Daily Roshni News

تکبر کا انجام۔۔۔ انتخاب  ۔  میاں عاصم محمود

تکبر کا انجام

انتخاب  ۔  میاں عاصم محمود

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ تکبر کا انجام۔۔۔ انتخاب  ۔  میاں عاصم محمود)میں ایک ایسے شخص کو جانتا ہوں جو کبھی اپنے شہر کا سب سے طاقتور انسان سمجھا جاتا تھا۔ اس کے پاس دولت بھی تھی، اثر و رسوخ بھی، اور لوگ اس کے ایک اشارے پر جھک جاتے تھے۔ وہ چلتا تو اس کے پیچھے ہجوم ہوتا، بولتا تو ہر طرف خاموشی چھا جاتی۔ مگر اس کے لہجے میں سختی اور آنکھوں میں غرور صاف جھلکتا تھا۔ وہ دوسروں کو انسان نہیں بلکہ خود سے کمتر سمجھتا تھا۔

پھر وقت بدلا… اور ایک دن ایسا آیا کہ وہی شخص ایک چھوٹے سے کمرے میں تنہا بیٹھا تھا۔ نہ وہ ہجوم رہا، نہ وہ عزت… صرف خاموشی اور ایسا زوال جس کا اس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔

یہ صرف ایک فرد کی کہانی نہیں، بلکہ ہر اس انسان کی داستان ہے جو تکبر کو اپنی طاقت سمجھ بیٹھتا ہے۔ ہم اکثر بھول جاتے ہیں کہ جو چیز ہمیں بلندی تک لے جاتی ہے، وہی ہمیں گرا بھی سکتی ہے۔ تکبر بظاہر انسان کو اونچا دکھاتا ہے، مگر حقیقت میں اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔

انسان جب کامیاب ہوتا ہے تو اسے لگتا ہے کہ یہ سب اس کی اپنی محنت اور عقل کا نتیجہ ہے۔ وہ یہ بھول جاتا ہے کہ جو کچھ اس کے پاس ہے، وہ ایک امانت ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں تکبر جنم لیتا ہے۔ وہ دوسروں کو کمتر سمجھنے لگتا ہے، ان کی بات کو اہمیت نہیں دیتا، اور خود کو سب سے بہتر سمجھنے لگتا ہے۔ مگر قدرت کا نظام ایسا ہے کہ وہ ایسے انسان کو زیادہ دیر اس مقام پر نہیں رہنے دیتا۔

میں نے ایک تاجر کو بھی دیکھا جو اپنی محنت سے بہت آگے بڑھا۔ ابتدا میں وہ نرم دل اور مددگار تھا، مگر جیسے جیسے اس کا کاروبار بڑھا، اس کا رویہ بدلتا گیا۔ اس نے لوگوں کو حقیر سمجھنا شروع کر دیا، رشتے کمزور ہو گئے، اور دوستیاں ختم ہونے لگیں۔ پھر اچانک اس کا کاروبار خسارے میں چلا گیا… اور وہی لوگ جو کبھی اس کے اردگرد ہوتے تھے، اس سے دور ہو گئے۔ جواب کہیں باہر نہیں، اس کے اپنے رویے میں چھپا تھا۔

تکبر کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ انسان نصیحت سننا چھوڑ دیتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ وہ غلط ہو ہی نہیں سکتا۔ وہ ہر بات میں اپنی برتری ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی وہ مقام ہوتا ہے جہاں اصلاح کا دروازہ بند ہو جاتا ہے… اور جب اصلاح رک جائے، تو زوال خود راستہ بنا لیتا ہے۔

قدرت ہمیں بار بار اشارے دیتی ہے—کبھی کسی چھوٹے واقعے کے ذریعے، کبھی کسی نقصان سے، اور کبھی کسی کے الفاظ سے۔ مگر متکبر انسان ان سب کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ سب کچھ اس کے قابو میں ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ انسان وقت اور حالات کے سامنے بے بس ہے۔

ایک بزرگ نے خوب کہا تھا:

“جھکنے والا درخت ہمیشہ پھل دیتا ہے، اور اکڑنے والا درخت آندھی میں سب سے پہلے ٹوٹتا ہے۔”

یہ بات صرف درختوں تک محدود نہیں، بلکہ انسانوں پر بھی پوری طرح صادق آتی ہے۔ عاجزی اختیار کرنے والا ہمیشہ دلوں میں جگہ بناتا ہے، جبکہ متکبر آہستہ آہستہ لوگوں کے دلوں سے نکل جاتا ہے۔

آج کے دور میں ایک عجیب دوڑ لگی ہوئی ہے۔ ہر شخص آگے نکلنا چاہتا ہے، ہر کوئی خود کو بہتر ثابت کرنے میں لگا ہے۔ اس مقابلے میں عاجزی کہیں پیچھے رہ گئی ہے اور تکبر عام ہوتا جا رہا ہے۔ لوگ اپنی کامیابی کو اپنی ذات سے جوڑ کر دوسروں کو نیچا دکھانے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ یہی سوچ معاشرے کو اندر سے کمزور کر رہی ہے۔

اصل کامیابی یہ نہیں کہ انسان کہاں تک پہنچتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہاں پہنچ کر وہ کیسا رہتا ہے۔ اگر وہ عاجزی اپنائے تو وہ ہمیشہ عزت پاتا ہے، اور اگر تکبر اختیار کرے تو اس کا زوال یقینی ہو جاتا ہے۔ کیونکہ اللہ کو تکبر پسند نہیں، اور جو چیز اللہ کو پسند نہ ہو، وہ زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی۔

ہمیں سمجھنا ہوگا کہ زندگی ایک امتحان ہے۔ دولت، عزت اور طاقت سب عارضی ہیں۔ اگر ہم انہیں اپنی اصل سمجھ بیٹھیں گے تو بھٹک جائیں گے، لیکن اگر انہیں امانت سمجھیں گے تو عاجزی پیدا ہوگی—اور یہی عاجزی ہمیں بچا لے گی۔

آخر میں ایک سوال…

جب ہمیں معلوم ہے کہ تکبر کا انجام زوال ہے، تو پھر ہم کیوں اس راستے پر چلتے ہیں؟

کیا ہم نے کبھی سوچا کہ اگر آج سب کچھ ہم سے چھن جائے، تو ہمارے پاس کیا باقی رہ جائے گا؟

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو مجھے فالو ضرور کریں۔

Loading