سورہ الشعراء، لیڈر کون؟
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )اب قرآن حضرت موسی علیہ السلام اور فرعون کی کہانی کا ایک رخ پیش کرتا ہے۔ دکھاتا ہے کہ اصل لیڈر کی خصوصیات کیا ہوتی ہیں؟ برا لیڈر قوم کو کس طرح دھوکا دیتا ہے۔ یہ آیات 10-67 ہیں۔ انکے ترجمے پر ایک نظر ڈال لیں آگے چلنے سے پہلے۔
میں کچھ آیات رکھوں کا موسی و فرعون کے سوال جواب کی صورت میں اور ان پر اپنا تبصرہ پیش کروں گا اور پھر اصطلاح “رب العالمین” پر بات کروں گا موسی علیہ السلام اور جادوگروں کے مقابلے کے تناظر میں۔
آیت 10-15
موسی علیہ السلام کو نبوت ملتی ہے تو وہ اس ذمہ داری سے گھبراتے ہیں اور 4 عذر پیش کرتے ہیں، 1۔جھٹلایا جاؤں گا، 2۔سینہ تنگ ہوتا ہے یعنی اپنے مزاج کو جانتا ہوں، سمجھتا ہوں کہ میرے لیے انتہائی مشکل کام ہے، 3۔زبان رواں نہیں ہے اور 4۔میری جان کو خطرہ ہے۔
غور کیجیے کہ موسی علیہ السلام کو اس عہدے کی لالچ نہیں بلکہ احساس ذمہ داری ہے، مقصد کی بلندی کا احساس ہے اور اپنی کم مائیگی کا بھی پتہ ہے۔ مگر اپنی جان کی فکر نہیں، سب سے آخر میں اپنی جان کو لاحق خطرے کا ذکر کرتے ہیں۔ یہ ہوتے ہیں اوصاف ایک لیڈر کے۔
اب موسی و ہارون علیہ السلام فرعون کے دربار میں پہنچتے ہیں
موسی: ہم کو رب العٰلمین نے اس لیے بھیجا ہے، بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے دے (16-17)
فرعون: کیا ہم نے تجھ کو اپنے ہاں بچہ سا نہیں پالا تھا؟ تُو نے اپنی عمر کے کئی سال ہمارے ہاں گزارے۔ اور اس کے بعد کر گیا جو کچھ کہ کر گیا ، تُو بڑا کافر یعنی احسان فراموش آدمی ہے۔ (18-19)
غور کیجیے کہ فرعون کا جواب کا موسی علیہ السلام کے دعوی نبوت اور مطالبے سے کوئی تعلق نہیں۔ فرعون نے موسی علیہ السلام کو “کافر” کہا، مقصد صرف غیر متعلق باتوں، پرانے احسانات یاد دلا کر اور بے عزتی کرکے مغلوب کیا جائے۔ یہ آج بھی کیا جاتا ہے کہ مخالف لیڈر کے سوالات کو گول کرکے بات کہیں اور موڑ دی جاتی ہے اور عوام کو الّو بنایا جاتا ہے۔کفر کے فتوے بھی بس گمراہ کرنے کے لیے ہی دیے جاتے ہیں۔
موسی علیہ السلام وقار سے اپنی غلطی اور اللہ کی رحمت کا ذکر کرنے کے بعد کہتے ہیں،
موسی: رہا تیرا احسان جو تُو نے مجھ پر جتایا ہے تو اس کی حقیقت یہ ہے کہ تُو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا لیا تھا (22)
فرعون: اور یہ ربّ العالمین کیا ہوتا ہے؟(23)
موسی علیہ السلام یاد دلاتے ہیں کہ ٹھیک ہے کہ تم نے مجھ پر احسان کیا مگر کیا اسکا مطلب ہے کہ ایک پوری قوم کو غلام بنانا درست اور میرا اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانا غلط؟؟؟
ہرگز نہیں، یہاں اصول بیان ہورہا ہے کہ چند اچھے کام برے کاموں کا نہ بدلہ ہوتے ہیں اور نہ نعم البدل۔ احسان ماننے کا مطلب محسن کا ہر حال میں پردہ رکھنا اور چپ رہنا نہیں ہوتا۔ انصاف اور حق پر کھڑے ہونا احسان فراموشی بھی نہیں۔
جبکہ ہم یہی حربہ استعمال ہوتا دیکھتے ہیں ہم دن رات دیکھتے ہیں آفس، گھر، سیاست میں۔
موسی : آسمانوں اور زمین کا ربّ، اور اُن سب چیزوں کا ربّ جو آسمان و زمین کے درمیان ہیں، اگر تم یقین لانے والے ہو(24)
فرعون: اپنے گرد و پیش کے لوگوں سے کہا “سُنتے ہو؟ (25)
موسی : تمہارا ربّ بھی اور تمہارے اُن آباوٴ اجداد کا ربّ بھی جو گزر چکے ہیں۔(26)
فرعون: حاضرین سے) کہا “تمہارے یہ رسول صاحب جو تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں، بالکل ہی پاگل معلوم ہوتے ہیں (27)
موسی : مشرق و مغرب اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے سب کا ربّ، اگر آپ لوگ کچھ عقل رکھتے ہیں (28)
فرعون: اگر تُو نے میرے سوا کسی اور کو معبُود مانا تو تجھے بھی اُن لوگوں میں شامل کر دوں گا جو قید خانوں میں پڑے سڑ رہے ہیں۔(29)
اب یہاں موسی علیہ السلام فرعون کو جواب دیتے ہیں کیونکہ انکا سارا مقدمہ اسی بات پر ہے کہ ایک خدا ہے اور اس نے حکم دیا ہے کہ بنی اسرائیل کو آزاد کردو۔
اللہ کی شان سن کر فرعون اپنے درباریوں کو کہتا وہ سنتے ہیں یہ دعوی؟ مقصد یہ کہ جذبات کو ابھارا جائے تاکہ وہ موسی علیہ السلام کی دعوی کے ثبوتوں اور فرعون کے ظلم کو نظرانداز کردیں۔
آج دیکھیے گھر ہو یا سیاست، جذبات کو اُبھار کرہی بے وقف بنایا جاتا ہے۔ کبھی “غیرت”کے نام پر، کبھی “پاکستان یا اسلام خطرے میں ہے “ بول کر یا پھر “توہین ہوگئی” کا نعرہ لگا کر۔
آخر میں حمایت پر کر فرعون اپنی طاقت سے ڈراتا ہے۔ پہلے اخلاقی طور پر کمزور کرنے کی کوشش اور اب ڈر کا استعمال۔
موسی علیہ السلام اپنے معجزات اپنی دعوے کی سچائی میں پیش کرتے ہیں، عصا اور ید بیضا جن کو دیکھ کر فرعون کہتا ہے کہ یہ تو جادوگر ہیں۔ (30-34) پھر کہتا ہے اپنے درباریوں سے
یہ چاہتا ہے کہ اپنے اس جادو کے بل پر تمہیں تمہارے ملک سے نکال باہر کرے تو تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو(35)
غور کیجیے کہ بات شروع ہوئی تھی کہ اللہ نے اپنے نبی بھیجے اور بنی اسرائیل کو غلام بنانا ظلم ہے۔ فرعون نے پہلے اپنا احسان جتایا، پھر اخلاقی طور پر کمتر ثابت کرنے کی کوشش کی، پھر اللہ رب العالمین پر بحث کرکے درباریوں کو غصہ دلایا اور آخر میں دعوی کردیا کہ یہ تو تمارے ملک سے نکالنے کی سازش ہے!!!
یہی مزاج ہوتا ہے لیڈروں کی اکثریت کا۔ اصل مسائل کو چھپا دو جذبات کے پیچھے اور جو کہا ہے اسکا الٹ بتاؤ اور پھر اسکا ڈھنڈورا پیٹو اپنی گدی بچانے اور نا اہلی چھپانے کے لیے۔
آیات 36-48
اب آگے موسی علیہ السلام اور جادوگروں کے مقابلے کا ذکر ہے۔ مقصد تاریخ پڑھانا نہیں بلکہ اس حربے کا ذکر ہے کہ حکمران کس طرح عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹاتے ہیں انکو فضول چیزوں میں الجھا کر۔
یہاں مسئلہ یہ تھا کہ آخربنی اسرائیل کو کس بنیاد پر غلام بنایا گیا؟ کیوں بچوں کو ذبح کیا گیا؟ فرعون کے دعویِٰ ربوبیت کی کیا دلیل ہے؟ مگر فرعون نے درباریوں کا اشتعال دلا کر اسکو قومی سالمیت کا مسئلہ بنادیا اور اسکا حل یہ نکالا کہ ایک میلہ لگا کر معجزات کو غلط ثابت کیا جائے۔ اگر موسی علیہ السلام کو شکست ہوجاتی تو کیا اس سے فرعون کی حرکات درست ثابت ہوجاتیں؟ ہرگز نہیں۔ یہی بات اللہ نے رسول اللہ کے حوالے سے بھی بتائی
محمد ﷺ اس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول ہیں ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں تو کیا اگر ان کا انتقال ہوجائے یا قتل کردیے جائیں تو تم اپنی ایڑیوں کے بل لوٹ جاؤ گے ؟ آل عمران144
پھر جادوگروں کا ایمان لانا اور فرعون کا جواب
فرعون نے کہا”تم موسیٰؑ کی بات مان گئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دیتا! ضرور یہ تمہارا بڑا ہے جس نے تمہیں جادُو سکھایا ہے۔ اچھا، ابھی تمہیں معلوم ہوا جاتا ہے، میں تمہارے ہاتھ پاوٴں مخالف سمتوں سے کٹواوٴں گا اور تم سب کو سُولی پر چڑھادوں گا۔“ (49)
یہ بھی ایک حربہ ہوتا ہے کہ جب رسوائی ہو جائے تو فورا اپنے ساتھیوں کو در پردہ دشمن کا ساتھی بنا کر “سازش” کا اعلان کردو۔ ہمارا گھر ہو یا میدانِ سیاست، ہر جگہ آپ “بڑوں” کے خلاف نہیں بول سکتے، فورا “اچھا تو تم اسی کے ساتھی ہو” کا فیصلہ سنا دیا جاتا ہے، اپنے لیڈر کی کسی غلط بات پر ٹوک نہیں سکتے۔
![]()

