Daily Roshni News

ہم کون سی مٹی سے بنے ہیں۔۔۔؟۔۔۔تحریر: اسٹرائیکر راجپوت

ہم کون سی مٹی سے بنے ہیں۔۔۔؟

زمین کی مٹی یا کائنات کا ڈارک میٹر؟

کیا ہم زمین کے سب سے بڑے ایلینز ہیں؟

تحریر: اسٹرائیکر راجپوت

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ تحریر۔۔۔ اسٹرائیکر راجپوت)سال 2023امریکہ میں ناسا (NASA) کے گوڈارڈ اسپیس فلائٹ سینٹر میں دنیا کے ٹاپ ایسٹرو فزسسٹس اور ایسٹرو بائیولوجسٹس کی ایک ہنگامی میٹنگ چل رہی ہے۔ 10 ارب ڈالر (کھربوں روپے) کی لاگت سے خلا میں بھیجے گئے جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے ڈیپ اسپیس سے کچھ ایسا ڈیٹا بھیجا ہے جس نے سائنسدانوں کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ پروجیکٹ کا نام ہے “Cosmic Origins”

 سائنسدانوں نے ستاروں کی پیدائش کی جگہ (Orion Nebula) اور بلیک ہولز کے قریب ایک خاص قسم کی ڈارک کاسمک ڈسٹ یا مالیکیولر کیچڑ دریافت کی ہے جس میں کاربن، پانی اور زندگی بنانے والے وہ تمام پیچیدہ آرگینک کمپاؤنڈز (PAHs) موجود ہیں جو انسانی ڈی این اے میں پائے جاتے ہیں۔

آج کی ایڈوانسڈ سائنس ایک تھیوری پیش کر رہی ہے جسے پین اسپرمیا کہا جاتا ہے۔ اس تھیوری کے مطابق زمین پر زندگی خود بخود نہیں بنی، بلکہ زندگی کے بنیادی اجزاء (Building Blocks) خلا کی تاریکیوں سے، کسی اور ڈائمینشن سے زمین پر ڈراپ کیے گئے ہیں

لیکن حیرانگی کی بات یہ ہے کہ آج سے 1400 سال پہلے، قرآن اور احادیث نے نہ صرف یہ ثابت کر دیا تھا کہ ہم زمین کی پیداوار نہیں ہیں، بلکہ ہم اس کرہ ارض پر رہنے والے سب سے بڑے Aliens ہیں۔۔

آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ ہم ایلین کیسے ہیں۔۔؟

ہم سمجھتے تھے کہ بابا آدم علیہ السلام کو اسی زمین کی کسی کیاری سے مٹی اٹھا کر بنا دیا گیا۔ جیسا کہ اکثر صوفیاء اور بزرگوں نے بیان بھی کیا اور ہم ہی میں سے اکثر ان کی اندھی تقلید بھی کرتے ہیں۔ ایسے ہی ہے نا۔۔ کیوں ہم نے کبھی تحقیق کی کوشش ہی نہیں کی۔۔

لیکن قرآن اس تخلیق کو بہت بہت گہرائی میں جا کر بیان کرتا ہے۔

ذرا اس بات پر غور کریں کہ حضرت آدمؑ کی تخلیق زمین پر ہوئی ہی نہیں تھی ان کی تخلیق اور ان کی پروگرامنگ زمین کی حدود سے باہر، ایک دوسری ڈائمینشن یعنی جنت میں ہوئی تھی۔ ہم تو اس زمین پر بھیجے گئے ہیں۔

 بائیولوجیکلی اور ٹیکنیکلی، ایک ایسی مخلوق جس کا اوریجن (Origin) زمین کے کرہِ فضائی سے باہر کا ہو، اسے سائنس ایلین ہی کہتی ہے

آپ سوچیں گے کہ قرآن میں تو انسان کو مٹی سے بنانے کا ذکر ہے۔ بالکل! لیکن قرآن نے یہ کب کہا کہ وہ مٹی صرف اسی زمین کی تھی؟ اللہ تعالیٰ قرآن میں اس مٹی کی کیمیکل کمپوزیشن کچھ یوں بتاتا ہے

وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَإٍ مَّسْنُونٍ

(اور یقیناً ہم نے انسان کو بجتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا، جو سڑے ہوئے سیاہ گارے سے بنی تھی۔)

(القرآن، سورۃ الحجر: 26)

یہ “حَمَإٍ مَّسْنُونٍ” (سیاہ، بدبودار، الٹرڈ مٹی) کیا ہے؟

آج کی ماڈرن کاسمولوجی بتاتی ہے کہ کائنات کا زیادہ تر حصہ ڈارک میٹر اور کاسمک ڈسٹ پر مشتمل ہے۔

کیا یہ وہی مٹی نہیں جس سے انسان کی بیس لائن کوڈنگ ہوئی،  کائنات کے ہائی انرجی ریجنز میں تیار کی گئی ایک خاص کاسمک کلے (Cosmic Clay)۔۔۔

“اب ذرا رکیں اور اس سیاہ گارے (حَمَإٍ مَّسْنُونٍ) کے کانسیپٹ کو ایک اور زاویے سے دیکھیں۔ ذوالقرنین کے واقعے میں اللہ فرماتا ہے کہ انہوں نے سورج کو ایک خاص مقام پر ڈوبتے دیکھا

“حَتَّىٰ إِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِي عَيْنٍ حَمِئَةٍ”

(یہاں تک کہ جب وہ سورج ڈوبنے کی جگہ پہنچا تو اسے ایک سیاہ کیچڑ والے چشمے (عين حمئة) میں ڈوبتا محسوس کیا۔)۔

ماڈرن سائنس یہ ثابت کر چکی ہے کہ زمین پر سورج غروب نہیں ہوتا۔۔ تو سوال یہ ہے کہ ذوالقرنین کہاں تھے۔۔

اس کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔۔

عربی میں “عین” چشمے کو بھی کہتے ہیں اور آنکھ (Eye) کو بھی! اور “حمئہ” کا مطلب ہے انتہائی گرم، سیاہ کیچڑ۔

آج کی ایسٹرو فزکس میں ذرا بلیک ہول کی ساخت دیکھیں۔ اس کے مرکز کو “Singularity” کہتے ہیں، لیکن اس کے گرد جو روشنی اور مادے کا بھنور ہوتا ہے، اسے باقاعدہ “Eye of the Black Hole” کہا جاتا ہے

 اس آنکھ کے اندر مادہ (Matter) انتہائی گرم، پگھلے ہوئے سیاہ پلازما اور ڈارک میٹر کی شکل میں ہوتا ہے جہاں وقت اور خلا (Time and Space) اپنی حیثیت کھو دیتے ہیں۔

وہ سیاہ مٹی جس سے انسان کے ڈی این اے کا بیس اور کاسمک کوڈنگ تیار کی گئی، وہ اسی زمین کی عام مٹی ہے ہی نہیں، بلکہ کائنات کے انہی بلیک ہولز یا وارم ہولز کی آنکھ(عین حمئہ) سے نکالا گیا انتہائی ہائی انرجی کاسمک میٹر (Cosmic Matter) یا ڈارک میٹر ہو! شاید اللہ تعالیٰ نے کائنات کی سب سے طاقتور لیبارٹری (جنت) میں بلیک ہول کے اس الٹرڈ اور سپر ہیٹڈ مادے (حَمَإٍ مَّسْنُونٍ) کو پروسیس کر کے انسان کا سٹرکچر بنایا ہو، تاکہ اس کے اندر پوری کائنات کو مسخر کرنے کی انرجی موجود ہو

اگر آپ کو لگ رہا ہے کہ میں ساحل عدیم، محمد علی یا فرقان قریشی کی طرح یہ باتیں صرف میری ماڈرن سائنس سے مرعوبیت ہیں، تو ذرا صحابہ کرامؓ اور تابعین کے علم کا لیول دیکھیں

 آج ہم بیٹھے سوچ رہے ہیں کہ کیا خلا میں کوئی اور دنیا ہے؟ آج سے 1400 سال پہلے، امت کے سب سے بڑے مفسر اور عالم، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے سورۃ الطلاق کی آیت 12 (“اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان بنائے اور اسی طرح زمینیں بھی”) کی تفسیر میں جو فرمایا، وہ آج کے ہر ایسٹرو فزسسٹ کے ہوش اڑا دینے کے لیے کافی ہے

امام حاکم نے المستدرک میں صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے، ابن عباسؓ فرماتے ہیں

ہر زمین میں تمہارے نبی جیسا ایک نبی ہے، تمہارے آدم جیسا ایک آدم ہے، تمہارے نوح جیسا ایک نوح ہے، تمہارے ابراہیم جیسا ایک ابراہیم ہے اور تمہارے عیسیٰ جیسا ایک عیسیٰ ہے۔

یہ ہے صحابہ کا لیول!

 ابن عباسؓ 1400 سال پہلے “Parallel Universe” اور “Extraterrestrial Life” کا وہ کانسیپٹ دے رہے ہیں جس پر آج کی کوانٹم فزکس اور اسٹرنگ تھیوری اربوں ڈالر خرچ کر کے ریسرچ کر رہی ہے۔ وہ بتا رہے ہیں کہ زمینیں اور بھی ہیں، اور وہاں موجود مخلوقات کا بائیولوجیکل اور روحانی اسٹرکچر بھی موجود ہے

باعث تکلیف بات کیا ہے۔۔ ہم نصاب میں بچوں کو کیا پڑھا رہیں۔۔

ڈارون کا بندر۔۔۔

نمبرز کبھی جھوٹ نہیں بولتے اگر ہم جذبات کو سائیڈ پر رکھ کر خالصتاً ریاضی اور پراببلٹی کی بات کریں، تو اس زمین پر موجود کیمیکلز کا خود بخود آپس میں مل کر ایک اربوں خلیات والا، باشعور اور بولنے والا انسان بن جانے کا چانس 10 کی پاور 40,000 میں 1 ہے! یعنی ریاضیاتی طور پر یہ ناممکن ہے!

نمبرز چیخ چیخ کر بتا رہے ہیں کہ ہماری کوڈنگ (DNA) کسی انتہائی ایڈوانسڈ، ہائی انرجی کاسمک لیبارٹری میں ڈیزائن کی گئی ہے

(یعنی جنت میں، اللہ کے حکم سے)، اور پھر ہمیں ایک تیار شدہ ایلین کالونی کے طور پر اس زمین پر اتارا گیا تاکہ ہم اس سیارے پر اللہ کی خلافت کا نظام قائم کریں

آج دجالی ایلیٹ آپ کو یہ باور کروانا چاہتی ہے کہ آپ محض بندروں کے ارتقاء کا نتیجہ ہیں، زمین کے حقیر کیڑے ہیں، تاکہ آپ کا کاسمک پوٹینشل دب جائے۔ اور آپ کیا کر رہے ہیں؟ ہم آج بھی مسلکوں کی بحث میں الجھے ہوئے ہیں۔ خدارا! آپ کائنات کی وہ واحد مخلوق ہیں جس کے باپ آدمؑ کو اللہ نے اپنے ہاتھوں سے تراشا، فرشتوں سے سجدہ کروایا، اور کائنات کے تمام نام (ڈیٹا اور علم) ان کے دماغ میں ڈاؤن لوڈ کر دیے

آپ زمین کے باشندے نہیں ہیں، آپ ستاروں سے آگے کی ڈائمینشن کے مسافر ہیں، جنہیں ایک مشن دے کر یہاں بھیجا گیا ہے۔ جس دن اس مسلم امہ نے اپنا یہ کاسمک اوریجن پہچان لیا اور فزکس، ڈیپ اسپیس اور نیورو ٹیکنالوجی کو اپنے ہاتھ میں لے لیا، اس دن دجال کے سارے ورچوئل جال مکڑی کے جالوں کی طرح ٹوٹ جائیں گے

 ہم سب کو اب سوچنا ہے۔کیا  اس زمین کی حقیر بحثوں کا حصہ بننا ہے، یا اپنے اس ایکسٹرا ٹیرسٹریل اور خدائی طاقت والے پوٹینشل کو پہچان کر کائنات مسخر کرنی ہے۔۔۔ سلامت رہیں اور دعاؤں میں یاد رکھیں۔۔۔ جزاک اللہ

Loading