بہرحال کوشش کی ، اور حاصل کی ، اپنی داستان ہے ، ایک رویہ ، ایک Attitude ہے ۔۔۔۔
اور وہ کیا ہے ؟
کوشش اور حاصل ، یا پھر کوشش اور ناکامی ۔
کچھ لوگ اس روئیے کے مطابق چلتے ہیں کہ ہم کوشش کریں گے اور کامیاب ہونگے ، ناکامی ہوئی تو اس کی اصلاح کر لیں گے ۔
اب یہ بات ایک ہی دفعہ میرے سے سُن لو ، پھر یہ نہ کہنا کہ بات سمجھائی نہیں ۔
کوشش ، حاصل اور محرومی کو ، اُس کے مصنّف کے حوالے کرو ۔
مصنّف کون ہے؟
آپ کی کوشش ۔۔۔۔۔، آپ کی کوشش !
کوشش ، ایک فیصلہ کرنے والا جج ہے اور آپ کے حق میں لکھ رہا ہے کہ پھانسی ہو یا بحال کر دیا جائے ،
کامیابی ہو یا ناکامی ہو ۔
اللہ اپنی جگہ قائم ہے ، اللہ کے آپ بندے ہو اُس نے اختیار دیا کہ آپ کوشش کرو ۔۔۔
لیس لِلانسان اِلاّ ما سعیٰ ۔
انسان کو وہی ملے گا جو اس نے کوشش کی ۔
ناکام ہو گئے تو پھر کوشش کرو ۔۔۔ پھر ناکام ہو گئے تو پھر کوشش کرو ، حتیٰ کہ کامیاب ہو جاؤ اس کام میں ۔۔
اور پھر دوسرا کام اٹھا لو۔ یہ سلسلہ چلتا جائے گا حتیٰ کہ نہ کوشش رہے گی اور نہ حاصل رہے گا ، پھر تم چلے جاؤ گے ۔
یہ ایک پکا رویّہ ہے ۔ اس میں نیکی آپ کی کوشش سے ہے ، اور بدی آپ کا عمل ہے ، سزا اُس کا فیصلہ ہے ، اور جزا اُس کا فیصلہ ہے ۔
آپ بات سمجھ رہے ہیں؟
آپ نے عمل کیا تو ۔۔۔ نیکی کا انعام مل جائے گا ۔۔۔۔ اور بدی کی سزا مل جائے گی ۔
انعام کا معنی کامیابی ہے اور سزا کا معنی ناکامی ہے ۔ناکامی خود سزا ہے ۔
تو آپ خود ہی اپنے مقدّر کے کاتب ہیں ۔
تو یہ ایک طریقہ ہے زندگی گزارنے کا ۔
آپ کی تقدیر کس نے لکھی ؟ آپ کے ہاتھوں کے اعمال نے لکھی ۔
یہ پکا فیصلہ کر لو ۔ کیا فیصلہ کیا ، کہ مقدر کیاہے؟؟؟
آپ کے ہاتھوں کی کمائی۔ تو کامیابی کیا ہو گی ؟ آپ کی کمائی ۔ ناکامی کیا ہے؟ آپ کی کمائی ۔۔۔۔۔ !
تو یہ سسٹم یاد رکھ لو کہ محنت کے ذریعہ آپ کو یا کامیابی ملے گی ، یا ناکامی ملے گی ۔
اب اس میں گِلہ نہیں ہونا چاہئے ۔ اگر ناکامی ہو گئی ، تو تمہاری کوشش کمزور تھی اور کامیابی ہو گئی تو کوشش صحیح تھی ۔
اب ایک شخص کہتا ہے کہ کوشش کرتے کرتے بات حاصل نہیں ہوئی یا کوشش کرتے کرتے کوئی نتیجہ نہیں نکلا ۔۔۔۔
تو ، کوشش کی تعریف کر لو ، کہ کوشش کا مطلب کیا ہے ؟؟
کوشش کا مطلب ہی نتیجہ ہے ۔ کوشش کا مطلب کیا ہے؟ ؟ صرف کوشش نہیں بلکہ نتیجہ ۔
اگر ایک آدمی پڑھتا جا رہا ہے ۔۔۔ اور امتحان نہیں دیتا ۔۔تو نتیجہ کوئی نہیں نکلے گا ۔
مطلب ہے کہ کوشش جس مقصد کیلئے کی جا رہی ہے اس مقصد کا حصول ہونا چاہئے ۔
یہی ہے ناں کوشش ؟؟؟
اب یہ آپ کی اپنی Achievement ہے آپ کا اپنا حاصل ہے ، آپ کی اپنی کوشش ہے ، آپ کا اپنا نتیجہ ہے ، آپ کی اپنی جو خود نوِشت سوانح حیات ہے ،
یہی آپ کی دِقّت ہے ، یہی آپ کی تباہی ہے اور یہی آپ کی آبادی ہے ۔۔۔۔
اللہ نے اس میں Matter نہیں کرنا ، کیونکہ یہ آپ خود ہی لکھتے جا رہے ہیں ۔ تو چلتے جاؤ ۔ ایک طریقہ تو یہ ہے ،
اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنے نتیجوں کے حوالوں کو ، اللہ کے حوالے کر دو ۔
جب اس کے حوالے کرتے ہو کہ وہی ہمیں رزق دینے والا ہے ، وہی سب کچھ دیتا ہے ، کامیابی دیتا ہے ، عزت دیتا ہے ، اور غریبی بھی دیتا ہے ۔
پھر آپ اللہ کے حوالے سے چلتے جاؤ تو کوئی گِلے کی بات نہیں ہو گی ۔ پھر جو آ رہا ہے آپ دیکھتے چلے جاؤ ۔
آپ بات سمجھ رہے ہیں ؟
یہ دونوں شعبے کبھی نہیں ملیں گے بلکہ جدا رہیں گے ۔
اس لئے یہ نہ ہو کہ آپ کبھی یہ کہہ دو اور کبھی وہ کر لو ۔
اگر اللہ کے حوالے کیا ہے تو اُس کے حوالے کرو ۔ اور اگر حوالے نہیں کیا تو چپّو اُٹھاؤ اور کشتی کنارے لگاؤ ۔
تو آپ کے روئیے کا مقام یہی ہے کہ پیسے سے محبت کرنا اور اللہ کے فضل کی تلاش کرنا ۔۔۔ یہ دو متضاد چیزیں ہیں یہ نہیں ہو گا کہ پیسہ گِننا اور اللہ کے فضل کا بھی ذکر کرنا ۔
یعنی کہ اُس کا فضل اُس کی مرضی پہ چھوڑ دو ،
اُس کا فضل کیا ہے ؟
اُس کی مرضی اُس کا فضل ہے ۔۔۔۔ ،
تو اپنے آپ کو اُس کی مرضی پہ چھوڑ دو اور اُس کی مرضی کو Define نہ کرو کہ یہ دے ، وہ دے ، یہاں یہ چیز دے ، وہاں وہ چیز دے ۔ بلکہ جو ، وہ دے رہا ہے اسے رزقِ کریم سمجھو ۔
اب آپ کا تقاضا پیچھے رہ گیا ۔ اب مقام یہ ہے کہ آپ دونوں نظریوں میں سے الگ الگ ، ایک اپنا لو ،
ورنہ جو لوگ درمیان میں رہتے ہیں ۔۔۔۔
وہ پریشان رہتے ہیں ، کبھی دعا کبھی کوشش ، کبھی اُس کی طرف چلے گئے ، کبھی اپنی طرف چلے گئے ، کبھی کلہاڑی چلانے لگ گئے ، کبھی لکڑیاں مانگنے لگ گئے ، تو یہ نہیں ہو گا ۔
کوشش جو ہے بےشک کامیاب ہو جائے اور ہزار بار ہو جائے ۔۔۔۔
اور اگر کامیاب نہ ہو تو پھر گِلہ ہرگز نہ کرنا ۔ اپنے انجام کو ، کوشش کے حوالے کر لو ۔
اگر آپ کو یقین ہے تو انجام کس کے حوالے کرو ؟
یا ، اللّٰہ کے حوالے کرو یا کوشش کے حوالے کرو ۔
بس میں یہ بات کرنا چاہتا تھا ، مسئلہ حل ہو گیا ۔
انجام کس کے حوالے؟
اللہ کے حوالے کرنے والا کوشش کی اہمیت پر زیادہ غور نہیں کرتا ۔ اپنے نیک اعمال نہ گِننا ،
بلکہ اُس کے فضل کو گِننا ۔ بات سمجھ آئی ؟
سرکار امام حضرت واصف علی واصف رحمۃ اللّٰہ علیہ
گفتگو 14/ صفحہ: 474 تا 476
![]()

