Daily Roshni News

🌿 ماں کی دعا کا صلہ 🌿

🌿 ماں کی دعا کا صلہ 🌿

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )اکرم صاحب نے پوری زندگی سبزی منڈی میں محنت مزدوری کی۔ دن رات کی مشقت سے اپنے چاروں بیٹوں کی بہترین تعلیم و تربیت کی اور انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا کیا۔ مگر پھر بیماری نے انہیں آ لیا۔ علاج پر بہت سا پیسہ خرچ ہوا، لیکن زندگی نے وفا نہ کی، اور وہ اپنی اہلیہ فہمیدہ بیگم کو چار بیٹوں کے سہارے چھوڑ کر دنیا سے رخصت ہو گئے۔

ابتدا میں سب بیٹوں نے اپنی والدہ کا بہت خیال رکھا، مگر وقت گزرتے ہی وہ آہستہ آہستہ اپنے فرض سے غافل ہونے لگے۔

ایک دن بڑی بہو نے سب کے سامنے کہا:

“امی کو ہر بیٹے کے پاس ایک ایک مہینہ رہنا چاہیے تاکہ کسی ایک پر بوجھ نہ بنیں۔”

یہ جملہ سن کر فہمیدہ بیگم کا دل ٹوٹ گیا۔

وہ ماں، جس کی دعا جنت کی خوشخبری ہے، آج اپنے ہی بچوں کے لیے بوجھ بن چکی تھی۔

چاروں بھائیوں میں سب سے چھوٹا اصغر مالی لحاظ سے سب سے کمزور تھا، مگر ماں کی عظمت کو سب سے زیادہ سمجھتا تھا۔

جب اسے یہ سب معلوم ہوا تو اس کا دل بھر آیا۔

اسی دوران والدہ کے علاج پر چالیس ہزار روپے خرچ ہونے کا حساب لگایا گیا اور فیصلہ ہوا کہ ہر بھائی دس ہزار روپے دے گا۔

اصغر اس دن اپنی جیب میں پچاس ہزار روپے لے کر آیا تھا۔ یہ رقم اس نے دوست سے ادھار لی تھی تاکہ منڈی میں والد کی جگہ اپنا کام شروع کر سکے۔

مگر جب اس نے اپنی ماں کی بے بسی دیکھی تو اس نے ایک ایسا فیصلہ کیا جس نے اس کی پوری زندگی بدل دی۔

وہ سب کے سامنے کھڑا ہوا اور بولا:

“بیماری تو پھر بھی آ سکتی ہے، لیکن اس مسئلے کا مستقل حل ہونا چاہیے۔ آج کے بعد امی میرے ساتھ رہیں گی۔ ان کی ہر بیماری، ہر تکلیف اور ہر خوشی میری ذمہ داری ہوگی۔ میں کسی سے ایک روپیہ بھی نہیں مانگوں گا۔ اگر آپ سب کو منظور ہے تو امی ابھی میرے ساتھ چلیں گی۔”

پورے کمرے میں خاموشی چھا گئی۔

اصغر نے جیب سے رقم نکالی، دس ہزار روپے الگ رکھے اور باقی چالیس ہزار میز پر رکھتے ہوئے کہا:

“یہ امی کے علاج کا خرچ ہے… اب ان کا سامان باندھ دیں۔”

وہ اس دن کاروبار کے لیے سرمایہ لے کر نکلا تھا، مگر اللہ نے اس سے اس کی آخرت کا سودا کروا لیا۔

جب اصغر اپنی والدہ کو گھر لے کر آیا تو اس کی بیوی ناراض ہوگئی اور بچوں سمیت میکے چلی گئی۔

اصغر کے حالات بھی اچھے نہیں تھے، لیکن اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ ماں کی خاطر ہر مشکل برداشت کرے گا۔

وہ روز منڈی میں محنت کرتا، تھوڑا کماتا، تھوڑا بچاتا، اور ماں کی خدمت کرتا۔

ماں ہر نماز میں اپنے بیٹے کے لیے دعائیں کرتی رہتی۔

ادھر کئی لوگوں نے اسے سمجھایا کہ ماں چاروں بھائیوں کی ذمہ داری ہے، لیکن اصغر نے اپنا فیصلہ نہ بدلا۔

وقت گزرتا گیا…

دوسری طرف اس کے بھائی مختلف پریشانیوں، بیماریوں اور گھریلو مسائل میں الجھتے چلے گئے۔

اور ادھر اصغر کی زندگی بدلنے لگی۔

اس نے آہستہ آہستہ سرمایہ جمع کیا، منڈی میں اپنے والد کی جگہ حاصل کی اور اپنا کاروبار شروع کر دیا۔

جہاں دوسرے دکاندار گاہک بلانے کے لیے آوازیں لگاتے تھے، وہاں اصغر خاموش بیٹھا رہتا، لیکن اس کی دکان پر سب سے زیادہ رش ہوتا۔

یہ اس کی محنت کے ساتھ ساتھ ایک ماں کی دعاؤں کی برکت بھی تھی۔

دیکھتے ہی دیکھتے وہ منڈی کا کامیاب تاجر بن گیا۔

رزق میں ایسی برکت ہوئی کہ اس کے تینوں بھائی مل کر بھی اتنا نہ کما سکتے تھے۔

پھر اس کی بیوی بھی اپنی غلطی کا احساس کرتے ہوئے واپس آگئی، ساس سے معافی مانگی اور دل سے ان کی خدمت کرنے لگی۔

اصغر نہ صرف خوشحال ہوا بلکہ اللہ نے اس کے دل میں سخاوت بھی ڈال دی۔

وہ لوگوں کی مدد کرتا، کھلے دل سے خرچ کرتا، مگر اس کے رزق میں کبھی کمی نہ آتی۔

پھر ایک دن فہمیدہ بیگم بیمار ہو گئیں۔

دو بیٹے شہر سے باہر تھے اور ایک ملک سے باہر۔

چند دن بعد وہ اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملیں۔

جب تمام بھائی اکٹھے ہوئے تو اصغر نے تین لفافے نکال کر ان کے سامنے رکھ دیے۔

لفافے کھولے گئے تو وہ نوٹوں سے بھرے ہوئے تھے۔

بڑے بھائی نے حیرت سے پوچھا:

“یہ کیا ہے؟”

اصغر نے آبدیدہ آنکھوں سے جواب دیا:

“یہ وہ رقم ہے جو میں وقتاً فوقتاً امی کو دیتا رہتا تھا۔ انہوں نے اسے کبھی اپنے لیے خرچ نہیں کیا۔ چونکہ یہ ان کی ملکیت تھی، اس لیے ان کے انتقال کے بعد یہ آپ سب کا حق بنتا ہے۔”

پھر کچھ لمحے خاموش رہ کر اس نے کہا:

“شاید امی آپ سے بظاہر ناراض تھیں، لیکن انہوں نے کبھی آپ کے لیے بددعا نہیں کی۔ بس دعا کرتا ہوں کہ آپ کی اولاد آپ کے ساتھ وہ سلوک نہ کرے جو آپ نے اپنی ماں کے ساتھ کیا۔”

یہ الفاظ تیر بن کر سب کے دلوں میں اتر گئے۔

سب کی گردنیں جھکی ہوئی تھیں۔

اس دن سب کو احساس ہوا کہ اصغر نے ماں کی محبت میں جو سودا کیا تھا، وہ دنیا کا سب سے نفع بخش سودا تھا۔

اور باقی سب خسارے میں رہ گئے۔

🌿 سبق:

ماں کبھی بوجھ نہیں ہوتی، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی ایسی نعمت ہے جس کی خدمت انسان کے رزق میں برکت، زندگی میں سکون اور آخرت میں کامیابی کا ذریعہ بنتی ہے۔

جو لوگ اپنے والدین کی عزت کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کی زندگی میں ایسی برکت عطا فرماتا ہے جس کا اندازہ صرف وہی لگا سکتے ہیں جنہیں والدین کی دعائیں نصیب ہوں۔

Loading