سے کروٹیں بدلیں۔ اس کے رخسار بخار کی حدت سے جل رہے تھے۔ وہ غشی کے عالم میں ہذیان بکنے لگا تھا۔ اس کی آنکھیں چھت کے ایک حصے پر جم گئی تھیں مگر وہ کچھ بھی دیکھنے سے قاصر تھیں۔ بڑی بڑی کھلی اور پتھرائی ہوئی آنکھیں۔ چھوٹا بھائی اپنے بستر سے اس کی یہ حالت دیکھ رہا تھا۔ جب بیمار لڑکا دوبارہ غشی کے عالم میں ہذیاب بکنے لگا تو اچانک چھوٹا بھائی اپنے بستر پر اٹھ کر بیٹھ گیا اور اس نے بڑی ید هم آواز میں کہا جو صرف اس کی ماں ہی کی سن سکتی تھی۔

”ماں …. کیا میر ابھائی مر جائے گا؟“ وه الرز کر رہ گئی جیسے یخ بستہ ہوا اس کے جسم سے یکدم چھو گئی ہو۔ اس نے سہمی سہمی نظروں سے اپنے بیٹے کو دیکھتے ہوئے کہا “مگر تم نے یہ بات تے ہوئے کیا مگر تم۔ کیوں پوچھی ؟

چھوٹے بھائی نے ایک منٹ تک کوئی جواب نہ دیا اور اپنی ماں کی سہمی ہوئی آنکھوں میں جھانکتا رہا۔ پھر وہ آہستگی سے رینگتا ہوا اپنی ماں کے قریب پہنچا۔ اس نے اپنا منہ ماں کے کان سے لگادیا اور اس بات کی انتہائی کوشش کرتے ہوئے کہ اس کی آواز اس کا بڑا بھائی نہ سن سکے، اپنی ماں سے کہا: اس کے مرنے کے بعد سفید حویلی سے کھانا آئے گا !!

بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ فروری 2026

Loading