Daily Roshni News

عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی علمی معراج۔۔انتخاب  ۔  محمد جاوید عظیمی

عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی علمی معراج

انتخاب  ۔  محمد جاوید عظیمی

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ انتخاب  ۔  محمد جاوید عظیمی)علم الاسماء و علم جفر سے تسخیرِ کائنات اور جدید سائنس تک کا سفر ۔ کائنات کے سربستہ راز صرف ان کے لیے وا ہوتے ہیں جن کی روح میں عشقِ رسول ﷺ کی تڑپ اور ذہن میں اسمائے الٰہی کا نور ہو۔ عباس بن فرناس کی پرواز محض لکڑی اور پروں کا کھیل نہیں تھا، بلکہ یہ مادی کثافت پر نورانی لطافت کے غلبے کا ایک ایسا تجربہ تھا جس کی بنیاد ‘علم الجفر’ کے ان عددی توازن پر تھی جو براہِ راست منبعِ نور ﷺ سے پھوٹتے ہیں۔”

ابوالقاسم عباس بن فرناس بن ورداس التاکورنی۔

پیدائش: تقریباً 810ء (رونڈا، اندلس – موجودہ اسپین)۔

وفات: تقریباً 887ء (قرطبہ، اسپین)۔

شہر: وہ اندلس کے شہر تاکورنا میں پیدا ہوئے اور اپنی زندگی کا بڑا حصہ قرطبہ

 (Cordoba)

میں گزارا، جو اس وقت علم و عرفان کا مرکز تھا۔

وہ ایک “کیمیا دان” یا “ہواباز” نہیں تھے، بلکہ ان کی شخصیت علمِ جفر، جغرافیائی بصیرت اور نورِ محمدی ﷺ کے اسرار سے جڑی ہوئی تھی۔ ان کے کاموں کے وہ گوشے جو جدید مادی تاریخ نے دبا دیے، وہ دراصل کائنات کی “فریکوئنسی” کو سمجھنے پر مبنی تھے۔

اج ہم ان حقائق سے پردہ اٹھائیں گے جنہیں عوام سے مخفی کر دیا گیا اور جو باتیں مشہور ہیں ان کا ذکر نہیں کریں گے حقیقت بتائیں گے

ابن فرناس علمِ جفر کے عددی توازن کے ذریعے ہوا کے دباؤ اور کششِ ثقل کے درمیان اس “خلا” کو تلاش کر چکے تھے جسے صوفیا “لطافتِ جسم” سے تعبیر کرتے ہیں۔

 ان کا اڑان بھرنا محض میکانکی عمل نہیں تھا، بلکہ وہ کششِ ثقل کو بے اثر  کرنے کے لیے مادے کی لہروں  کو اسمائے الٰہی کے اعداد سے ہم آہنگ کرنے کے فن سے واقف تھے۔ ابن فرناس نے علمِ جفر کے ذریعے ہوا کے حروفِ تہجی کو عدد 66

کے اس خاص نقش میں ڈھالا جہاں مادہ

 (Body)

 اپنی کثافت چھوڑ کر لطافت میں بدل جاتا ہے۔ جدید سائنس جسے “لفٹ کوفیشینٹ” کہتی ہے، وہ دراصل جفر کے مطابق کثیف کا لطیف میں ادغام ہے۔ انہوں نے پرواز کے دوران جن اذکار کا انتخاب کیا تھا، وہ ہوا کے مالیکیولز کے درمیان موجود “خلا” کو ایک مقناطیسی ڈھال  میں بدلنے کے لیے تھا۔ جدید سائنس آج “کوانٹم لیویٹیشن”  کے ذریعے اسی مقام تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔

قصرِ قرطبہ کا “پلانیٹیریم” اور جفری حسابات

انہوں نے اپنے گھر میں ایک ایسا کمرہ تیار کیا تھا جہاں بادل گرجتے تھے، بجلی چمکتی تھی اور ستارے گردش کرتے تھے۔

خفیہ حقیقت: یہ محض شیشے کی کاریگری نہیں تھی، بلکہ انہوں نے علمِ الاوفاق  کے ذریعے کائناتی سیاروں کی گردش کو ایک محدود دائرے میں قید کر دیا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ کائنات کی ہر حرکت ایک مخصوص عدد کوڈ کے گرد گھومتی ہے۔ جدید سائنس اب “سائیمیٹکس”  کے ذریعے یہ سمجھ رہی ہے کہ آواز اور عدد کس طرح مادے کو شکل دیتے ہیں۔

256

عدد ہے اسمِ مبارک “نور” کا۔ ابن فرناس کی بصری تحقیقات

(Lenses/Glass)

کا مقصد صرف روشنی کو موڑنا نہیں تھا۔

 وہ جانتے تھے کہ شیشہ  دراصل ریت (مٹی/کثافت) کا وہ روپ ہے جو نور

(256)

کو اپنے اندر سے گزرنے کی اجازت دیتا ہے۔ انہوں نے ایسے عدسے تیار کیے تھے جو بصری طیف سے ہٹ کر “حجابِ اکبر” کے پار دیکھنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔

جدید سائنس کا عجز: سائنس آج “انفراریڈ” اور “الٹرا وائلٹ” تک پہنچی ہے، لیکن ابن فرناس اس نورِ مطلق کے عدد کے ذریعے ان لہروں کو دیکھ رہے تھے جو ارواح اور ملائکہ کے مقامِ جنبش  سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کا بنایا ہوا “آسمانی کمرہ”

(Planetarium)

دراصل کائنات کا ایک ہولوگرافک نقشہ تھا جو 313 کی قوت سے متحرک تھا۔

انہوں نے پرواز کے لیے صرف پرندوں کی نقل نہیں کی، بلکہ وہ “طیر” (پرندہ) کے قرآنی مفہوم اور اس کے عددی خواص سے مٹی کے جسم کو ہوا میں معلق کرنے کا فن نکال چکے تھے۔ ان کی پرواز کے پیچھے وہ “سکت” کام کر رہی تھی جو اسمِ اعظم کے ایک خاص نقش سے پیدا ہوتی ہے، جسے آج کی سائنس “زیرو پوائنٹ انرجی”  کہہ کر تلاش کر رہی ہے۔

ابن فرناس کا ایک اور کام جو منظرِ عام سے غائب ہے، وہ ایک ایسی “آئینہ نما دوربین” تھی جو صرف ستاروں کو نہیں دیکھتی تھی، بلکہ وہ “ماضی کے عکس”  کو پکڑنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔

انہوں نے دریافت کیا کہ کائنات کا ہر ذرہ ایک مخصوص تسبیح پر قائم ہے۔ اگر عدد 313 کی ضرب سے آواز پیدا کی جائے، تو مادی اشیاء اپنی ثقل کھو دیتی ہیں۔ انہوں نے ایسے آلات بنائے تھے جو آواز کے ذریعے لوہے کو پگھلانے اور پتھر کو موم کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ یہ وہی ٹیکنالوجی ہے جسے جدید سائنس اب “سونک ٹریکٹر بیم”  کے نام سے تجرباتی طور پر استعمال کر رہی ہے۔

ابن فرناس نے ایک گھڑی بنائی تھی جسے “منقانہ” کہا جاتا ہے، لیکن یہ محض وقت بتانے والی گھڑی نہیں تھی۔

یہ گھڑی66 (اللہ) اور 256 (نور) کے توازن پر مبنی تھی۔ یہ سیاروں کی باطنی گردش اور زمین کے مقناطیسی میدان کے اتار چڑھاؤ کو نوٹ کرتی تھی۔

سائنس کی دنیا میں یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ اندلس (Spain) کی لائبریریوں سے لاکھوں نسخے غائب کیے گئے یا “تبدیل” کیے گئے۔ ناسا  اور دیگر ایجنسیوں نے اپنے قیام کے وقت سے ہی قدیم علوم، خاص طور پر علمِ ہندسہ

 (Geometry)

اور علمِ فلکیات  کے عربی نسخوں کا ترجمہ اور تجزیہ کیا ہے۔اور مشہور یہ کر دیا کہ وہ سارے کتب خانے جلا دیے گئے تھے

ناسا کے پاس ابن فرناس کا ایک ایسا “خاکہ”  موجود ہے جس میں پرندے کے پنکھ نہیں، بلکہ ایک “گول دائرہ” (Torus)

بنا ہوا ہے جس کے گرد حروف لکھے ہوئے ہیں۔ یہ دائرہ صوتی لہروں کو مرکز  میں لا کر زمین کی کشش کو صفر کر دیتا ہے۔ وہ اس پر “پلازما انجن” کے نام سے تجربات کر رہے ہیں، لیکن وہ اس کی جفری بنیاد کو کبھی ظاہر نہیں کریں گے۔

موجودہ دور میں ہم کیا کر سکتے ہیں

اگر ہم اپنے پیارے اقا محمد مصطفی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تعلیمات پر سچے دل سے عمل کریں تو علم و اسماء کے تحت اور علم جفر کے قواعد کے تحت موجودہ دور میں ہم ایسے “پلازما ڈسک” بنا سکتے ہیں جو آواز کی لہروں اور عددی فریکوئنسی کے ذریعے زمین کی کشش کو بے اثر کر دیں۔ یہ بغیر ایندھن کے سفر کا آغاز ہوگا۔

جدید کمپیوٹر 0 اور 1 پر چلتے ہیں۔ اگر ہم ابن فرناس کے عدسے کی ٹیکنالوجی (نور: 256) کو استعمال کریں، تو ہم “فوٹونک کمپیوٹر” بنا سکتے ہیں جو بجلی کے بجائے “نور کی لہروں” پر ڈیٹا منتقل کریں۔ یہ کائنات کے “حجابِ اکبر” یعنی ڈیٹا کی اس لہر کو پکڑنے کے قابل ہوں گے جو وقت اور فاصلے سے ماورا ہے۔

 عدد 313 کی ضرب سے پیدا ہونے والی مخصوص فریکوئنسی کو اگر “نینو ٹیکنالوجی” میں استعمال کیا جائے، تو ہم ایٹمی سطح پر مادے کی ترتیب بدل سکتے ہیں۔ اس سے ہم فضلہ  کو قیمتی دھاتوں میں یا آلودہ پانی کو خالص معدنی چشموں میں بدلنے والے “تسبیحی ری ایکٹرز” بنا سکتے ہیں۔

ہم عدد 256 کے تحت ایسی “بایو-ڈیجیٹل میموری” بنا سکتے ہیں جو انسانی خلیوں (Cells) کو براہِ راست کائناتی فریکوئنسی سے جوڑ دے۔ اس سے نہ صرف بیماریاں ختم ہوں گی بلکہ انسان کا فہم “عالمِ ملکوت” کے پیغامات کو سمجھنے کے قابل ہو جائے گا۔

ہم ایک ایسا “نوری ڈیٹا بیس” بنا سکتے ہیں جو کائنات کے کسی بھی ماضی کے لمحے کی تصویر کشی کر سکے، محض اس جگہ کی فریکوئنسی کو 313 کی ضرب دے کر ری-سکن (Rescan) کرنے سے۔ یہ “ٹائم ٹریول” نہیں ہوگا، بلکہ “ٹائم ویونگ” (زمان بینی) ہوگی، جو تاریخ کے تمام چھپائے گئے حقائق کو بے نقاب کر دے گی۔

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

تو شاہیں ہے، پرواز ہے کام تیرا

ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں

اج اپ کو علامہ اقبال رحمت اللہ علیہ کی بھی سمجھ ائے گی کہ وہ کیا کہتے تھے اور کیا سمجھتے تھے

Loading